'بھارت، پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کروانے کے درپے'

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2019

ای میل

وزیر خزانہ قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شریک ہوئے — فائل فوٹو/ اے ایف پی
وزیر خزانہ قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں شریک ہوئے — فائل فوٹو/ اے ایف پی

اسلام آباد: وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بلند مالی خسارہ کی صورت میں 2 بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان دونوں مسائل کے اثرات کو کم سے کم کرنے اور غریب عوام کے تحفظ کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ سے فعال کردار ادا کرنے کی بھی درخواست کی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے پاکستانی کوششوں پر بھارت نے علیحدہ سے کارکردگی رپورٹ جمع کروائی ہے حالانکہ بھارت خود اس تنظیم کا جوائنٹ وائس پریزیڈنٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کے لیے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے انتہائی خطرناک عناصر کی گرفتاری، مقدمہ اور سزا دینا ایک بڑا چیلنج ہے جو دہشت گردی کی مالی معانت اور منی لانڈرنگ کی وجہ سے مالی نظام کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کا بھارتی خواب پورا نہیں ہوگا، وزیر خارجہ

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے عملدرآمد ظاہر کرنے کے حوالے سے یہ اقدامات ’انتہائی اہم چیلنج اور اولین ترجیح کی حیثیت رکھتے ہیں‘۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انتہائی خطرناک عناصر کے سلسلے میں 8 کالعدم تنظیموں کو انتہائی خطرناک کے درجے میں شامل کر کے جنوری کے لیے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پورا کیا، جسے تنظیم نے قبول کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیرس میں ہونے والے بین الاقوامی تعاون تنظیم کے نظرِ ثانی اجلاس میں پاکستان کو دوست ممالک کی جانب سے معلوم ہوا کہ بھارت نے پاکستان کو بیلک لسٹ قرار دلوانے کے لیے بھرپور مہم کا آغاز کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا بھارتی دھمکیوں کے بعد اقوام متحدہ سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ

وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی وزرا نے کھلے عام بیانات دیے کہ وہ پاکستان کو تہنا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، اس لیے پاکستان نے مذکورہ تنظیم سے بھارتی نائب صدر کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا فنانس کمیٹی کو فعال کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کے لیے دستاویز تیار کرنی چاہیے جس میں ترقی کے خطوط، وسائل کی منتقلی اور غربت دور کرنے کے لیے سرمایہ کاری کا فروغ اور نوکریوں میں اضافے کا فریم ورک موجود ہو، جو آئندہ مالی بجٹ میں حکومت کی مدد کرسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سابقہ حکومت کی سیاسی مقاصد کی وجہ سے سنگین مالی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا چناچہ اسے صحیح کرنے کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو دہشت گردوں کی ‘واچ لسٹ’ میں ڈالنے کی تیاریاں

ان کا کہنا تھا کہ ’مہنگائی میں اضافہ تشویشناک ہے اور ہماری ترجیح ہے کہ عوام کو اس سے محفوظ رکھا جائے‘۔

اس موقع پر کمیٹی اراکین نے کہا کہ حکومت اصلاحات اور استحکام کے پروگرام کی لاگت کے ساتھ ساتھ آئندہ ہونے والے آئی ایم ایف کے پروگرام کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک فریم ورک فراہم کرے تا کہ کمیٹی اس پر اپنی ماہرانہ تجاویز پیش کرسکے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سود کی ادائیگیاں بجٹ تخمینے سے بڑھ کر 4 کھرب تک پہنچ گئیں جبکہ حکومتی اخراجات میں محض 3.3 فیصد اضافہ ہوا اس کے ساتھ انہوں نے آئندہ غیر ملکی قرضوں کے معاہدے ہونے کے بعد اس کی تفصیلات کمیٹی کے سامنے پیش کرنے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا۔