ای میل

صوفی، محنت کش اور شاعر: شاہ کریم بلڑی وارو

ابوبکر شیخ

حیات کو دیکھنے اور پرکھنے کے لیے ہر شخص اپنا زاویہ نظر رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ دنیا کے تمام لوگ ایک ہی مقام پر کھڑے ہوکر ہر چیز کو تو نہیں دیکھ سکتے چنانچہ زاویوں میں تبدیلی ناگزیر ہے اور یوں 2 مختلف جگہوں پر کھڑے اشخاص ایک ہی منظر کو 2 بالکل مختلف رخوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں یکساں منظرنامہ دیکھنا تو ممکنات کے دائرے میں قطعی طور پر نہیں آسکتا۔ اس بات کو آسانی سے سمجھنے کے لیے ہم ‘6‘ اور ’9‘ کی مثال لے سکتے ہیں۔

ہر وجود کی اپنی کمزوریاں اور اپنا مدافعتی نظام ہے۔ جس کی چھاؤں میں وہ جیون جی کر گزارتا ہے اور بلاشبہ ہر ذی روح کے اندر ایک الگ کائنات بستی ہے۔ مگر ہم انسانوں کو اشرف المخلوقات کا درجہ اس لیے دیا گیا ہے کہ ہم مثبت اور منفی میں تمیز کرسکتے ہیں۔ ہمیں اندھیرے اور اجالے میں فرق کرنا آتا ہے اور ہم شادمانی اور غمی کا احساس بھی رکھتے ہیں۔

میں جب سجاول سے شاہ کریم کی درگاہ کے لیے نکلا تو راستے کے دونوں اطراف آبادی کم اور ویرانی زیادہ تھی۔ مارچ کا آخری ہفتہ تھا سو دھوپ تیز تھی اور آنکھوں کو چبھتی تھی۔ اس دوران جاڑے کی ٹھنڈک کی بہت یاد ستانے لگی تھی کہ ہر جانے والی چیز اچھی جو لگتی ہے۔

اس درگاہ پر جانے سے پہلے میں نے شاہ کریم کی عملی زندگی کے متعلق تحریر کی ہوئی کتاب ’بیان العارفین‘ کا مطالعہ کیا جو اس کے ایک معتقد ’محمد رضا بن عبدالواسع عرف میر دریائی‘ نے شاہ کریم کی رحلت کے 6 برس بعد یعنی 1628ء میں تحریر کی۔

مقبرہ شاہ کریم بلڑی وارو—ابوبکر شیخ
مقبرہ شاہ کریم بلڑی وارو—ابوبکر شیخ

مقبرہ شاہ کریم بلڑی وارو—ابوبکر شیخ
مقبرہ شاہ کریم بلڑی وارو—ابوبکر شیخ

اس مطالعے کی وجہ سے میرے ذہن کی زمین میں تصوف کے فلسفہ کی کئی قلمیں پھوٹتی تھیں۔ سماع کی محفلیں تھیں جن میں زرد شعلے لپکتے اور قوال علم کی گہرے خزانوں سے فصاحت اور بلاغت سے بھرے کسی شعر کی ادائیگی کرتے تو سننے والوں پر وجد کی ایک کیفیت سی طاری ہو جاتی۔

یہ ساری کیفیتوں کی دنیائیں ہیں جن کی سیر ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ روحانیت کی اس دنیا میں ’فنا‘ اور ’فنا در فنا‘ کی گانٹھوں کو سلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ سارے صوفی ادب کا آسمان، خدا شناسی، خود شناسی اور انسان شناسی کے روشن ستاروں سے جگمگاتا ہے۔

ان تینوں ذائقوں میں خدا کی بنائی ہوئی اس کائنات کی ساری کیفیتوں کے نخلستان اور ریگزار تخلیق ہوتے ہیں کیونکہ صوفی ادب، انسانوں کے حقوق کی شناسائی اور ادائیگی، ان سے آپ کا رویہ اور سلوک، انسانوں کے باہمی حقوق اور فرائض، اٹھنے بیٹھنے کے آداب، ایک دوسرے کو برابری کا درجہ دینے اور توقیر کرنے کی قدروں پر محیط ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انسان میں موجود منفی قوتوں جیسے غصہ اور غیبت، جھوٹ، کینہ و کپٹ، خود کو برتر سمجھنا اور ضد کے خلاف تعلیم دیتا ہے۔

اگر ہم صوفی ادب کے اس تذکرے میں ’سماع‘ کے ذکر کا مختصر سا مطالعہ کرنا چاہیں تو تاریخ کے صفحات ہماری اچھی مدد کرسکتے ہیں۔ سماع کا ذکر ہمیں صوفیوں کی ابتدائی تصنیفات میں مل جاتا ہے۔ جیسے ’ابو نصر سراج‘ کی ‘کتاب اللمع‘ 338ھ، ’ابوطالب مکی کی ’قوت القلوب‘ 382ھ، ’کلاباذی‘ کی ’التعرف‘ 380ھ، ’علی ہجویری‘ کی ’کشف المحجوب‘ 465ھ، ’ابوالقاسم قشیری‘ کی ’رسالہ قشیریہ‘ 465ھ، ’امام غزالی‘ کی ’احیاء علوم الدین‘ 488ھ، اسی طرح ساتویں صدی ہجری میں ’شیخ شہاب الدین سہروردی‘ کی کتاب ’عوارف المعارف‘ میں سماع کے حوالے سے ایک مکمل باب موجود ہے۔

درگاہ کے پاس قدیم قبرستان—ابوبکر شیخ
درگاہ کے پاس قدیم قبرستان—ابوبکر شیخ

اس حوالے سے، ڈاکٹر عبدالغفار تحریر کرتے ہیں کہ ’برِصغیر پاک و ہند میں سب سے پہلے چشتی سلسلے یا طریقے کے بزرگوں اور بعد میں سہروردی بزرگوں کے ہاں سماع کو بڑی حیثیت حاصل رہی ہے۔‘

’تاریخ معصومی‘ کے مصنف معصوم بکھری لکھتے ہیں کہ ’16ویں صدی میں سندھ و ہند میں صوفیانہ سماع کا بڑا زور تھا۔‘

اس حقیقت کو آگے بڑھاتے ہوئے ’بیان العارفین‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ ’شاہ کریم اکثر خود سماع کرتا تھا اور دوسری ہوتی ہوئی سماع میں حصہ بھی لیتا تھا۔ یہ محفل سماع کا ہی عشق تھا جو اسے گجرات اور احمدآباد تک لے گیا۔ اگر دیکھا جائے تو احمد آباد و گجرات 8ویں سے 10ویں اور 11ویں صدی تک چشتی طریقے کے بڑے مراکز رہے۔ جن میں معین الدین چشتی اہم مقام رکھتے ہیں۔ شاہ کریم کے ہاں ’سماع‘ کی حیثیت ’ذکر‘ کے برابر تھی۔ ’ابوطالب مکی‘ اپنی کتاب ’قوت القلوب‘ میں کہتے ہیں کہ ’سماع ذکر کی کیفیت میں ہے بشرطیکہ اس سے خدا کی طرف رجوعات ہو۔‘

رومی نے فرمایا تھا ’این جھان نیست چون ہستان شدہ، و آن جھان ہست بس پنھان شدہ۔‘ یعنی ’یہ جہان جو نیست ہے، وہ حقیقت کی طرح لگتا ہے۔ جبکہ وہ جہان جو اصل میں حقیقی ہے وہ مخفی یا کسی راز کی طرح لگتا ہے۔‘

میں سجاول کے بعد جھوک شریف سے ہوتا ہوا اب شاہ کریم ’بلڑی وارو‘ کی آخری آرام گاہ کی طرف جا رہا تھا۔ پانی کی کمی تھی تو زمین سوکھی پڑی تھی اور کہیں کہیں سفید نمک کی تہہ تھی جو سیم و تھور کی وجہ سے سیاہ زمین پر بچھی ہوئی تھی اور سورج کی کرنوں میں چمکتی تھی۔ پھر راستے کے مشرق یا اکثر مغرب کی طرف زمین آباد ہوجاتی اور ہرے کے ساتھ پیلا رنگ اس فراوانی اور خوبصورتی کے ساتھ زمین سے اُگ پڑتا کہ انسان پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں۔ یہ سورج مکھی کے کھیت تھے جو پانی کم پیتے ہیں اور بیجوں کی فصل کے ساتھ پیلا رنگ مفت میں دیتے ہیں کہ فطرت سے زیادہ اور کوئی مہربان نہیں۔

درگاہ شاہ کریم—ابوبکر شیخ
درگاہ شاہ کریم—ابوبکر شیخ

جھوک سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہی بلڑی شاہ کریم کا چھوٹا سا شہر آیا۔ پرانے اور قدیم شہر کی ساری نشانیاں اس بستی میں موجود ہیں۔ پرانے درخت، پرانی دکانیں اور قدیم لوک روایتوں کا ایک جنگل اگتا ہے اس شہر کی خاموش گلیوں میں۔ درگاہ سے پہلے درگاہ کا آنگن آیا اور ساتھ میں سیکڑوں لوگ تھے جو آتے اور جاتے تھے۔

درد اور تمنائیں آپ اپنے عوامل سے بوتے ہیں اس میں دوسرے کا عمل دخل کم ہی ہوتا ہے۔ پھر اپنی بوئی ہوئی تکلیفیں خود آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دیتیں اور آپ ان سے چھٹکارہ پانے کے لیے نکل پڑتے ہیں کہ سکون کی کوئی چھاؤں ملے، جہاں زندگی کی اس تپتی دھوپ میں آپ کو سکون اور ٹھنڈک کے 2 پل دے سکے۔ اسی چھٹکارے کے لیے کئی پگڈنڈیاں نکل پڑتی ہیں اور ہم چل پڑتے ہیں۔

میرے سامنے کلہوڑا دور میں تعمیر ہونے والی ’شاہ عبدالکریم‘ کی درگاہ تھی اور اس کے شمال میں انہی کے خاندان والوں کے مقبرے تھے اور ان مقبروں سے شمال میں وہ کنواں اب تک خستہ حالت میں موجود ہے جہاں سے شاہ کریم کا رہٹ اپنی زمین آباد کرنے کے لیے پانی نکالتا تھا اور شاہ کریم خود اپنی زمین آباد کرتا تھا۔ یہ بات مجھے حیران کردینے کے لیے کافی تھی۔ شاید یہی بات سن کر میں یہاں آ پہنچا تھا۔

وہ کنواں جہاں سے شاہ عبدالکریم کا رہٹ پانی نکالتا تھا—ابوبکر شیخ
وہ کنواں جہاں سے شاہ عبدالکریم کا رہٹ پانی نکالتا تھا—ابوبکر شیخ

شاہ کریم کی ولادت 1538ء میں مٹیاری میں ہوئی تھی لیکن چونکہ ان کے زیادہ رشتہ دار جنوبی سندھ کی طرف رہتے تھے اسی لیے انہوں نے مٹیاری چھوڑ کر سعید پور نامی گاؤں میں رہائش اختیار کی جو بعد میں ’بلڑی‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

شاہ کریم کی طبیعت میں انکساری کمال کی حد تک پہنچی ہوئی تھی اور برداشت کی طاقت اس سے بھی زیادہ تھی۔’بیان العارفین‘ کے پنوں پر ان کی زندگی کے ایسے واقعات بکھرے ہیں جن میں شفقت، سادگی اور برداشت کے گھنے، پھلدار اور ٹھنڈے درختوں کا ایک وسیع جنگل آباد ہے۔

ڈاکٹر عبدالغفار ’بیان العارفین‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ ’شاہ کریم اسلام کے اوائلی صوفیوں کے زہد و تقویٰ کی اعلیٰ مثال تھے۔ کم کھانا، کم بات کرنا، کم سونے والے اصول کا عملی نمونہ تھے۔ کھانے کے وقت اگر کوئی سائل آکر صدا لگاتا تو اپنی خوراک اور اگر سائل کو زیادہ ضرورت ہوتی تو اپنے خاندان کے لیے بنی ہوئی خوراک بھی سائل کو دے دیتے اور اپنے خاندان کی کھانے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وہ، سخت محنت و مشقت کرتے۔ اپنے کھیت میں ہل وہ خود جوتتے اور خود ہی فصل کاٹتے۔ گھر میں اگر کبھی کھانا وغیرہ پکانے کا مسئلہ ہوجاتا تو وہ خود بنا لیتے۔ مسجد میں اذان دینا، صفائی کرنا اور پانی بھر کر رکھنا یہ ان کے معمولات میں شامل تھا۔‘

درگاہ شاہ کریم—ابوبکر شیخ
درگاہ شاہ کریم—ابوبکر شیخ

درگاہ شاہ کریم —ابوبکر شیخ
درگاہ شاہ کریم —ابوبکر شیخ

ارغون اور ترخانوں کے زمانے میں ننگر ٹھٹہ میں کافی افراتفری کا ماحول تھا۔ اس کا تذکرہ اس کتاب میں کچھ یوں ملتا ہے کہ ’مغلوں کے بہت سارے جاگیردار تھے جو کسان کو اس کی محنت مزدوری کا حصہ نہیں دیتے تھے۔ خود شاہ کریم کے ساتھ ایسے واقعات پیش آئے، جن میں شاہ کریم کے بیٹوں کے مغل جاگیرداروں سے جھگڑے ہوئے اور جس میں مغلوں کے سر پھٹ گئے اور یہ شکایت حاکم ’مرزا جانی بیگ‘ تک جا پہنچی۔ شاہ کریم جب، مرزا جانی بیگ کے آگے پیش ہوا تو شاہ کریم نے جو لباس پہنا ہوا تھا وہ سادہ اور پرانا تھا۔ جہاں جہاں سے خستگی کی وجہ سے پھٹ رہا تھا تو لباس پر پیوند لگے ہوئے تھے۔ یہ سادگی دیکھ کر مرزا جانی بیگ نے جاگیرداروں کے دعوؤں کو رد کیا اور شاہ کریم کو چھوڑ دیا۔ کہتے ہیں کہ کسی آدمی سے زیادتی ہوتی تھی تو ان کے کہنے پر ان کے ساتھ چل پڑتے تھے ٹھٹہ سرکار کی طرف۔ ایک دفعہ کام نہ ہوا تو دوسری دفعہ بھی ساتھ چل پڑتے۔‘

بہت ساری ایسی باتیں ہیں جو آپ کو لوگوں سے روایت کی صورت میں سننے کو ملتی ہیں اور کتابوں میں پڑھنے کو بھی مل جاتی ہیں۔ خاص کر، شاہ کریم کی شفقت، نرم دلی، سادگی اور رحم دلی سے متعلق۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان سے منسوب باتوں میں کہیں کرامت کا ذکر نہیں ملتی۔ ایسی کوئی روایت موجود نہیں جس میں کرامت دکھانے یا کوشش کرنے کی بات کی گئی ہو۔ اس صوفی بزرگ کی ساری زندگی کی پہچان ان کے عملی کام ہیں۔ ان کا کردار ان کے عوامل کی وجہ سے ہی پہچانا جاتا ہے۔

درگاہ شاہ کریم —ابوبکر شیخ
درگاہ شاہ کریم —ابوبکر شیخ

کتابوں کے اوراق ہمیں بتاتے ہیں کہ بچپن سے ہی شاہ کریم سماع کو بہت پسند کرتے تھے۔ ان محفلوں میں وقت اور اپنا کوئی احساس نہیں رہتا تھا۔ پھر قربت اتنی زیادہ ہوگئی کہ وجد کی کیفیت طاری ہونے لگی تھے۔ یہ سب وجود میں ہوتا ہے۔ بس اس کو وہ ماحول ملنے کی دیر ہوتی ہے۔ بالکل ایسے جیسے خشک جنگل کو فقط ایک چنگاری ہی بہت ہے جلانے کے لیے۔ اس طرح یہاں بھی کچھ اس طرح کا منظرنامہ ہے۔ دنیاداری کے بعد یہ سماع کی محفلیں ہی تھیں جن سے یہ بزرگ عشق کی حد تک چاہت رکھتا تھا۔ جب کسی قوال یا ذاکر سے کوئی گہرائی میں ڈوبا بیت سنتا تو ایک وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ کبھی لمحوں کے لیے کبھی منٹوں کے لیے اور جب وجد کی کیفیت ختم ہوتی تو اپنی چادر جو وہ ہمیشہ اپنے کاندھے پر رکھتے وہ اس بیان کرنے والے کو تحفے کے طور دے دیتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ قوال کو خالی ہاتھ چھوڑا ہو۔

کہتے ہیں کہ ایسے موقعے پر اگر چادر ساتھ نہ ہوتی تو اپنا چوغا اتار کر دے دیتے۔ ساتھ میں کمال یہ تھا کہ وہ سندھی زبان کے ایک نامور شاعر بھی تھے۔ جس میں تصوف کے پہلوؤں کو بڑی باریک بینی سے بیان کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری کے ہمیں 87 بیت ملے ہیں۔ ان بیتوں کی کیفیت، منظرنگاری، مشاہدے کے رنگ آپ کو شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری میں نظر آتے ہیں۔

درگاہ کے جنوب میں ایک بڑا گنبدی مینار موجود ہے۔ جس پر ابھی تو زمانے کی ترقی نے لاؤڈ اسپیکر رکھوادیے ہیں مگر ایک زمانہ میں جب یہ اسپیکر نہیں تھے تو اس مینار پر چڑھ کر اذان دی جاتی تھی کہ مسجد کی طرف آنے کی پکار دُور دُور تک سنائی دے۔

درگاہ کے جنوب میں موجود ایک بلند و بالا گنبدی مینار
درگاہ کے جنوب میں موجود ایک بلند و بالا گنبدی مینار

درگاہ کے آنگن میں، کچھ لوگ مولود (نعت) پڑھ رہے تھے۔ ساتھ میں ایک چھوٹا بچہ بھی تھا جو ان نعت پڑھنے والوں کے ساتھ آیا تھا۔ وہ کان پر ایک ہاتھ رکھ کر، ایک سوز کے ساتھ آلاپ لگاتے کہ وہ سوز دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا۔ وہ چھوٹا بچہ درگاہ میں آنے جانے والے مردوں، عورتوں اور بچوں کو بڑے غور و حیرت سے دیکھتا جاتا۔ یہ جب واپس اپنے گاؤں جائے گا تو گاؤں کے بچوں کو سنانے کے لیے اس کے پاس بہت ساری زبردست کہانیاں ضرور ہوں گی۔

اتنے آنے جانے والوں کے بعد بھی درگاہ کے آنگن میں ایک ٹھنڈک کا احساس تھا۔ میں دیوار سے لگ کر بیٹھا رہا۔ جب کوئی پہلی بار باہر تیز دھوپ سے آتا تو، اس پر پریشانی اور فکرمندی کا احساس اتنا گہرا ہوتا کہ چہرہ ہی سب بتا دیتا، جیسے زندگی کا جزیرہ پریشانیوں کے سمندر میں بس ڈوبنے ہی والا ہے۔ پھر جب وہ درگاہ سے باہر نکلتا تو پریشانیوں کا سمندر سکڑ جاتا اور زندگی کے جزیرے میں ایک خوبصورت سی وسعت آجاتی۔

درگاہ پر موجود نعت پڑھنے والے—ابوبکر شیخ
درگاہ پر موجود نعت پڑھنے والے—ابوبکر شیخ

شاہ کریم یقیناً ایک خوش نصیب وجود تھا کہ اس کی درگاہ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے بنوائی، کیونکہ شاہ کریم شاہ لطیف کے جد امجد ہیں۔ شاہ کریم کے بیٹے جلال شاہ کے بیٹے عبدالقدوس، پھر ان کے بیٹے شاہ حبیب ہیں اور ان کے بیٹے شاہ لطیف ہیں۔ وہ سارے عادات و اطوار جو شاہ کریم میں ہم کو ملتے ہیں بالکل وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی میں بھی ملتے ہیں۔ شاہ بھٹائی جو ہر وقت اپنے ساتھ 3 کتابیں رکھتے تھے، ان میں ’قرآن مجید‘، ’مثنوی رومی‘ اور شاہ کریم کی ملفوظات ’بیان العارفین‘ شامل ہوتی تھیں۔

شاہ کریم کے کنویں سے مشرق کی طرف وہ جگہ ابھی تک محفوظ ہے جہاں بیٹھ کر شاہ بھٹائی نے شاہ کریم کا مقبرہ 1741ء میں تعمیر کروایا تھا۔ جتنا وقت تعمیر کا کام چلتا رہا، شاہ لطیف اسی جگہ پر شب و روز گزارتے رہے۔ لوگ یہاں اس آستانے پر بھی بڑے احترام سے آتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ ایک زمانے میں لطیف سائیں یہاں رہتے تھے۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی کا آستانہ—ابوبکر شیخ
شاہ عبداللطیف بھٹائی کا آستانہ—ابوبکر شیخ

شاہ عبداللطیف بھٹائی کا آستانہ—ابوبکر شیخ
شاہ عبداللطیف بھٹائی کا آستانہ—ابوبکر شیخ

میں نے میرپور بٹھورو کے محترم عبدالقادر کھٹی سے جب پوچھا کہ اس بزرگ کو ’بلڑی وارو‘ کیوں کہا جاتا ہے؟ تو انہوں نے جو جواب دیا کہ ‘مجھے اس حوالے سے کسی کتاب میں تو کچھ پڑھنے کے لیے نہیں ملا البتہ لوک روایتوں کے ذخیرے میں سے ایک روایت ملتی ہے، جس کے مطابق سائیں شاہ کریم کی حویلی میں ایک خادمہ تھی۔ وہ بہت خدمت گزار تھی۔ نام تو اُس کا ’حوا‘ تھا مگر سب لوگ اسے بُلڑی کہہ کر پکارتے تھے۔ اس کی خدمت دیکھ کر شاہ کریم اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔‘ کہتے ہیں کہ ایک دن شاہ کریم سے مائی بلڑی نے کہا کہ ’سائیں آپ مجھے دعا دو۔‘ تو شاہ کریم نے دعا دیتے ہوئے کہا کہ ’اب جب بھی کوئی نام لے گا تو پہلے آپ کا نام آئے گا پھر میرا نام آئے گا۔‘ اس لیے اب اس طرح کہا جاتا ہے کہ ’بلڑی‘ شاہ کریم۔‘

ہم بلڑی کے چھوٹے سے شہر سے باہر مغرب شمال میں اس جگہ پر گئے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ’مائی بلڑی‘ کی آخری آرام گاہ ہے۔ ہم جب کھیتوں کے بیچ میں سے وہاں پہنچے تو چھوٹے سے گنبدی تعمیر کی نئی عمارت تھی جس کے اندر مائی حوا عرف مائی بلڑی کی آخری آرام گاہ تھی۔ تب مجھے ’ابن حوقل‘ کا وہ سندھ کا نقشہ یاد آیا جو اس نے 342ھ میں بنایا تھا اور اس نقشے میں ’بلڑی‘ علاقے کا نام تحریر ہے اور یہاں مائی بلڑی کی قبر پر 483ھ تحریر ہے۔ جبکہ شاہ کریم 944ھ میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ ایک الجھی ہوئی تاریخی پہیلی ہے جس کو یقیناً سلجھانے کی ضرورت ہے۔

مائی حوا عرف مائی بلڑی کی آخری آرام گاہ—ابوبکر شیخ
مائی حوا عرف مائی بلڑی کی آخری آرام گاہ—ابوبکر شیخ

مائی حوا عرف مائی بلڑی کی آخری آرام گاہ—ابوبکر شیخ
مائی حوا عرف مائی بلڑی کی آخری آرام گاہ—ابوبکر شیخ

’کیا سماع کا سلسلہ اب تک برقرار ہے؟‘ میرا عبدالقادر کھٹی سے دوسرا سوال تھا۔

’جی بالکل۔ یہ سماع کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں الاؤ جلتا ہے اور سماع کی روایت کو عزت و احترام سے دہرایا جاتا ہے۔ سالانہ میلے پر تو سماع کا ایک بڑا اجتماع منعقد ہوتا ہے۔‘

’کیا سماع کا یہ سلسلہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی درگاہ پر بھی جاری ہے؟‘ یہ سوال میں نے شاہ لطیف کی شاعری کے شارح محترم انب گوپانگ سے کیا تو وہی جواب آیا کہ ’جی ہاں بالکل۔ سماع کا یہ سلسلہ یہاں بھی جاری و ساری ہے۔ ہر جمعرات کو الاؤ کے گرد سماع کی محفل ہوتی ہے۔‘

میں جب درگاہ سے باہر نکلا تو شام ہونے کو آئی تھی۔ درگاہ کے آنگن سے میں نے دیکھا کہ کچھ درخت تھے جن پر سے سبزے کی چادر سیم اور تھور نے نوچ لی تھی اور وہ اپنا خشک وجود لیے کھڑے تھے۔

ایک زمانے میں جب یہ درخت ہرے بھرے تھے تو یہاں طوطوں کی بہتات تھی۔ تیز سرخ چونچ اور سبز گہرا رنگ جو فطرت نے طوطوں کو ہی عنایت کیا ہے، سیکڑوں کی تعداد میں یہاں اڑتے اور گاتے پھرتے تھے۔ لیکن اب کوئی طوطا نہیں اڑتا۔ بس ٹنڈ منڈ درخت ہیں اور لوگ ہیں جن کے سروں پر پریشانیوں کی گٹھریاں ہیں اور ہر کوئی اس گٹھری سے چھٹکارہ چاہتا ہے۔!


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔