19 برس بعد بھی مداح استاد پٹھانے خان کی آواز کے دیوانے

09 مارچ 2019

ای میل

استاد پٹھانے خان 1926 میں پیدا ہوئے —فوٹو/ اسکرین شاٹ
استاد پٹھانے خان 1926 میں پیدا ہوئے —فوٹو/ اسکرین شاٹ

صدارتی ایوارڈ یافتہ سائیں پٹھانے خان کو اپنے مداحوں سے بچھڑے آج 19برس بیت گئے ہیں لیکن اتنے سالوں بعد بھی ان کی سریلی آواز آج بھی صحرا کے ٹیلوں میں گونجتی ہے۔

خواجہ غلام فرید کی کافی ’میڈا عشق وی تو میڈا یار وی تو‘ کو زبان زد عام کرنے والے استاد پٹھانے خان 1926 کو بستی مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کی بستی تمبو والی میں پیدا ہوئے۔

پٹھانے خان نے عارفانہ کلام، لوک گیت، صوفیانہ کلام اور کافی میں وہ نام کمایا جو شاید ہی کسی کو نصیب ہو۔

ریڈیو پاکستان ملتان سے باقاعدہ اپنے فن کا آغاز کرنے والے سپوت کو فن گائیکی کی بدولت صدارتی ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ ایلمینیم ایوارڈ اور خواجہ غلام فرید جیسے بڑے ایوارڈز سے نوازا گیا۔

پٹھانے خان کے فن کو زندہ رکھنے کے لیے ان کے فرزند اقبال پٹھانے خان ان کی گائی ہوئی معروف کافیاں گا کر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

پٹھانے خان نے کئی دہائیوں تک اپنی سریلی آواز کا جادو جگایا اور خواجہ غلام فرید، بابا بلھے شاہ اور مہر علی شاہ سمیت کئی شاعروں کے عارفانہ کلام کو گا کر فضا میں رس گھولا۔

حکومت نے اس گلوکار کو 1979 میں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا، پٹھانے خان 9 مارچ سن 2000 میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔

منفرد لب و لہجے سے محفلوں کی رونق بننے والے سائیں پٹھانے نے اپنی سریلی آواز سے اس خطے کو جو پہچان بخشی اس کو بھلایا نہیں جا سکے گا۔