کراچی: گداگروں کےخلاف کریک ڈاؤن کی تیاری، 50 مقامات کی نشاندہی

اپ ڈیٹ 14 مارچ 2019

ای میل

ہم پولیس نظام میں مزید بہتری کے لیے کوشاں ہیں، امیر احمد شیخ — فائل فوٹو / اے ایف پی
ہم پولیس نظام میں مزید بہتری کے لیے کوشاں ہیں، امیر احمد شیخ — فائل فوٹو / اے ایف پی

کراچی پولیس نے گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے تقریباً 50 مقامات کی نشاندہی کرلی۔

کورنگی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے بتایا کہ ’پولیس نے تقریباً 50 عوامی مقامات کی نشاندہی کرلی ہے جہاں گداگروں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوگا‘۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے شہری کی ہلاکت، 4 اہلکار گرفتار

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے شہر میں ویلفیئر ہوم (رفاہی ادارے) کے قیام کی غرض سے صوبائی حکومت سے رابطہ کیا ہے، جس کے امور مخیر حضرات کے تعاون سے چلائے جائیں گے۔

ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے بتایا کہ ’گداگروں کی گرفتاری اور ان پر جرمانہ عائد کرنا مسئلے کا حل نہیں کیونکہ والدین سمیت بچے بھی پیشہ وارانہ گداگری کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ گداگروں کی گرفتاری، انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کرنا پولیس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے جبکہ عدالیہ چاہتی ہے کہ ’ویلفیئر ادارے بھی قائم کیے جائیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ گداگر اپنے بچوں کے ہمراہ آتے ہیں اور پولیس بچوں کو ان کی ماں یا باپ سے علیحیدہ نہیں کرسکتی‘۔

آئی جی کراچی نے بتایا کہ ’رفاہی ادارے کی عدم موجودگی کے باعث ججز بھی محض معمولی جرمانہ عائد کرکے گداگروں کو رہا کردیتے ہیں‘۔

’پولیس نظام میں بہتری کے لیے کوشاں ہیں‘

سی ویو پر شادی شدہ جوڑے پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے والے 4 پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیے جانے سے متعلق ایڈیشنل آئی جی کراچی نے یقین دلایا کہ شہریوں کے ساتھ تضحیک اور نارواسلوک برتنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی فورس میں موجودگی کی ہرگز گنجائش نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم پولیس نظام میں مزید بہتری کے لیے کوشاں ہیں اور پولیس کلچر میں سیمینارز سمیت متعدد اقدامات اٹھائے جارہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’محض چند اہلکاروں کے قابل اعتراض عمل کے نتیجے میں پوری فورس کو بدنام نہیں ہونے دیں گے‘۔

مزید پڑھیں: سندھ پولیس میں جعلی بھرتیوں کی تحقیقات کا حکم

ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’سوشل میڈیا پر برسوں پرانی ویڈیوز کے ذریعے پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘۔

واضح رہے کہ 12 مارچ کو سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وردی میں ملبوس پولیس اہلکاروں کی جانب سے خاتون پر تشدد اور سارے واقعے کو ریکارڈ کرنے والے شخص سے موبال فون چھینے کی کوشش کی گئی۔

ویڈیو میں مرد کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’میں اپنی اہلیہ کے ساتھ کھڑا تھا کہ یہ (پولیس اہلکار) آئے اور بندوق ہماری طرف کرتے ہوئے رقم کا مطالبہ کیا‘۔

مزید پڑھیں: کراچی: قتل، بھتہ خوری میں ملوث پولیس اہلکار سمیت 3 ملزمان گرفتار

بعدازاں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جنوبی پیر محمد شاہ کا کہنا تھا کہ یہ ناخوشگوار واقعہ اتوار کی صبح پیش آیا اور 3 پولیس اہلکار براہ راست اس واقعے میں ملوث پائے گئے،

منشیات کا ’جرم‘ ناقابل ضمانت قرار دینے کے لیے سنجیدہ کوشش

تعلیمی اداروں میں منشیات سے متعلق ایڈیشنل آئی جی کراچی نے زور دیا کہ ’قانون میں ترمیم کی اشد ضرورت ہے جس کی بنیاد پر منشیات فروش آسانی کے ساتھ ضمانت حاصل کرلیتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پولیس نے انسداد منشیات فورس سے منشیات کی وبا کے خاتمے کے لیے تعاون طلب کیا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت، آئی جی سندھ کے درمیان لفظی جنگ میں شدت

واضح رہے کہ موجودہ قانون کی رو سے ایک سے 100 گرام منشیات کا ملزم عدالت سے ضمانت لے سکتا ہے جبکہ ایک گرام آئس منشیات 4 افراد کے لیے بہت ہوتی ہے اور اس کی قیمت 700 روپے سے 2 ہزار کے درمیان ہوتی ہے۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ پولیس نے متعلقہ حکام کو مراسلہ لکھا جس میں قانونی ترمیم کرکے منشیات فروشی ناقابل ضمانت قرار دینے پر زور دیا۔