’این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والا 3 فیصد حصہ قبائلی علاقوں پر خرچ کریں گے‘

اپ ڈیٹ 15 مارچ 2019

ای میل

ہم ملک کی ترقی کے لیے ہر کسی سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، وزیراعظم — فوٹو: ڈان نیوز
ہم ملک کی ترقی کے لیے ہر کسی سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، وزیراعظم — فوٹو: ڈان نیوز

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہم این ایف سی ایوارڈ میں سے ملنے والا 3 فیصد حصہ قبائلی علاقوں میں ترقی کے لیے خرچ کریں گے۔

ضلع باجوڑ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں قبائلی علاقوں میں جو جنگ ہوئی اس سے لوگوں کے روزگار کو نقصان پہنچا،ان کی دکانیں، کاروبار اور روزگار کے طریقے تباہ ہوئے،لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی۔

وزیراعظم عمران خان نے قرآن کریم کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انشااللہ آپ کا آسانی کا وقت شروع ہوگیا، مشکل وقت سے میرے قبائلی علاقے کے لوگ نکل چکے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں الیکشن ہیں اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہندوستان کی ایک جماعت نفرتیں پھیلا کر الیکشن جیتا چاہتی ہے ،انہوں نے ایک واردات کی اور ہماری ایئرفورس نے صحیح معنوں میں ملک کا دفاع کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم امن چاہتی ہے، ہم سب سے امن چاہتے ہیں،ہم تمام ہمسائیوں سے امن چاہتے ہیں کیونکہ ہم اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرنا چاہتے ہیں،ہم اپنے لوگوں کے لیے خوشحالی لانا چاہتے ہیں، ہم یہاں سرمایہ کاری کروانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ دہشتگردی، اسلامو فوبیا کا شاخسانہ ہے، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم نے کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن کبھی غلطی سے بھی کوئی اسے ہماری کمزوری نہ سمجھے۔

عمران خان نے کہا کہ یہ قوم امن چاہتی ہے اور اس لیے ہم بار بار ہندوستان سے کہہ رہے ہیں کہ جنگ لڑنے کی بجائے ہم تجارت کریں اور کشمیر کا مسئلہ بات چیت سے حل کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر جو ظلم ہورہا ہے ساری دنیا دیکھ رہی ہے،کشمیر کے عوام کو ان کی دلیری پر سلام پیش کرتا ہوں کہ جس طرح وہ آزادی کی تحریک چلارہے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان میں الیکشن ہورہے ہیں اس لیے اگلے 30 دن ہمیں دھیان رکھنا پڑا گے کیونکہ ہمیں خوف ہے کہ ہندوستان کی جانب سے انتخابات جیتنے کے لیے قسم کی کارروائی کی جائے اس لیے ہماری سیکیورٹی فورسز،پولیس اور خاص طور پر قبائلی علاقے کے لوگوں کو چوکنا رہنا ہے اور اپنی حفاظت کے لیے تیار رہنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں انٹرنیٹ لانے سے متعلق جوش دیکھ کر خوشی ہوئی،باجوڑ کے نوجوان شعور رکھتے ہیں، اسلام آباد پہنچتے ہی محمود خان سے رابطہ کرکے آپ کو انٹرنیٹ پہنچانے کی کوشش کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں جنگ کی وجہ سے تباہی ہوئی ابھی بھی بڑی تعداد میں گھر اور دکانیں گری ہوئیں ہیں ایک فیصلہ ہوا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ سے تمام صوبے اپنے حصے سے 3 فیصد پیسہ قبائلی علاقے کو دیں گے۔

انہوں نے کہا این ایف سی ایوارڈ میں سے قبائلی علاقے کو پیسہ دینے کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا سے متعلق کہہ سکتا ہوں کیونکہ وہاں ہماری حکومت ہے لیکن بلوچستان اور سندھ کو آج یہاں سے کہنا چاہتا ہوں کہ دیکھیں آپ کو یہ 3 فیصد فنڈ اس لیے دینا چاہیے کیونکہ قبائلی علاقے کے لوگوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں دیں۔

یہ بھی پڑھیں: اگلے پی ایس ایل کے تمام میچز پاکستان میں ہوں گے، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ جو بھی انسان پیچھے رہ جائے ہمارا فرض ہے کہ اس کی مدد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ مغربی جرمنی آگے بڑھ گیا تھا اور مشرقی جرمنی پیچھے رہ گیا تھا، مغربی جرمنی کے لوگوں نے پیسہ اکٹھا کیا اور مشرقی جرمنی کے عوام کو آگے بڑھنے میں مدد دی۔

عمران خان نے کہا کہ اگر وہ کرسکتے ہیں تو کیا پاکستان کے تمام صوبے قبائلی علاقوں کو آگے بڑھنے میں مدد دینے کے لیے صرف 3 فیصد نہیں دے سکتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر قبائلی علاقوں کی مدد نہ کی تو جو حالات ہیں یہاں پیسہ خرچ نہیں کیا تو دشمن یہاں انتشار پھیلانے کی کوشش کریں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دشمن، بے روزگار افراد کو ملک کے خلاف اکسانے کی کوشش کریں گے اور اگر خدانخواستہ ہمیں پھر سے قبائلی علاقوں میں آپریشن کرنا پڑا تو یہ 3 فیصد سے کئی گنا زیادہ خرچہ کرنا پڑے گا۔

عمران خان نے کہا کہ میرا وعدہ ہے کہ ہم این ایف سی ایوارڈ میں 3 فیصد قبائلی علاقوں میں ترقی کے لیے خرچ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کی ترقی کے لیے ہم ہر کسی سے بات چیت کے لیے تیار ہیں،مودی سے بات چیت کرنے ک لیے تیار ہوں، وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں آنے والے دنوں میں ایک ایسی حکومت آئے گی جس سے جنگ ختم ہوگی، امن قائم ہوگا۔

قبائلی علاقوں کی انتظامی اصلاحات سے متعلق اجلاس

سرکاری خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی ) کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت مہمند کے ہیڈ کوارٹر غلنئی میں قبائلی علاقہ جات) کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے حوالے سے انتظامی اصلاحات اور سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق اجلاس ہوا۔

اجلاس میں سابقہ قبائلی علاقہ جات میں انتظامی اصلاحات، عوامی نمائندگی و مقامی حکومتوں کے نظام، عوامی فلا ح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم کو قبائلی علاقوں سے متعلق وفاقی حکومت کے روڈ میپ کی تکمیل کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ انضمام شدہ علاقوں میں عدالتی نظام کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ انضمام شدہ علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں کو کرپشن سے پاک رکھا جائے اور فنڈز کی منصفانہ تقسیم کو بھی یقینی بنایا جائے۔