سنکیانگ کے ’ حراستی‘ مراکز بتدریج ختم ہوجائیں گے، چین

اپ ڈیٹ 12 مارچ 2019

ای میل

تربیتی مراکز میں لوگوں کی تعداد سے متعلق سنسنی پھیلائی گئی،چینی عہدیدار— فوٹو : اے ایف پی
تربیتی مراکز میں لوگوں کی تعداد سے متعلق سنسنی پھیلائی گئی،چینی عہدیدار— فوٹو : اے ایف پی

چینی عہدیدار نے سنکیانگ میں قائم اقلیتوں کے حراستی کیمپوں سے متعلق بین الاقوامی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے انہیں 'تربیتی مراکز' قرار دیا اور کہا ہے کہ اگر معاشرے کو ان کی ضرورت نہیں رہی تو یہ مراکز بتدریج ختم ہوجائیں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سنکیانگ حکومت کے چیئرمین شہرت ذاکر نے چین کی سالانہ پارلیمانی اجلاس کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمارے تعلیمی اور تربیتی مراکز ہماری ضروریات کے مطابق ترتیب دیئے گئے ہیں‘۔

انہوں نے تربیتی مراکز میں موجود افراد کی تعداد بتائے بغیر کہا کہ ’تعلیمی مراکز میں لوگوں کی تعداد کم سے کم ہونی چاہیے اور اگر ایک دن معاشرے کو اس کی ضرورت نہیں رہی تو یہ مراکز آہستہ آہستہ ختم ہوجائیں گے‘۔

مزید پڑھیں: چین کی مذہب کے حوالے سے پالیسیز پر امریکا کی تنقید، بیجنگ کا احتجاج

خیال رہے کہ ناقدین الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کیمپوں میں اقلیتی ایغور مسلمانوں کو مذہب ترک کرنے اور چینی معاشرے کو اپنانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

شہرت ذاکر نے کہا کہ بعض افراد نے ان مراکز میں لوگوں کی تعداد سے متعلق سنسنی پھیلائی۔

انہوں نے صحافیوں کو سنکیانگ کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

چین کے مغربی علاقے میں مقامی حکام کی جانب سے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی نگرانی کی جاتی ہے اور انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی مندوب برائے مذہبی آزادی سیم براؤن بیک نے صحافیوں کو کانفرنس کال میں کہا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ وہاں (سنکیانگ) بہت المناک اور خوفناک صورتحال ہے‘۔

یاد رہے کہ سنکیانگ میں 2009 میں ہونے والے خونی فسادات کے بعد چین نے وہاں کی مسلم برادری کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا تھا اور انہیں حکومت کے حراستی کیمپوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین: ایغور افراد کا لاپتہ رشتے داروں کی ویڈیو جاری کرنے کا مطالبہ

تاہم چین کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ لوگ ان ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز میں انتہا پسند خیالات سے چھٹکارے کے لیے آتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے قائم کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 10 لاکھ سے زائد ایغور اور دوسری مسلم اقلیتوں کے افراد چین کے صوبے سنکیانگ میں جنگی قیدیوں کے کیمپوں میں قید ہیں۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے رپورٹ میں اس تعصب کو ’خطرناک' قرار دیا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں کہ کتنے افراد طویل عرصے سے ان کیمپوں میں قید ہیں یا کتنے افراد کو سیاسی تعلیمی سینٹر میں مختلف وقت گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

چین نے اس رپورٹ کے رد عمل میں کہا تھا کہ ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ انسداد دہشت گردی کے تناظر میں بنائی گئی ہے جو حقائق کے منافی ہے۔

ایغور کون ہیں؟

چین کے جنوبی صوبے سنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری 'ایغور' آباد ہیں جو صوبے کی آبادی کا 45 فیصد ہیں۔

سنکیانگ سرکاری طور پر چین میں تبت کی طرح خودمختار علاقہ کہلاتا ہے۔

گزشتہ کئی عرصے سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایغور سمیت دیگر مسلم اقلیتوں کو سنکیانگ صوبے میں قید کرلیا جاتا ہے لیکن چین کی حکومت ان خبروں کو مسترد کررہی ہے۔