پاکستان کا نریندر مودی سے ’چیمپئن آف اَرتھ‘ کا خطاب واپس لینے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 15 مارچ 2019

ای میل

بھارت کی جانب سے پاکستان کے ماحولیاتی اثاثوں پر کیا گیا حملہ ماحولیاتی دہشت گردی سےکم نہیں— فوٹو: آئی ایس پی آر
بھارت کی جانب سے پاکستان کے ماحولیاتی اثاثوں پر کیا گیا حملہ ماحولیاتی دہشت گردی سےکم نہیں— فوٹو: آئی ایس پی آر

وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی نے حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے جنگلات پر کیے گئے حملے کو ’ماحول مخالف‘ قرار دیتے ہوئے نریندر مودی سے ’چیمپئن آف اَرتھ‘ کا خطاب واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم خان کی جانب سے عالمی حکام کو بھیجے گئے ڈوزیئر میں 26 فروری کو پاکستان میں بھارتی فضائیہ کی جارحیت سے متعلق حقائق اور اس کے نتیجے میں ماحولیاتی اثاثوں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔

ڈوزیئر کے مطابق بھارتی ملٹری طیارے سے گرایا گیا پے لوڈ ایک ایسے علاقے میں گرا جسے خیبرپختونخوا جنگلات آرڈیننس 2002 کے سیکشن 20 کے تحت قانونی تحفظ حاصل ہے۔

مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی نے کہا کہ ایسے کسی جنگل جو پہنچنے والا نقصان قانون کے سیکشن 26 کے مطابق قابل سزا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی ایئر فورس کی دراندازی کی کوشش، پاک فضائیہ کا بروقت ردِ عمل

قانون کے مطابق جنگل کو نقصان پہنچنے کے نتیجے میں ذمہ داران 2 سال سے زائد قید یا ایک لاکھ روپے سے زائد نقصان پر کم از کم ایک برس قید کی سزا کے مستحق ہیں۔

ڈوزیئر میں کہا گیا کہ بھارتی جارحیت سے متاثر ہونے والا جنگلاتی علاقہ خیبرپختونخوا حکومت کے بلین ٹری سونامی (بی ٹی ٹی) پروجیکٹ کا حصہ ہے، جس کے تحت اب تک 6 لاکھ ہیکٹر علاقے پر جنگل کامیابی سے اگانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

اس میں مزید کہا گیا کہ بلین ٹری سونامی منصوبے کو عالمی ماحولیاتی اداروں کی توجہ بھی حاصل ہے جن میں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این)، ورلڈ وائد فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف)ا ور ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) شامل ہیں۔

مزید برآں اس میں عالمی حکام کو یاد دہانی کروائی گئی کہ گلوبل ’بون چیلنج‘ کے تحت بلین ٹری سونامی منصوبہ اپنے ہدف پر پہنچنے والا پہلا منصوبہ ہے۔

ڈوزیئر میں اقوام متحدہ کو آگاہ کیا گیا کہ وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے متاثرہ علاقے کی آزاد ’نیچرل ریسورس ڈیمج ایسسیمنٹ‘ کی ذمہ داری ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کو دی گئی تھی۔

ماہرین کی ٹیم میں عالمی تنظیموں کے تکنیکی افراد شامل تھے جس میں 'آئی یو سی این' اور 'ڈبلیو ڈبلیو ایف' شامل ہیں۔

ڈوزیئر میں کہا گیا کہ ماہرین نے علاقے میں کاربن کے ذخائر میں کمی اور قیمتی حیاتیاتی نظام کے نقصان سے متعلق آگاہ کیا۔

ڈوزیئر میں اصرار کیا گیا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے ماحولیاتی اثاثوں پر کیا گیا حملہ ’ماحولیاتی دہشت گردی‘ سےکم نہیں سمجھا جاسکتا۔

ڈوزیئر میں بتایا گیا کہ انسائیکلوپیڈیا بریٹینکا کے مطابق ’ریاست، گروہوں یا انفرادی شخص کی جانب سے حکومتوں اور شہریوں پر طاقت کا استعمال ماحول کی تباہی یا تباہی کا خطرہ ماحولیاتی دہشت گردی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ نے پاکستانی حدود میں بھارتی دراندازی کی کوشش ناکام بنادی

اس کے علاوہ ڈوزیئر میں روم اسٹیٹیوٹ آف دی انٹرنیشنل کرمنل کورٹ، خاص طور پر اس کے آرٹیکل 8 (2)( اے) (iv) اور آرٹیکل 8 (2) (بی) (ii) اور (iv) کا حوالہ دیا گیا، جنہیں جب ایک ساتھ پڑھا جائے تو بھارت کا یہ عمل ’جنگی جرائم‘ جتنا سنگین معلوم ہوتا ہے۔

مزید برآں 12 اگست 1949 کے جینیوا کنونشن کے پروٹوکول کے آرٹیکل 35(3) اور 55(1) کے مطابق کے وہ جنگ جو ’وسیع علاقے تک ماحول کو طویل المدتی اور شدید نقصان پہنچائے‘ اور ’ جنگ کے دوران ماحول کے خلاف حملے‘ واضح طور پر ممنوع ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر نے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ’بھارتی اقدام عالمی طور پر منظور کیے گئے کنونشنز کی خلاف ورزی ہے‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’واضح طور پر بھارت نے عالمی ماحولیاتی اہمیت کے حامل علاقے میں خوف پھیلانے کے لیے پاکستان کے فطری اثاثوں کو سرجیکلی نشانہ بنایا۔

ڈوزیئر میں کہا گیا کہ ’پاکستان کا ماحول اس غیر انسانی جارحیت کا خاموش شکار ہے، جو مختلف عالمی کنونشنز کے تحت بھارت کے فرائض اور عزائم پر سوال ہے‘۔

حقائق کو بیان کرتے ہوئے پاکستان نے نقصان کے ازالے کے لیے چند اقدامات لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈوزیئر میں کہا گیا ہے کہ ’ فطرت کے خلاف حملے ‘ کا بائیکاٹ کیا جائے اور عالمی برادری کی جانب سے اس کی مذمت کی جائے۔

پاکستان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس غیر قانونی عمل کے ذمہ دار شخص نریندر مودی سے ‘چیمپئن آف ارتھ‘ کا خطاب واپس لیا جائے، جو انہیں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی جانب سے دیا گیا تھا کیونکہ ان کے اقدامات اس اعزاز کے خلاف ہیں۔