Dawn News Television

دنیا کی حکمران عورتیں

دنیا کی حکمران عورتیں

ای میل

دنیا کے 200 سے زائد ممالک اور آزاد و خود مختار ریاستوں و جزائر میں اس وقت اگرچہ زیادہ تر مرد حضرات ہی ریاست و حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان ہیں۔

تاہم دنیا کے لگ بھگ 32 ممالک یا خود مختار ریاستیں و علاقے ایسے بھی ہیں، جہاں اعلیٰ ترین عہدوں یعنی صدر اور وزیر اعظم کی نشست پر خواتین براجمان ہیں۔

حیران کن طور پر دنیا کے متعدد ممالک ایسے بھی ہیں، جن کی کئی صدیوں پر محیط تاریخ میں آج تک کوئی بھی خاتون صدر یا وزیر اعظم کے عہدے تک نہیں پہنچ سکی۔

ایسے ممالک میں امریکا سمیت کئی ایسے ممالک بھی آجاتے ہیں، جو خود کو جمہوریت و سیاست کے چیمپئن کہتے ہیں۔

اسی طرح کئی ممالک ایسے بھی ہیں، جہاں خواتین کو ریاست کے دیگر اعلیٰ عہدوں یعنی فوج یا انصاف کے اداروں کی سربراہی بھی نہیں دی گئی۔

اس سے زیادہ حیرانی کی بات یہ ہے کہ دنیا کے سب سے اہم، خود مختار، رول ماڈل اور بڑے ادارے اقوام متحدہ (یو این) کی سیکریٹری شپ بھی گزشتہ 7 دہائیوں سے کسی خاتون کو نہیں سونپی گئی۔

اس وقت یورپ، ایشیا و افریقا سمیت دنیا کے دیگر خطوں کے بمشکل 32 ممالک یا ریاستوں کی سربراہی خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں پر خواتین 3 سے 4 دہائیاں قبل ہی براجمان ہوچکی تھیں۔

تاہم متعدد ممالک ایسے ہیں، جہاں آج تک خواتین کو حکومت و ریاست کے اعلیٰ عہدوں کے لیے نامزد ہی نہیں کیا گیا۔

درج ذیل خواتین اس وقت حکومت و ریاست کے اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان ہیں۔

برطانیہ

ملکہ

ملکہ برطانیہ کو طویل عرصے تک بادشاہت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے—فائل فوٹو: فورچون
ملکہ برطانیہ کو طویل عرصے تک بادشاہت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے—فائل فوٹو: فورچون

ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم کو اگرچہ حکومت کا کوئی عہدہ حاصل نہیں، تاہم انہیں ریاست کے علامتی سربراہ کا اعزاز حاصل ہے۔

ایلزبتھ دوئم نہ صرف برطانیہ کی ملکہ بلکہ دولت مشترکہ قلمرو ممالک کی بھی آئینی ملکہ و علامتی سربراہ ہیں۔

انہیں ملکہ برطانیہ کے عہدے پر طویل عرصے تک خدمات سر انجام دینے کا اعزاز بھی حاصل ہیں، وہ 1926 میں پیدا ہوئیں اور 1953 کو ملکہ بنیں اور اب تک اسی عہدے پر براجمان ہیں۔

وزیر اعظم

—فوٹو: دی سن
—فوٹو: دی سن

61 سالہ تھریسامے دوسری مرتبہ برطانیہ کی وزیر اعظم بنی ہیں، انہوں نے 2016 میں عہدے سے سبکدوش ہونے والے ڈیوڈ کیمرون کے بعد 2016 میں پہلی مرتبہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا، جس کے بعد 2017 کے عام انتخابات میں ان کی پارٹی ’کنزویٹو پارٹی‘ نے کامیابی حاصل کرنے کے بعد مخلوط حکومت بنائی۔

وہ برطانیہ کی دوسری خاتون وزیر اعظم ہیں، ان سے قبل 1990 میں مارگریٹ تھیچر بھی برطانیہ کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔

تھریسامے وزیر اعظم بننے سے قبل برطانیہ کی وزیر داخلہ تھیں، جب کہ وہ متعدد سرکاری عہدوں پر بھی براجمان رہ چکی ہیں۔

تھریسامے پہلے وزیر داخلہ رہ چکی ہیں—فوٹو: بی بی سی
تھریسامے پہلے وزیر داخلہ رہ چکی ہیں—فوٹو: بی بی سی

کروشیا

صدر

کولندا گرابار کو نوجوان خاتون صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے—فوٹو: امیج کاپ
کولندا گرابار کو نوجوان خاتون صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے—فوٹو: امیج کاپ

یورپی ملک کروشیا میں بھی پہلی بار کوئی خاتون صدارت کے منصب پر براجمان ہوئی ہیں، 51 سالہ کولندا گراربار کیتار وویچ 2015 سے صدر ہیں اور وہ عوامی رجحانات کی وجہ سے عالمی خبروں کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں۔

کولندا گرابار کو کم عمر خاتون صدر منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جب وہ صدر بنی تھیں تو ان کی عمر 47 سال تھی۔

کولندا گرابار 47 سال کی عمر میں صدر بنی تھیں—فوٹو: دی انکوائر
کولندا گرابار 47 سال کی عمر میں صدر بنی تھیں—فوٹو: دی انکوائر

کولندا گرابار گزشتہ برس اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی تھیں جب ان کے ملک کی ٹیم روس میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے فائنل میں فرانس کی مضبوط ٹیم سے مد مقابل ہوئی۔

کولندا کو نوجوان ترین خاتون صدر کا اعزاز بھی حاصل ہے—فوٹو: وٹی رومر
کولندا کو نوجوان ترین خاتون صدر کا اعزاز بھی حاصل ہے—فوٹو: وٹی رومر

جولائی 2018 میں ہونے والے فٹ بال فائنل کے میچ میں کولندا گرابار اپنے ملک کی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے گراؤنڈ میں موجود رہیں اور ملک کی شکست کے بعد کھلاڑیوں اور مداحوں کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔

فٹ بال کے فائنل میں ٹیم کی شکست پر کھلاڑیوں کے ساتھ کولندا بھی روئی تھیں—فوٹو: مومس پریسو
فٹ بال کے فائنل میں ٹیم کی شکست پر کھلاڑیوں کے ساتھ کولندا بھی روئی تھیں—فوٹو: مومس پریسو

نیوزی لینڈ

وزیر اعظم

—فوٹو: نیوز ہب
—فوٹو: نیوز ہب

37 سالہ جیسنڈا ایرڈرن نیوزی لینڈ کی پہلی نوجوان ترین وزیراعظم ہیں، جب کہ وہ گزشتہ 150 سال میں اس عہدے پر براجمان ہونے والی تیسری خاتون بھی ہیں۔

جیسنڈا ایرڈن 2017 سے وزیر اعظم ہیں، وہ وزارت عظمیٰ پر رہتے ہوئے ایک اور منفرد کام کرنے جا رہی ہیں، وہ پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو کے بعد دوران وزارت بچے کو جنم دینے والی دوسری وزیراعظم ہیں، بینظیر بھٹو نے 1990 میں وزارت عظمیٰ کے دوران بچے کو جنم دیا تھا۔

جیسنڈا نیوزی لینڈ کی نوجوان ترین وزیر اعظم بھی ہیں—فوٹو: دی انڈیپینڈنٹ
جیسنڈا نیوزی لینڈ کی نوجوان ترین وزیر اعظم بھی ہیں—فوٹو: دی انڈیپینڈنٹ

جیسنڈا ایرڈن کے ہاں 21 جون 2018 کو بیٹی کی پیدائش ہوئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی بیٹی اسی دن پیدا ہوئی، جس دن بینظیر بھٹو کا جنم دن ہوا تھا۔

جیسنڈا ایرڈرن نے بچی کی پیدائش کے وقت 6 ہفتوں کی چھٹیاں لی تھیں اور وہ بیٹی کی پیدائش کے ساتویں ہفتے ہی واپس کام پر آگئی تھیں۔

جیسنڈا ایرڈرن ستمبر 2018 میں اپنی 3ماہ کی بیٹی کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی شریک ہوئی تھیں۔

جیسنڈا حمل کے دوران بھی کام کرتی دکھائی دی تھیں—فوٹو: این پی آر
جیسنڈا حمل کے دوران بھی کام کرتی دکھائی دی تھیں—فوٹو: این پی آر

گورنر جنرل

پیستی ریڈی 21 ویں گورنر جنرل مقرر ہوئیں—فوٹو: وکی میڈیا کامنز
پیستی ریڈی 21 ویں گورنر جنرل مقرر ہوئیں—فوٹو: وکی میڈیا کامنز

64 سالہ پیستی ریڈی نیوزی لینڈ کی 21ویں گورنر جنرل ہیں ، یہ عہدہ اگرچہ حکومتی نہیں تاہم یہ مشترکہ ممالک قلمرو میں ایک علامتی ریاستی عہدے کی اہمیت رکھتا ہے۔

اس عہدے پر تقرری ملک کا وزیر اعظم کرتا ہے اور اس عہدے پر براجمان شخص ایک طرح سے ملکہ برطانیہ کے معاملات دیکھنے کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔

اس طرح کا عہدہ دوسرے دولت مشترکہ قلمرو ممالک میں بھی ہے۔

جرمنی

چانسلر

—فوٹو: سی ڈی یو
—فوٹو: سی ڈی یو

63 سالہ اینجلا مرکل یورپ کے اہم ترین ملک جرمنی کی چانسلر یعنی حکومت و ریاست کی سربراہ ہیں، یہاں یہ عہدہ دیگر ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کا متبادل ہے۔

اینجلا مرکل گزشتہ 14 سال سے جرمنی کی چانسلر ہیں، وہ پہلی مرتبہ اس عہدے پر 2005 اور آخری مرتبہ اکتوبر 2017 میں فائز ہوئی تھیں اور قانون کے مطابق وہ زیادہ سے زیادہ 2022 تک اس عہدے پر رہ سکتی ہیں۔

اینجلا تقریبا ڈیڑھ دہائی سے اقتدار میں ہیں—فوٹو: ویمنز ان نیوز ایجنسی
اینجلا تقریبا ڈیڑھ دہائی سے اقتدار میں ہیں—فوٹو: ویمنز ان نیوز ایجنسی

اینجلا مرکل کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر ہیں، وہ سیاسی پارٹی ’کرسچین ڈیموکریٹک یونین‘ (سی ڈی یو) کی سربراہ بھی ہیں۔

اینجلا مرکل پہلی بار 1991ء میں وفاقی جرمن پارلیمان کی رکن منتخب ہوئیں، تب سے اب تک وہ 7 بار رکن بن چکی ہیں جب کہ وہ وزیر برائے خواتین و نوجوانان اور وزیر برائے ماحولیات و نیوکلئیر سیفٹی بھی رہ چکی ہیں۔

اینجلا کو دنیا کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے—فوٹو: کافی ہاؤس
اینجلا کو دنیا کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے—فوٹو: کافی ہاؤس

وہ پہلی مرتبہ 1998 میں کرسچین ڈیموکریٹک یونین کی سیکریٹری جنرل مقرر ہوئیں، 2000ء میں قائد حزب اختلاف بنیں اور 2005 میں پہلی بار چانسلر بنیں اور اب تک وہ 4 مرتبہ اس عہدے کے لیے منتخب ہوچکی ہیں۔

اینجلا مرکل کو دنیا کے بااثر ترین سیاستدانوں اور حکمرانوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے، وہ امریکا سمیت روس کے ساتھ بھی بہتر تعلقات رکھ کر چلنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔

اینجلا پہلی بار 2005 میں چانسلر بنیں—فوٹو: دی آسٹریلین
اینجلا پہلی بار 2005 میں چانسلر بنیں—فوٹو: دی آسٹریلین

بنگلہ دیش

وزیر اعظم

—فوٹو: دی آئرش ٹائمز
—فوٹو: دی آئرش ٹائمز

70 سالہ شیخ حسینہ کو جنوبی ایشیا کی خواتین میں اہم اور منفرد اعزاز حاصل ہے، کیونکہ وہ چوتھی مرتبہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم بنی ہیں۔

بنگلہ دیش عوامی لیگ نامی پارٹی سے تعلق رکھنے والی شیخ حسینہ واجد چوتھی مرتبہ 2018 میں وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔

حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ اگرچہ سیاست میں نہیں تاہم وہ حکومتی عہدوں پر براجمان ہیں—فوٹو: بی ڈی نیوز 24
حسینہ واجد کی بیٹی صائمہ اگرچہ سیاست میں نہیں تاہم وہ حکومتی عہدوں پر براجمان ہیں—فوٹو: بی ڈی نیوز 24

ان کا شمار بنگلہ دیش کے مقبول ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے، تاہم حالیہ حکومت میں ان کی جانب سے کیے گئے کئی متنازع فیصلوں کے باعث انہیں سخت تنقید کا سامنا ہے، ان پر سیاسی مخالفین کو قید و سزائیں دینے کا الزام ہے۔

شیخ حسینہ واجد بنگلہ دیش کے پہلے صدر شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی ہیں، وہ پہلی مرتبہ 1986 میں رکن اسمبلی بنیں۔

حسینہ واجد سیاست کے آغاز سے 2006 تک بنگلہ دیش کی اسمبلی میں نہ صرف قائد حزب اختلاف رہیں بلکہ وہ قائد ایوان بھی ہیں۔

وہ تیسری بار وزیر اعظم بنی ہیں—فوٹو: ڈیلی اسٹار
وہ تیسری بار وزیر اعظم بنی ہیں—فوٹو: ڈیلی اسٹار

پولینڈ

نائب وزیر اعظم

—فوٹو: بریٹ برٹ
—فوٹو: بریٹ برٹ

بیٹا ماریا سزیلو یورپی ملک پولینڈ کی نائب وزیر اعظم ہیں، وہ حکومت کے دوسرے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان ہیں، انہیں 2016 میں وزیر اعظم ماؤتوش موراویشتک نے اپنا نائب نامزد کیا تھا، اس سے قبل بھی وہ اعلیٰ سرکاری و سیاسی عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔

پولینڈ میں ایک سے زائد نائب وزیر اعظم ہیں—فوٹو: میادوموسچی
پولینڈ میں ایک سے زائد نائب وزیر اعظم ہیں—فوٹو: میادوموسچی

موریشس

صدر

—فوٹو: ٹیڈ ٹاک
—فوٹو: ٹیڈ ٹاک

58 سالہ امینہ غریب موریشس کی پہلی خاتون مسلم صدر ہیں، وہ 2015 سے اس عہدے پر براجمان ہیں۔

وہ ریاست کی سربراہ ہونے سمیت اعلیٰ پائے کی سائنسدان بھی ہیں۔

موریشس اپنے خوبصورت جزائر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، موریشس بحر ہند کے مشرق میں متعدد جزائر پر مشتمل ملک ہے، اس کا دارلحکومت پورٹ لوئس ہے۔

امینہ غریب کے کئی مسلمان اور خصوصی طور پر عرب ممالک سے اچھے تعلقات ہیں—فوٹو: ڈفی میڈیا
امینہ غریب کے کئی مسلمان اور خصوصی طور پر عرب ممالک سے اچھے تعلقات ہیں—فوٹو: ڈفی میڈیا

استونیا

صدر

—فوٹو: پوسٹائمیز
—فوٹو: پوسٹائمیز

49 سالہ کیرسٹی کالجلیڈ یورپی ملک استونیا کی نوجوان ترین اور پہلی خاتون صدر ہیں، وہ اس ملک کی مجموعی طور پر پانچویں سربراہ ہیں۔

کیرسٹی کالجلیڈ سربراہ کے عہدے پر براجمان ہونے سے قبل ملک کی سیاست میں اہم کارنامے سر انجام دے چکی ہیں۔

کیرسٹی کو بھی نوجوان خاتون صدور میں شمار کیا جاتا ہے—فوٹو: دی اسٹریٹ ٹائمز
کیرسٹی کو بھی نوجوان خاتون صدور میں شمار کیا جاتا ہے—فوٹو: دی اسٹریٹ ٹائمز

اروبا

وزیر اعظم

ایولین بھی اوربا کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں—فوٹو: کیورا ساؤ کرونیکل
ایولین بھی اوربا کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں—فوٹو: کیورا ساؤ کرونیکل

بحیرہ کیریبین کا جزیرہ نما خود مختار ملک اروبا بھی نیدر لینڈ کے زیر انتظام ہے اور اس کا شمار چھوٹے ترین جزائر میں ہوتا ہے۔

52 سالہ ایولین ویور کریوس کو اس جزیرے کی پہلی خاتون وزیر اعظم منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہے، وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان ہونے سے قبل بھی متحرک سیاستدان تھیں۔

سنٹ مارٹن

وزیر اعظم

لیونا مارلن کو سنٹ مارٹن کی نوجوان وزیر اعظم منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے—فوٹو: سینٹ مارٹن نیوز
لیونا مارلن کو سنٹ مارٹن کی نوجوان وزیر اعظم منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے—فوٹو: سینٹ مارٹن نیوز

بحیرہ کیریبین میں واقع جزیرہ نما ملک سنٹ مارٹن نیدرلینڈ کے زیر انتظام خود مختار ملک ہے اور 45 سالہ لیونا مارلن رومیو اس کی پہلی نوجوان خاتون وزیر اعظم ہیں۔

لیونا مارلن رومیو سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک معاہدے کے تحت پارلیمنٹ سے وزیر اعظم منتخب ہوئیں، وہ اس سے قبل بھی سنٹ مارٹن کی رکن اسمبلی منتخب ہوتی رہی ہیں۔

بارباڈوس

صدر

—فوٹو: لوپ بارباڈوس
—فوٹو: لوپ بارباڈوس

69 سالہ سینڈرا میسن کو نہ صرف بارباڈوس کی پہلی خاتون صدر بننے کا اعزاز حاصل ہے، بلکہ وہ ہائی کورٹ کی پہلی خاتون جج، بارباڈوس کی پہلی خاتون رکن اور پہلی خاتون سفیر بھی رہ چکی ہیں۔

سینڈرا میسن کے حصے میں کئی اور تاریخی کام بھی آئے ہیں، وہ عہدہ صدارت پر براجمان ہونے سے قبل متعدد سرکاری عہدوں پر بھی تعینات رہ چکی ہیں۔

وزیر اعظم

میا موٹلی منجھی ہوئی سیاستدان ہیں—فوٹو: کیریبین 360
میا موٹلی منجھی ہوئی سیاستدان ہیں—فوٹو: کیریبین 360

کیریبین ملک بارباڈوس میں جہاں اس وقت صدر بھی خاتون ہیں تو وہیں وزارت عظمیٰ کا عہدہ بھی خاتون کے پاس ہے۔

بارباڈوس لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی 53 سالہ میا موٹلی وزیر اعظم منتخب ہونے سے قبل بھی سیاست میں متحرک تھیں۔

سوئٹزرلینڈ

ارکان فیڈریشن کونسل آف سوئٹزرلینڈ (وزیر اعظم یا صدر کے برابر)

ووئلا احمرڈ

ووئلا احمرڈ متحرک سیاستدان ہیں—فوٹو: 1815 ڈاٹ سی ایچ
ووئلا احمرڈ متحرک سیاستدان ہیں—فوٹو: 1815 ڈاٹ سی ایچ

کرسچین ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی آف سوئٹزرلینڈ کی رہنما 56 سالہ ووئلا احمرڈ دسمبر 2018 میں سوئٹزرلینڈ کی فیڈریشن آف کونسل کی رکن بنیں اور انہوں نے یکم جنوری 2019 سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

کیرن کیلر سوٹر

کیرن کیلر پہلے بھی سرکاری عہدوں پر تعینات رہ چکی ہیں—فوٹو: ہنڈزلستنگ
کیرن کیلر پہلے بھی سرکاری عہدوں پر تعینات رہ چکی ہیں—فوٹو: ہنڈزلستنگ

دی لبرل پارٹی پارٹی سے تعلق رکھنے والی 55 سالہ کیرن کیلر سوٹر بھی دسمبر 2018 میں سوئٹزرلینڈ کی فیڈریشن آف کونسل کی رکن بنیں اور نئے سال سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

سیمونیتا سوماروگا—فوٹو: کروشیہ ویک
سیمونیتا سوماروگا—فوٹو: کروشیہ ویک

54 سالہ ڈورس لیتھرڈ کا تعلق کرسچین ڈیموکریٹک سوشل پارٹی جب کہ 57 سالہ سیمونیتا سوماروگا کا تعلق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف سوئٹزرلینڈ سے ہے، ڈورس لیتھرڈ اس عہدے پر دوسری مرتبہ جب کہ سیمونیتا سوماروگا اس عہدے پر پہلی مرتبہ براجمان ہوئی ہیں۔

ایتھوپیا

صدر

سہالے ورک کو بھی ایتھوپیا کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے—فوٹو: الجزیرہ
سہالے ورک کو بھی ایتھوپیا کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے—فوٹو: الجزیرہ

اقوام متحدہ میں کئی سال تک خدمات سر انجام دینے والی 69 سالہ سہالے ورک زیوڈے کو افریقی ملک ایتھوپیا کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

سہالے ورک نے جہاں کئی سال تک اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیموں میں خدمات سر انجام دیں، وہیں وہ ایتھوپیا کی سفیر بھی رہ چکی ہیں اور انہیں سفارت کاری کی ماہر سمجھا جاتا ہے۔

جارجیا

صدر

سالومے جارجیا کی پہلی خاتون صدر ہیں—فوٹو: دی ٹائم
سالومے جارجیا کی پہلی خاتون صدر ہیں—فوٹو: دی ٹائم

فرانسیسی نژاد جارجیائی سیاستدان 67 سالہ سالومے زور ابیشویلے کو یورپی ملک جارجیا کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

سالومے زور دسمبر 2018 میں صدر منتخب ہوئیں، ان کا تعلق جارجیئن ڈریم پارٹی سے تھا اور انہوں نے 11 جماعتوں کے اتحادی امیدواروں کو بھی شکست دی۔

صدر منتخب ہونے سے قبل وہ اقوام متحدہ میں بھی خدمات سر انجام دے چکی ہیں جب کہ وہ فرانس میں جارجیا کی سفیر رہنے سمیت ملک کی پہلی خاتون وزیر خارجہ بھی رہ چکی ہیں۔

کینیڈا

گورنر جنرل

جولی پائتے پروفیشنل خلاباز بھی ہیں—فوٹو: نیشنل آبزرور
جولی پائتے پروفیشنل خلاباز بھی ہیں—فوٹو: نیشنل آبزرور

53 سالہ جولی پائتے کینیڈا کی 29 ویں گورنر جنرل ہیں، یہ عہدہ اگرچہ حکومتی نہیں تاہم یہ مشترکہ ممالک قلمرو میں ایک علامتی ریاستی عہدے کی اہمیت رکھتا ہے۔

اس عہدے پر تقرری ملک کا وزیر اعظم کرتا ہے اور اس عہدے پر براجمان شخص ایک طرح سے ملکہ برطانیہ کے معاملات دیکھنے کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔

اس طرح کا عہدہ دوسرے دولت مشترکہ قلمرو ممالک میں بھی ہے۔

کیورا ساؤ

گورنر جنرل

لوشیا جارج منجھی ہوئی سیاستدان ہیں—فوٹو: کیورا ساؤ کرونیکل
لوشیا جارج منجھی ہوئی سیاستدان ہیں—فوٹو: کیورا ساؤ کرونیکل

69 سالہ لوشیا جارج ووٹ بحریہ کیریبین کے جزیرہ نما ملک کیورا ساؤ کی گورنر ہیں، یہ عہدہ ریاستی سربراہ کا عہدہ ہے۔

لوشیا جارج ووٹ گورنر بننے سے قبل بھی کیورا ساؤ کے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات رہی ہیں۔

ناروے

وزیر اعظم

—فوٹو: الیکشن رزلٹ
—فوٹو: الیکشن رزلٹ

57 سالہ ایرینا سولبرگ حکومت کے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان ہونے سے قبل بھی حکومت کے اعلیٰ ترین عہدوں بشمول وزارتوں پر خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔

وہ 2013 سے ناروے کی وزیر اعظم ہیں، ساتھ ہی وہ سیاسی جماعت ’کنزرویٹو پارٹی‘ کی سربراہ بھی ہیں۔

میانمار

سربراہ حکومت

—فوٹو: دی نیو یارکر
—فوٹو: دی نیو یارکر

72 سالہ آنگ سانگ سوچی میانمار کی حکمران جماعت کی سربراہ ہیں، انہیں حکومت کی سربراہی کے لیے ایک خصوصی عہدے کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، وہ میانمار کی پہلی اسٹیٹ کونسلر خاتون ہیں، یہ عہدہ وزیر اعظم کے برابر ہوتا ہے۔

اگرچہ آنگ سانگ سوچی براہ راست حکومتی پالیسیوں کی ذمہ دار نہیں ہیں، تاہم یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہی میانمار حکومت کی اہم پالیسی ساز ہیں۔

ان پر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے تشدد کی وجہ سے بھی تنقید کی جاتی ہے۔

گریناڈا

گورنر جنرل

—فوٹو: اے بی سی نیوز
—فوٹو: اے بی سی نیوز

گرینیڈا کیریبین جزائر کا ایک جزیرہ نما ملک ہے، جس پر برطانوی سلطنت کا قبضہ تھا، 65 سالہ ڈیم سیسل اس ملک کی پہلی گورنر جنرل ہے، اس سے قبل وہ ملک کے اہم سیاسی و حکومتی عہدوں پر تعینات رہ چکی ہیں۔

نیپال

صدر

—فوٹو: سنڈے آبزرور
—فوٹو: سنڈے آبزرور

56 سالہ بدیا دیوی بھنڈاری مجموعی طور پر نیپال کی تاریخ کی دوسری خاتون جب کہ جمہوری نیپال کی پہلی خاتون صدر ہیں۔

بدیا دیوی بھنڈاری کا تعلق کمیونسٹ پارٹی آف نیپال سے ہے، وہ صدر بننے سے قبل وزیر دفاع سمیت دیگر عہدوں پر بھی براجمان رہ چکی ہیں۔

سربیا

وزیراعظم

—فوٹو: کورڈی میگزین
—فوٹو: کورڈی میگزین

42 سالہ اینا برنابیچ یورپی ملک سربیا کی نوجوان ترین اور پہلی خاتون ایل جی بی ٹی وزیر اعظم ہیں، وہ اس سے قبل بھی حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔

اینا برنابیچ کو ہم جنس پرستی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

سنگاپور

صدر

—فوٹو: ڈسکور ایس جی
—فوٹو: ڈسکور ایس جی

63 سالہ حلیمہ یعقوب نہ صرف سنگاپور کی پہلی خاتون صدر بلکہ پہلی مسلمان صدر بھی ہیں، وہ اس سے قبل سنگاپور کی اسمبلی کی اسپیکر رہنے سمیت اہم سرکاری عہدوں پر براجمان رہیں۔

ان کا تعلق سیاسی جماعت ’پیپلز ایکشن پارٹی‘ سے ہے۔

حلیمہ یعقوب ہمیشہ پردے میں ملبوس رہتی ہیں—فوٹو: ٹوڈے آن لائن
حلیمہ یعقوب ہمیشہ پردے میں ملبوس رہتی ہیں—فوٹو: ٹوڈے آن لائن

لتھووینیا

صدر

—فوٹو: آئی بی ٹائمز یوکے
—فوٹو: آئی بی ٹائمز یوکے

62 سالہ ڈلیا گریباسکیٹی نہ صرف لتھووینیا کی پہلی خاتون صدر ہیں بلکہ وہ مسلسل دوسری مرتبہ منتخب ہونے والی بھی پہلی صدر ہیں، وہ اس سے قبل مختلف سرکاری عہدوں پر خدمات سر انجام دیتی رہی ہیں۔

ڈلیا گریباسکیٹی یورپی یونین اور کمیشن کے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بھی خدمات سر انجام دے چکی ہیں۔

مالٹا

صدر

—فوٹو: مالٹا ٹو ڈے
—فوٹو: مالٹا ٹو ڈے

59 سالہ میری لوئس اگرچہ مجموعی طور پر مالٹا کی دوسری خاتون صدر ہیں، تاہم وہ جدید دور کی پہلی خاتون صدر ہیں۔

میری لوئس نے اگرچہ 55 سالہ کی عمر میں عہدہ صدارت سنبھالا، تاہم حیران کن طور پر اس کے باوجود وہ ملک کی نوجوان ترین صدر قرار پائیں۔

نمبییا

وزیر اعظم

—فوٹو: فوٹ پرنٹ ٹو افریقہ
—فوٹو: فوٹ پرنٹ ٹو افریقہ

50 سالہ سارہ کگینگلوا جنوبی افریقی ملک نمبیبا کی مجموعی طور پر چوتھی جب کہ پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں، انہوں نے 2015 میں یہ عہدہ سنبھالا۔

ساؤتھ ویسٹ افریقہ پیپلز آرگنائزیشن نامی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والی سارہ کگینگلوا اس سے قبل وزیر خزانہ سمیت دیگر وزارتوں کے قلمدان بھی سنبھال چکی ہیں۔

بہاماس

گورنر جنرل

—فوٹو: بہاماس پریس ڈاٹ کام
—فوٹو: بہاماس پریس ڈاٹ کام

85 سالہ مارگریٹ پینڈلنگ بحرالکاحل کنارے سیکڑوں جزائر پر مشتمل کیریبن ملک بہاماس کی دوسری خاتون گورنر جنرل ہیں۔

ان سے قبل ایوی دوموٹ 2000 سے 2001 تک پہلی خاتون گورنر جنرل رہ چکی ہیں۔

جزیرہ مارشل

صدر

—فوٹو: کینبرا ٹائمز
—فوٹو: کینبرا ٹائمز

66 سالہ ہلدا ہین ایکواڈور کے قریب متعدد جزائر پر مشتمل جزیرہ نما ملک مارشل کی نہ صرف پہلی خاتون صدر ہیں، بلکہ وہ اپنے ملک کی پہلی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی خاتون بھی ہیں۔

ہلدا ہین نے 2016 سے عہدہ صدارت سنبھالا، اس سے قبل وہ متعدد سرکاری عہدوں پر تعینات رہ چکی ہیں۔

رومانیہ

وزیر اعظم

—فوٹو: رومانیہ لبرا
—فوٹو: رومانیہ لبرا

54 سالہ ویوریکا ڈینشلا کے لیے سال 2018 تاریخی ثابت ہوا اور وہ نئے سال کے پہلے ہی ماہ رومانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔

ویوریکا ڈینشلا نے 29 جنوری 2018 کو عہدہ سنبھالا، ان کا تعلق ’سوشل ڈیموکریٹک پارٹی‘ سے ہے، وہ یورپی یونین کی رکن رہنے سمیت اہم سرکاری عہدوں پر بھی تعینات رہ چکی ہیں۔

ویریکا ڈینشلا کو عوام میں  مقبولیت حاصل ہے—فوٹو: شکاگو ٹربیون
ویریکا ڈینشلا کو عوام میں مقبولیت حاصل ہے—فوٹو: شکاگو ٹربیون

ٹرینیڈاڈ ٹوبیگو

صدر

60 سالہ پاؤلا مائی ویکیس جو اس براعظم امریکی ملک ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو کی اعلیٰ جج ہیں، وہ ملک کی پہلی صدر ہیں۔

پاؤلا مائی ویکیس سیاسی جماعتوں کی مفاہمت اور جوڑ توڑ کے بعد گزشتہ برس خواتین کے عالمی دن کے موقع پر صدر بنیں۔

—فوٹو: اسٹال بروک نیوز
—فوٹو: اسٹال بروک نیوز

تائیوان

تسائی انگ ون صدر

—فوٹو: انڈو چائنا ٹاؤن
—فوٹو: انڈو چائنا ٹاؤن

61 سالہ تسائی انگ ون کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ خود مختار مگر چین کی زیر تسلط ریاست تائیوان کی پہلی خاتون صدر ہیں۔

تسائی انگ ون کی پارٹی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی نے حیران کن طور پر 2016 کے عام انتخابات میں حکمران جماعت کو شکست دی، جس کے بعد وہ ملک کی پہلی خاتون صدر بنیں۔

تسائی انگ ون ریاست و حکومت کے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان ہونے سے قبل متعدد سرکاری عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔

تسائی کو معیشت کا ماہر سمجھا جاتا ہے—فوٹو: جارجیا اسٹریٹ
تسائی کو معیشت کا ماہر سمجھا جاتا ہے—فوٹو: جارجیا اسٹریٹ

آئس لینڈ

وزیر اعظم

—فوٹو: آئس لینڈ مونیٹر
—فوٹو: آئس لینڈ مونیٹر

42 کیٹرن جیکوبوسڈوٹی کی نوجوان ترین وزیر اعظم ہیں، وہ اس عہدے پر براجمان ہونے سے قبل کئی وزارتوں کے قلمدان سنبھال چکی ہیں۔

وہ 2003 میں صحافت سے سیاست میں داخل ہوئی تھیں اور جلد ہی انہوں نے سیاست میں اپنا مقام بنالیا۔

کیٹرن جیکو بوسڈوٹی صحافی بھی رہ چکی ہیں—فوٹو: نیوز حب
کیٹرن جیکو بوسڈوٹی صحافی بھی رہ چکی ہیں—فوٹو: نیوز حب