نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق حکومت کی اپوزیشن سے مشاورت

اپ ڈیٹ 18 مارچ 2019

ای میل

وزیر خارجہ نے اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کو مدعو کردیا—فوٹو: دفتر خارجہ
وزیر خارجہ نے اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کو مدعو کردیا—فوٹو: دفتر خارجہ

اسلام آباد: فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے سے 2 ہفتے قبل حکومت نے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر عمل درآمد کے حوالے سے مشاورت کے لیے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں سے رابطہ کر کے انہیں 28 مارچ کو معاملے پر بریفنگ دینے کے لیے مدعو کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے نائب صدر اور وزیر خارجہ شاہ محود قریشی نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی بریفنگ میں شرکت کے لیے تمام پارلیمانی رہنماؤں کو خطوط ارسال کردیے۔

خط میں وزیر خارجہ نے 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بننے والے نیشنل ایکشن پلان کا ذکر تو کیا لیکن اسی کے تحت دہشت گردی کے مقدمات چلانے کے لیے تشکیل دی جانی والی فوجی عدالتوں کا ذکر موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فوجی عدالتوں کو 3 ماہ میں 185 مقدمات کے فیصلے کرنے ہیں، وزیر دفاع

اپوزیشن رہنماؤں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ مشاورت اور پیغام فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لیے ہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت میں موجود ذرائع کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ حکومت نے اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کا فیصلہ اس لیے کیا کہ ترمیمی بل کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں 2 تہائی اکثریت موجود نہیں۔

اس ضمن میں رہنما مسلم لیگ (ن) اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وزیر خارجہ کی جانب سے مدعو کرنے کا خیر مقدم کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کو جو بھی بریفنگ دینی ہے اسے قومی اسمبلی میں دیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ پھانسی اور عمر قید کے 74 ملزمان رہا کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ قومی معاملے کی اہمیت کی نوعیت کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، وزیراعظم عمران خان کو لگتا ہے کہ پارلیمنٹ سے مشاورت کی صورت میں ان کا رتبہ کم ہو جائے گا جو قابلِ قبول نہیں۔

اس ضمن میں جب پاکستانی پیپلز پارٹی کی سینیٹ میں پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھاکہ فی الحال انہیں کسی اجلاس کا دعوت نامہ موصول نہیں ہوا تاہم قومی معاملات پر اپوزیشن نے ہمیشہ حکومت کا ساتھ دینے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے جسے حکومت نے کبھی اہمیت نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت پاکستان کی درمیان کشیدگی پر سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ میں تمام سیاسی جماعتیں اکٹھا ہوئیں لیکن وزیراعظم نے اجلاس میں شرکت کی زحمت نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ 7 ملزمان کی سزائے موت معطل

اس سلسلے میں پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال کی توسیع کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے لیے پیش کیا جانے والا بل بھی تیار کیا جاچکا ہے۔

دوسری جانب دورہ چین پر روانہ ہونے سے قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ انہوں نے اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کےصدر میاں شہباز شریف اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے مشاورت کی ہے۔