بلاول بھٹو کی نواز شریف سے ’پیر‘ کو ملاقات متوقع

ای میل

نواز شریف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز
نواز شریف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سوموار کو کوٹ لکھپت جیل میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی عیادت کریں گے۔

بلاول بھٹو کے ترجمان سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے تصدیق کی کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین 11 مارچ (بروز پیر) کو کوٹ لکھپت جیل میں مزاج پرسی کریں گے۔

ترجمان بلاول بھٹو کی جانب سے کہا گیا کہ ’بلاول بھٹو کی نواز شریف سے ملاقات کا مقصد محض ان کی مزاج پراسی ہے‘۔

مزید پڑھیں: کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف کو دل کی تکلیف

انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت کی جانب سے مسلم لیگ کے قائد کو مطلوبہ طبی سہولیات فراہم نہ کرنے پر تشویشناک ہے‘۔

اس سے قبل محکمہ داخلہ پنجاب نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی تھی۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کو نواز شریف سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔

اس سے قبل چیئرمین پیپلزپارٹی کی جانب سے محکمہ داخلہ سے درخواست کی گئی تھی وہ نواز شریف سے عیادت کے لیے جیل میں ان سے ملنا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کی جانب سے اس درخواست کو محکمہ داخلہ میں جمع کروایا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ، پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور جمیل سومرو بھی ہوں گے۔

اس بارے میں ذرائع نے بتایا تھا کہ بلاول بھٹو آج ہی کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور اس ملاقات کا مقصد نواز شریف کی صحت کے بارے میں دریافت کرنا ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی اس سے قبل بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔

2 روز قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ توئٹر پر ایک ٹوئٹ میں بلاول بھٹو زرادی نے لکھا تھا کہ جیل میں قید نواز شریف کی صحت کو سنجیدہ لینا چاہیے اور حکومت کو چاہیے کہ انہیں عزت کے ساتھ مکمل طبی سہولیات فراہم کریں۔

خیال رہے کہ العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے 7 سال قید کا سامنا کرنے والے نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور ان کے خاندان کے افراد اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے اور مناسب علاج نہ ملنے کی شکایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: علاج کی بھیک مانگی نہ مانگوں گا، نواز شریف

تاہم گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پنجاب حکومت کو ہدایت کی گئی تھی کہ نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولیات دی جائیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا تھا وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ نواز شریف جس ڈاکٹر یا ہسپتال سے علاج کروانا چاہتے ہیں، انہیں وہاں منتقل کیا جائے اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔

اس کے باوجود سابق وزیر اعظم نے اپنے اہل خانہ کے اصرار کے باوجود ہسپتال جانے سے انکار کیا تھا اور پیغام دیا تھا کہ علاج کے لیے بھیک مانگی ہے نہ مانگوں گا۔