کراچی:ماڈل گرل کے قتل کے مبینہ مرکزی ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری

ای میل

— فوٹو: شٹر اسٹاک
— فوٹو: شٹر اسٹاک

کراچی: مقامی ماڈل گرل کے قتل میں نامزد ملزم عمر نے اسلام آباد فرار ہونے کے بعد حفاظتی ضمانت لی، واپس آکر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے بھی ضمانت قابل ازگرفتاری لے لی۔

موچکو پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او تصور عامر نے بتایا کہ رباب شفیق نامی نوجوان لڑکی کی لاش 22 فروری کو کراچی کے مضافاتی علاقے میں قائم سُندر خلیل قبرستان سے برآمد ہوئی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق لڑکی کی لاش کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں قانونی کارروائی کی گئی جبکہ لڑکی کے اہلِ خانہ نے اس کی لاش کی شناخت کی جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ ایک ماڈل ہے۔

متاثرہ اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ ان کی لڑکی کو قتل کیا گیا ہے تاہم انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

ایس ایچ او موچکو پولیس اسٹیشن کا کہنا تھا کہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک نجی کلینک کی نرس ربینہ اور اسٹاف ممبر عاطف شاہ کو گرفتار کرلیا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں غیرت کے نام پر لڑکا، لڑکی قتل، 2 ملزمان گرفتار

ابتدائی تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا کہ عمر نامی ملزم ربینہ کو گلزارِ ہجری میں فیملی کیئر کے نام سے موجود ایک نجی کلینک میں لے کر آیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم نے اپنے آپ کو خاتون کا شوہر ظاہر کیا اور کلینک کے اسٹاف سے درخواست کی کہ وہ اسقاط حمل چاہتے ہیں۔

ایس ایچ او کے مطابق لڑکی کا اسقاط حمل گرفتار نرس نے کیا جس کی وجہ سے اس کی طبعیت خراب ہوئی، جس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا۔

گرفتار افراد نے دوران تفتیش پولیس کو یہ بھی بتایا کہ لڑکی کے انتقال کے بعد لڑکے نے نرس کو بتایا کہ لڑکی اس کی بیوی نہیں بلکہ اس کی دوست تھی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: آن لائن ٹیکسی سروس کا ایک اور ڈرائیور قتل

تاہم انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے عمر نامی ملزم کے ساتھ مل کر لڑکی کی لاش کو ہسپتال سے منتقل کرنے اور قبرستان میں اسے دفنانے میں مدد کی۔

عمر کے حوالے سے ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم اسلام آباد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جہاں اس نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت لے لی۔

اس کے بعد ملزم کراچی آیا اور اس نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی کے سامنے پیش ہو کر ضمانت قبل از گرفتاری لے لی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے مرکزی مجرم سے تحقیقات میں تعاون کرنے کی درخواست کی، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کلینک کے گرفتار عملے کا تین روزہ ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔