امریکا-طالبان مذاکرات میں 'بڑی کامیابی' کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 13 مارچ 2019

ای میل

زلمے خلیل زاد نے مذاکرات سے آگاہ کیا—فائل/فوٹو اے ایف پی
زلمے خلیل زاد نے مذاکرات سے آگاہ کیا—فائل/فوٹو اے ایف پی

افغانستان میں 17 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے تازہ دور میں دونوں فریقین نے 'بڑی کامیابیوں' کا دعویٰ کیا ہے جبکہ کہا گیا کہ فوجیوں کے انخلا اور انسداد دہشت گردی کو یقینی بنانے کے مسودے پر متفق ہیں۔

قطر میں جاری مذاکرات کے خاتمے کے بعد امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امریکا اور طالبان کے مذاکرات کاروں کے درمیان تازہ دور ‘حقیقی کامیابیوں’ کے ساتھ ختم ہوا، لیکن فوجیوں کے انخلا کے حوالے سے طریقہ کار پر کوئی معاہدہ طے نہ پاسکا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹویٹر' پر اپنے بیان میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ‘طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوحہ میں ابھی ختم ہوا ہے، امن کی صورت حال بہتر ہوچکی ہے اور یہ واضح ہے کہ تمام فریقین جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اونچ نیچ کے باوجود ہم نے چیزوں کو پٹڑی میں رکھا اور حقیقی کامیابی حاصل کی’۔

مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘امن کے لیے چار مسائل پر معاہدے کی ضرورت ہے جن میں انسداد دہشت گردی کو یقینی بنانا، فوجیوں کا انخلا، افغانستان کے اندر مذاکرات اور جامع جنگ بندی شامل ہے’۔

مزید پڑھیں: امریکا اور طالبان تمام اہم معاملات پر رضامند ہوگئے، زلمے خلیل زاد

امریکی نمائندے نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘جنوری میں مذاکرات میں ہم نے ان چار پہلوؤں پر اصولی طور پر اتفاق کیا تھا اور اب ابتدائی دو معاملات پر مسودے پر اتفاق ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جب فوجیوں کے انخلا کے وقت اور موثر انسداد دہشت گردی اقدامات پر مسودہ حتمی شکل اختیار کرے گا تو طالبان اور حکومت سمیت افغانستان کے دیگر حلقوں میں سیاسی اتفاق رائے اور مکمل جنگ بندی پر افغانستان کے اندر مذاکرات شروع ہوں گے’۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘میرا اگلا قدم واشنگٹن میں بات چیت اور دیگر شراکت داروں سے مشاورت ہے، ہم جلد دوبارہ ملیں گے اور تمام چیزوں پر اتفاق تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوگا’۔

غیر ملکی خبر ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق مذاکرات میں امریکی فوجیوں کے انخلا اور مستقبل میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی پر توجہ مرکوز تھی۔

افغانستان میں اس وقت امریکا کی فوجیوں کی تعداد 14 ہزار پر مشتمل ہے۔

طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ان دونوں مسائل کے حوالے سے بہتری آئی ہے’۔

یہ بھی پڑھیں: افغان امن عمل: طالبان اور امریکی حکام کے درمیان قطر میں مذاکرات

ان کا کہنا تھا کہ ‘اب دونوں فریقین حاصل کی گئی بہتری پر توجہ دیں گے اور اپنی اپنی قیادت کو اس سے آگاہ کریں گے اور اگلے اجلاس کی تیاری کریں گے’۔

امریکا اور طالبان کے درمیان اگلے مذاکرات کب ہوں گے اس حوالے سے ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا یہ مرحلہ 16 دنوں پر مشتمل تھا جو دونوں فریقین کے درمیان طویل ترین مذاکرات سمجھا جارہا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے 29 جنوری کو اپنے ایک بیان میں طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور طالبان حکام افغانستان سے دہشت گردوں کو باہر نکالنے، تمام امریکی فوجیوں کے انخلا، جنگ بندی اور کابل-طالبان مذاکرات جیسے تمام اہم معاملات پر راضی ہوگئے ہیں۔

امریکی اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس فریم ورک کا ایک مسودہ ہے جو معاہدے سے قبل وضع کیا جائے گا‘۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے اطمینان کے لیے طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان کو کبھی بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں یا افراد کے لیے پلیٹ فارم بننے سے روکنے کے لیے جو ضروری ہے وہ کیا جائے‘۔