سپریم کورٹ کی اسکول کی زمین پر تجاوزات کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2019

ای میل

ٹرسٹ کی زمین کو ریگولرائز کرنا غیرقانونی ہے، جسٹس گلزار احمد — فائل فوٹو: اے ایف پی
ٹرسٹ کی زمین کو ریگولرائز کرنا غیرقانونی ہے، جسٹس گلزار احمد — فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ نے گجرانوالہ میں لڑکیوں کے اسکول پر تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب یوسف نعیم کھوکر کو کل تک مسئلہ حل کرنے کی ہدایت جاری کردی۔

سماعت کے آغاز میں 3 رکنی عدالتی بینچ نےاستفسار کیا کہ محکمہ تعلیم کو عطیہ کی گئی زمین پر بنائی گئی تجاوزات ریگولرائز کیسے ہوئیں۔

عدالتی بینچ نے مزید پوچھا کیا کہ ٹرسٹ کی زمین پر کچی آبادی کیسے بن گئی؟۔

دورانِ سماعت عدالتی بینچ کے رکن جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ’ٹرسٹ کی زمین کو ریگولرائز کرنا غیرقانونی ہے‘۔

مزید پڑھیں: کراچی میں رہائشی جگہ پر قائم اسکولوں اور کاروبار کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

عدالت میں موجود ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فیصل چوہدری نے بتایا کہ حکومت صوبائی محکمہ تعلیم کو متبادل زمین دینے کے لیے تیارہے جس پر جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ اسکول کے لیے زمین 13کلومیٹر دور دینے کا کیا جواز ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا حکومت ہمیں لالی پاپ دے رہی ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ آپ کچی آبادی کو منتقل کیوں نہیں کرتے؟ بچے 13 کلومیٹر دور کیسے جائیں گے؟

انہوں نے حکام کی جانب سے غیرقانونی کارروائیوں میں ملوث عہدیداران کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے متعلق آگاہ کیے جانے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: تجاوزات کے خلاف آپریشن، صدر میں ٹھیلے اور پتھارے دوبارہ لگ گئے

جسٹس گلزار احمد نے خبردار کیا کہ چیف سیکریٹری پنجاب مسئلہ حل کریں ورنہ نتائج بھگتیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ’ اگر چیف سیکریٹری ایک چھوٹا سا مسئلہ بھی حل نہیں کرسکتے تو وہ عہدے پر کیوں ہیں‘؟

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔