سام سنگ گلیکسی ایس 10 سیریز کے 10 بہترین فیچرز

10 مارچ 2019

ای میل

گلیکسی ایس 10 سیریز کے فونز — اے پی فائل فوٹو
گلیکسی ایس 10 سیریز کے فونز — اے پی فائل فوٹو

سام سنگ نے گزشتہ ماہ اپنے فلیگ شپ فون ایس سیریز کے 3 نئے فونز گلیکسی ایس 10م گلیکسی ایس 10 پلس اور گلیکسی ایس 10 ای متعارف کرائے تھے جو اب مختلف ممالک میں فروخت کے لیے بھی پیش کردیئے گئے ہیں۔

یہ تینوں فون ایس سیریز کے 10 سال مکمل ہونے پر متعارف کرائے گئے اور کمپنی نے انہیں حالیہ برسوں کے سب سے بہترین فونز قرار دیا ہے۔

گلیکسی ایس 10 ای 5.8 انچ، گلیکسی ایس ٹین 6.1 انچ جبکہ ایس 10 پلس 6.4 انچ ڈسپلے کے ساتھ ہے۔

مگر یہ آئی فون ایکس ایس اور دیگر اینڈرائیڈ فونز سے کسیے مختلف یا بہتر ہے ؟ تو اس کے چند بہترین فیچرز اور خصوصیات جانیں جو سام سنگ کے نئے فونز کو بہترین ثابت کرتے ہیں۔

انتخاب

فوٹو بشکریہ انگیجیٹ ڈاٹ کام
فوٹو بشکریہ انگیجیٹ ڈاٹ کام

درحقیقت سب سے پہلی خصوصیت تو یہی ہے کہ سام سنگ نے صارفین کو 3 آپشن گلیکسی ایس 10 ای، گلیکسی ایس 10 اور گلیکسی ایس 10 پلس کی شکل میں دیئے ہیں۔ اس معاملے میں سام سنگ نے ایپل کی 2018 کی حکمت عملی کی نقل کی ہے ۔ جو لوگ زیادہ مہنگا فون نہیں خرید سکتے وہ ایس 10 ای کو خرید سکتے ہیں جس کی قیمت 750 ڈالرز ہے جس کے بعد ایس 10 اور پھر ایس 10 پلس کا نمبر آتا ہے۔

نیا ڈیزائن

سام سنگ نے اس بار فون کے ڈیزائن کو بالکل نیا بنایا ہے اور یہ گزشتہ سال کے گلیکسی ایس 9 سے مختلف ہے یعنی لگ بھگ بیزل لیس فون جس میں اسکرین ٹو باڈی ریشو متاثر کن ہے اور ایسا جنوبی کورین کمپنی نے نوچ ڈیزائن سے دور رہتے ہوئے کیا ہے۔

ڈائنامک امولیڈ اسکرین

ڈیزائن کے ساتھ ساتھ سام سنگ نے ایس 10 سیریز میں نئی ڈائنا امولیڈ اسکرینوں کا استعمال کیا ہے اور اس وقت ان تینوں فونز کو ڈسپلے کے لحاظ سے سب سے بہترین فونز قرار دیا جارہا ہے۔ گلیکسی ایس 10 فونز کے ڈسپلے کواڈ ایچ ڈی پلس ریزولوشن سے لیس ہیں اور بائی ڈیفالٹ بھی ایچ ڈی دیا گیا ہے۔

ہول پنچ کیمرے

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

سام سنگ کے نئے ہول پنچ سیلفی کیمرے ہوسکتا ہے کہ روایتی نوچ سے بہتر نہ ہو مگر نئے اور متاثر کرنے والے ضرور ہیں اور فوری طور پر لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچتے ہیں، جن کو صارفین چھپا بھی سکتے ہیں اور ان کی بدولت ہی سام سنگ نے متاثر کن اسکرین ٹو باڈی ریشو کے حصول میں بھی کامیابی حاصل کی۔

اسکرین میں نصب فنگر پرنٹ سنسر

سام سنگ نے پہلیے بار گلیکسی ایس 10 اور ایس 10 پلس کے ڈسپلے کے اندر فنگرپرنٹ سنسر نصب کیے ہیں اور یہ اس وقت دستیاب دیگر ایسے فونز کے مقابلے میں مختلف ہیں کیونکہ اس میں الٹرا سونک سنسرز اسکرین کے اندر دیئے گئے ہیں، تاہم ایس 10 ای میں روایتی فنگرپرنٹ سنسر موجود ہے جسے کمپنی نے پہلے سے زیادہ تیز بنایا ہے۔

نئے کیمرے

آئی فون ایکس ایس اور ایکس ایس میکس کے کیمرے متاثر کن ہیں مگر گوگل پکسل تھری نے انہیں پیچھے چھوڑ دیا تھا اور اب سام سنگ گلیکسی ایس 10 سیریز کے کیمرے بھی آئی فونز کے مقابلے میں بہتر ہیں، سام سنگ نے امیج اسٹیبلائزیشن کو بہت زیادہ بہتر بنایا ہے یہاں تک کہ فرنٹ کیمرے بھی متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ برائٹ نائٹ فیچر کی بدولت رات کو کم روشنی میں بھی اچھی تصاویر لینا ممکن ہے۔

فاسٹ وائرلیس چارجنگ 2.0

سام سنگ نے اس بار وائرلیس چارجنگ کو بھی روایتی چارجنگ کی طرح فاسٹ بنایا ہے درحقیقت وائرلیس طریقے سے بھی اسے تار والے چارجر جتنی تیزی سے چارج کرنا ممکن ہے۔

وائرلیس پاور شیئر

اے پی فوٹو
اے پی فوٹو

سام سنگ نے ایس 10 سیریز مٰں ایک نئے فیچر کا اضافہ کیا ہے جسے وائرلیس پاور شیئر کا نام دیا گیا ہے، جس کی بدولت یہ فونز دیگر ڈیوائسز کو وائرلیس چارج کرسکتے ہیں، اس فیچر کو کوئیک سیٹنگز مینو سے ان ایبل کیا جاسکتا ہے جس کے بعد گلیکسی بڈز، سام سنگ اسمارٹ فون یا چی وائرلیس ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھنے والے کسی بھی اسمارٹ فون کو چارج کیا جاسکتا ہے۔

1.5 ٹی بی اسٹوریج

آئی فون صارفین کی سب سے بڑی شکایت یہی ہے کہ ان ڈیوائسز میں اسٹوریج محدود ہوتی ہے یعنی ایپل جتنی اسٹوریج کسی فون میں دیتی ہے، اس میں اضافہ ممکن نہیں ہوتا اور زیادہ اسٹوریج والا ماڈل مہنگا بھی زیادہ ہوتا ہے۔ سام سنگ اس حوالے سے صارفین کو ایس ڈی کارڈ سپورٹ فراہم کرتی ہے اور ایس 10 سیریز میں مختلف اسٹوریج آپشن موجود ہیں جن میں سے ایک گلیکسی ایس 10 پلس کا ایک ورژن بھی ہے جس میں ایک ٹی بی اسٹوریج دی گئی ہے جبکہ تینوں فونز میں مائیکرو ایس ڈی کارڈ سپورٹ دی گئی ہے جس کی بدولت فونز کی اسٹوریج میں 512 جی بی اسٹوریج کا اضافہ کیا جاسکتا ہے اور ایک ٹی بی والے ماڈل کی اسٹوریج 1.5 ٹی بی تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

انٹیلی جنٹ پرفارمنس

اے ایف پی فائل فوٹو
اے ایف پی فائل فوٹو

سام سنگ نے ان فونز میں ایک نیا فیچر انٹیلی جنٹ پرفارمنس دیا ہے جو صارف کی عادات کو سیکھتا ہے جیسے کن اوقات میں ایک صارف مخصوص ایپس کو مخصوص مقامات پر روزانہ اوپن کرکے استعمال کرتا ہے، جب ایک بار یہ فیچر صارف کی عادات کی شناخت کرلیتا ہے تو یہ مخصوص ایپس خودکار طور پر بیک گراﺅنڈ مٰں لوڈ ہوجاتی ہیں چاہے صارف نے انہیں اوپن نہ بھی کیا ہو، جس کے نتیجے میں ایپ بہت تیزی سے لانچ ہوتی ہے اور لوڈ ہونے میں کم وقت لیتی ہے۔اسی طرح یہ فونز بیک کراﺅنڈ میں ایپس کو بھی خودکار طور پر کلوز کرکے بیٹری لائف کو بڑھاتے ہیں۔