نیب کا ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2019

ای میل

رؤف صدیقی کئی محکموں کے صوبائی وزیر رہ چکے ہیں — فوٹو بشکریہ سندھ اسمبلی ویب سائٹ
رؤف صدیقی کئی محکموں کے صوبائی وزیر رہ چکے ہیں — فوٹو بشکریہ سندھ اسمبلی ویب سائٹ

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے محکمہ اسمال انڈسٹریز سندھ میں غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سابق وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں نیب کی انکوائری کے خلاف سابق وزیر رؤف صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

واضح رہے کہ محکمہ سندھ اسمال انڈسٹریز میں غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق ایم کیو ایم رہنما اور دیگر کے خلاف نیب کی انکوائری جاری ہے۔

اپنی درخواست میں سابق وزیر نے موقف اختیار کیا تھا کہ نیب بے بنیاد الزامات پر ان کے خلاف تحقیقات کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کے سابق وفاقی وزیر بابر غوری کے خلاف نیب ریفرنس

اس کے علاوہ انہوں نے نیب کی جانب سے گرفتاری کے خدشے کے پیشِ نظر عبوری ضمانت دیے جانے کی بھی استدعا کی تھی۔

سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نیب نے ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی کو ملزم نامزد کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق وزیر اور دیگر کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ثابت ہوا ہے۔

ریفرنس کے حوالے سے عدالت کو اگاہ کرتے ہوئے پراسیکیوٹر نے کہا کہ رؤف صدیقی اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے لیے معاملہ ہیڈ کوارٹر ارسال کیا جاچکا ہے۔

جس پر عدالت نے نیب کو ریفرنس دائر کر کے اس کی رپورٹ 2 مئی تک پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ کے ملزم رؤف صدیقی، عبدالرحٰمن، زبیر پر فردِ جرم عائد

واضح رہے کہ رؤف صدیقی 2002 کے انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد جنوری 2003 میں صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے عہدے پر فائز ہوئے تھے جس کے بعد جولائی 2004 میں انہیں صوبائی وزیر داخلہ کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا۔

بعدازاں 2006 میں انہیں صوبائی وزیر برائے ثقافت و سیاحت بنادیا گیا تھا جس پر وہ نومبر 2007 تک فائز رہے، 2008 کے انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد انہوں نے صوبائی وزیر صنعت و تجارت کا عہدہ سنبھالا۔

اس دوران 2012 میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن رونما ہونے پر وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے، جنہیں بعد میں اس کیس میں نامزد کردیا گیا تھا اور 14فروری 2018 کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان پرفردِ جرم عائد کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: رؤف صدیقی کو پیشی کیلئے سمن جاری

قبل ازیں نیب نے ایم کیو ایم کے سابق سینیٹر اور وفاقی وزیر بابر غوری اور دیگر رہنماؤں کے خلاف پونے 3 ارب سے زائد کرپشن کے الزام پر تفتیش کے بعد احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

جس پر احتساب عدالت نے ریفرنس کو سماعت کے لیے منظور کرنے کے ساتھ ہی بابر غوری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے تھے۔