’امیر آدمی کیلئے جیل بھی فائیو اسٹار ہوٹل، غریب کیلئے گھر بھی جیل‘

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2019

ای میل

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کیا — فوٹو: پی آئی ڈی
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کیا — فوٹو: پی آئی ڈی

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اسلام آباد بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت عام آدمی کو سب سے بڑا فائدہ پہنچانا چاہتی ہے تو اسے عدالتی نظام میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح عدالتیں بھی دیگر اداروں میں اصلاحات چاہتی ہیں لیکن عدالتی نظام میں اصلاح کی جانب ان کی توجہ کم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بطور وکیل میں نے وکلا میں یہ خوف دیکھا ہے کہ کہیں عدالتی اصلاحات کے باعث قانونی کارروائیاں کم نہ ہوجائیں لیکن قوانین کے بہتر ہونے سے معیشت بہتر ہوگی تو جہاں دیگر اداروں می بہتری آئے گی وہیں وکلا کے لیے بھی مزید معاشی مواقع پیدا ہوں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو جب تک اس بات کا احساس نہیں ہوگا کہ ملک میں انصاف کا یکساں نظام رائج ہے اس وقت تک پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔

وزیر اطلاعات نے ملک کے نظام انصاف میں طبقاتی تفریق کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ’قوانین کی موجودگی کے باوجود امیر آدمی کے لیے جیل بھی فائیو اسٹار ہوٹل ہے جبکہ غریب آدمی کے لیے گھر بھی جیل ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نئے چیلجنز درپیش ہیں، عدالتیں اس جانب بالکل توجہ نہیں دے رہیں کہ قانون کی تعلیم اور ہتک عزت کے حوالے سے قانونی کارروائیوں پر نظرِ ثانی کریں۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو قانونی نوٹس بھجوایا جائے تو وہ اس کا جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھتا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ عدالتیں اس پر عمل نہیں کریں گی۔

مزید پڑھیں: قانون و عدالتی نظام میں اصلاحاتی پیکیج کو حتمی شکل دی جائے، عمران خان

دوسری جانب میڈیا اتنا وسیع ہوتا جارہا جب تک اس میں قوانین کی آگاہی متعارف نہیں کروائی جائے گی اور ہتک عزت کے قانون کو مضبوط نہیں کریں گے یہ نظام کس طرح آگے چل سکے گا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کہ ہمارے ججز کی توجہ ابھی تک روایتی معاملات کی جانب مبذول ہیں ان کی سوچ نئے چیلنجز کے حوالے سے نہیں جبکہ وکلا بھی اس جانب توجہ دیتے ہوئے نظر نہیں آتے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ہر ضلع میں 2 ججز کو میڈیا کے حوالے ذمہ داریاں دینے کے لیے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو خط ارسال کریں گے تاکہ ہتک عزت جیسے قوانین کی سماعت کریں اور لوگوں کی جائز شکایات دور کریں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف میں کئی خامیاں ہوسکتی ہیں لیکن وزیر اعظم ملک سے نہایت مخلص شخص ہیں جن کی نیت اور کوششوں پر شک نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: قانون سازی عدالتوں کا نہیں پارلیمان کا کام ہے، چیف جسٹس

انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سب سے بڑی مشکل معاشی بحران کا سامنا ہے جس کے لیے احتساب پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا اپوزیشن کے خلاف جتنے مقدمات ہیں ان میں سے ایک مقدمہ بھی ہماری حکومت نے نہیں دائر کیا لہٰذا اپوزیشن کی جانب سے انتقام کا نشانہ بنانے کا الزام بلاجواز ہے۔

انہوں نے کہا تحریک انصاف کی حکومت کو 7 سے 8 ماہ ہوئے ہیں لیکن ابھی تک کابینہ کا کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا، انہوں نے ازراہِ مزاق کہا کہ ’خزانہ خود پریشان ہے کہ حکومت کو اتنے ماہ ہوگئے ابھی تک کوئی لوٹنے نہیں آیا‘۔

اپنے خطاب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر طبقے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’چیف جسٹس دیگر اداروں سے قبل عدلیہ میں اصلاحات کریں‘

انہوں نے کہا کہ ہم اب بہتری کی جانب گامزن ہیں ہمارے کھیل کے میدان آباد ہورہے ہیں لیکن اس جنگ کے خلاف جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

اگر ترقی یافتہ قوموں کو دیکھنا ہے تو ان کے اداروں کو دیکھنا چاہیے جن کی عمارتیں وسیع و عریض ہوتی ہیں لیکن ہمارے ہاں مقتدر شخصیات نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔

ہزاروں افراد اسلام آباد ہائی کورٹ کا رخ کرتے ہیں لیکن یہاں بیٹھنے تک کی جگہ موجود نہیں اس لیے گنجائش کی کمی کا ادراک کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی اطلاعات آئیں کہ وکلا نے فٹبال گراؤنڈ پر قبضہ کرلیا تو جب انہیں جگہ فراہم نہیں کی جائے گی تو وہ کیا کریں گے۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کے خلاف وکلا کا احتجاج، عدالت کے دروازے بند

وکلا کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ میں سی ڈی اے سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب وکلا بیٹھنے کے لیے فٹبال گراؤنڈ پر قبضہ نہیں کریں گے تو کیا سی ڈی اے کے گراؤنڈ پر کریں گے۔

وزیراعظم ہاؤس کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ شخصیات کے لیے اتنی وسیع و عریض عمارتیں بنائی گئیں لیکن عوام کے لیے اہم اداروں میں گنجائش کی کمی ہے۔

وزیر اطلاعات نے بار ایسوسی ایشن اور سی ڈی اے حکام سے درخواست کی کہ ساتھ مل بیٹھ کر وکلا کے چیمبرز کی تعمیر کے حوالے سے ماسٹر پلان تشکیل دیا جائے جس کے لیے حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔