نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ میں قرآن کی تلاوت، وزیرِاعظم کا 'السلامُ علیکم' سے خطاب کا آغاز

اپ ڈیٹ 19 مارچ 2019

ای میل

آپ مجھے کبھی اس (دہشت گرد)  کا نام لیتے ہوئے نہیں سنیں گے — فوٹو: نیوزی لینڈ ہیرالڈ
آپ مجھے کبھی اس (دہشت گرد) کا نام لیتے ہوئے نہیں سنیں گے — فوٹو: نیوزی لینڈ ہیرالڈ

نیوزی لینڈ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی اجلاس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا جبکہ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے سلام سے خطاب کا آغاز کیا۔

نیوزی لینڈ ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں اسپیکر ٹریور مالارڈ کی قیادت میں منعقد خصوصی اجلاس میں تمام مذاہب کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملے کے بعد پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا آغاز قرآن پاک کی سورۃ البقرہ کی آیات 153-156 کی تلاوت سے ہوا۔

واضح رہے کہ سورۃ البقرہ کی ان آیات میں ایمان والوں کو صبر کی تلقین کی گئی ہے جبکہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ نہ کہنے کا حکم ہے، ان آیات میں جان و مال سے آزمائے جانے کا بھی ذکر ہے۔

قرآن پاک کی تلاوت کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اجلاس سے خطاب کا آغاز سلام سے کیا۔

مزید پڑھیں: کرائسٹ چرچ حملے کے دہشت گرد نے 2016 میں اسرائیل کا دورہ کیا، حکام

انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی دہشت گرد کو اس دہشت گردی سے بہت سی چیزیں مطلوب تھیں وہ شہرت (بدنامی) کی تلاش میں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’ آپ مجھے کبھی اس (دہشت گرد) کا نام لیتے ہوئے نہیں سنیں گے، وہ ایک دہشت گرد ہے، مجرم ہے،وہ ایک انتہا پسند ہے لیکن جب میں اس کے حوالے سے بات کروں گی تو وہ بے نام ہوگا‘۔

جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ’ان کا نام لیں جنہیں اس حادثے میں کھودیا نہ کہ اس شخص کا جو اس کا ذمہ دار ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ اسے شاید شہرت کی تلاش ہوگی لیکن ہم نیوزی لینڈ میں اسے کچھ نہیں دیں گے، اس کا نام بھی نہیں‘۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت متاثرین کا خیال اور سب کی حفاظت ضروری ہے‘۔

وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم آپ کا غم نہیں جان سکتے لیکن ہم ہر مرحلے پر آپ کا ساتھ دے سکتے ہیں، ہم محبت، مہمان نوازی سے آپ کا ساتھ دے سکتے ہیں اور دیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ: کابینہ نے بندوق قوانین میں ترامیم کی منظوری دے دی

نیوزی لینڈ کے نائب وزیراعظم اور وزیر برائےخارجہ امور ونسٹن پیٹرس نے اس مشکل گھڑی میں جیسنڈا آرڈرن کی کارکردگی کو سراہا۔

ونٹسن پیٹرس نے کہا کہ ’ان کی وضاحت، ہمدردی اور متحد قیادت ملک کو اس آزمائش کے حل میں مدد دے رہی ہے، ہم اس مثال پر عمل کریں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی لائی گئی اور یہ ایک بزدلانہ کام تھا۔

جنازوں میں تاخیر:

دنیا بھر سے مقتولین کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی متوقع نماز جنازہ کے لیے نیوزی لینڈ پہنچے تاہم نماز جنازہ میں 24 گھنٹوں کی تاخیر کردی گئی۔

خیال رہے کہ اسلامی روایات کے مطابق لاشوں کو فوری طور پر غسل دینے کے بعد جلد سے جلد دفنانے کے احکامات موجود ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’حکام کو امید ہے کہ لاشوں کو آئندہ روز تک ان کے اہلخانہ کے سپرد کردیا جائے گا‘۔ نیوزیلینڈ کے امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے پیٹر ایلمز کا کہنا تھا کہ مقتولین کے اہلخانہ کو 65 ویزے جاری کیے گئے ہیں۔

مقتولین کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ شناخت اور فارنزک کے سست عمل سے تدفقین میں مشکل ہوگئی ہے۔

آکلینڈ سے اپنے کزن کی تدفین کے لیے نیوزی لینڈ پہنچنے والے جاوید دادابھائی کا کہنا تھا کہ مقتولین کے اہلخانہ اور رضاکاروں کو بتایا گیا ہے کہ ’یہ انتہائی سست اور مکمل عمل ہوگا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’چند خاندانوں کو اپنے پیاروں کے دیدار کا موقع دیا گیا ہے جن کی با آسانی شناخت کی جاسکتی تھی تاہم ایسے بہت کم ہیں بلکہ 3 یا 4 ہی ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’زیادہ تر افراد کو اب تک اپنے پیاروں کے دیدار کا موقع نہیں ملا ہے‘۔

23 سالہ محمد سفی جن کے والد متیع اللہ سفی النور مسجد میں شہید ہوئے تھے، نے حکام سے استدعا کی کہ انہیں ان کے والد کی شناخت کی اجازت دی جائے اور ان کی تدفین کی تاریخ دی جائے۔

افغان پناہ گزین، سفی کا کہنا تھا کہ ’وہ ہمیں کچھ بھی نہیں دے رہے اور صرف کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی کارروائی مکمل کر رہے ہیں، لیکن کونسی کارروائی، میں یہ کیون نہیں جانتا کہ آپ لاشوں کی شناخت کے لیے کیا کر رہے ہیں، مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا جارہا‘۔

ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس نے تمام 50 لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرلیا ہے جن میں سے 12 کی شناخت کی جاچکی ہے اور 6 کو ان کے اہلخانہ کو واپس کردیا گیا ہے۔

کرائسٹ چرچ میں زندگی معمول پر آنا شروع

دریں اثنا کرائسٹ چرچ میں زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے، ہسپتالوں کے اطراف میں 4 روز سے بن سڑکوں کو کھول دیا گیا ہے۔

کینٹر بری ڈسٹرکٹ ہیلتھ بورڈ کے سی ای او ڈیوڈ میٹس کا کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ ہسپتال میں 30 افراد کا علاج جاری ہے جن میں سے 9 کی حالت تشویش ناک ہے۔

اسلحہ پر کنٹرول

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسلحہ کی ملکیت کے حوالے سے حکومت کے پیش کردہ قوانین میں تبدیلی کا آئندہ ہفتے اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اسلحے کی خریداری اور چند نیم خودکار رائفلز پر پابندی پر غور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کرائسٹ چرچ پر دہشت گردی کا حملہ ہماری زمین پر دہشت گردی کا سب سے گھناؤنا واقعہ تھا، بلکہ حالیہ وقتوں میں عالمی سطح پر سب سے گھناؤنا تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس حملے سے نیوزی لینڈ کے اسلحہ قوانین میں کمزوری عیاں ہوئی ہے‘۔

انہوں نے اعلان کیا کہ دہشت گرد اور اس کے منصوبے کے حوالے سے خدشات کی تشخیص کے حوالے سے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سروسز کی کی ناکامی پر انکوائری کی جائے گی۔

نیوزی لینڈ کی عالمی خفیہ ادارہ گورنمنٹ کمیونکیشنز سیکیورٹی بیورو نے تصدیق کی کہ انہیں حملے کے حوالے سے کوئی متعلقہ معلومات موصول نہیں ہوئی تھی۔

نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کے روز النور مسجد اور لِین ووڈ میں دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے اس وقت داخل ہوکر فائرنگ کی تھی جب بڑی تعداد میں نمازی، نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد میں موجود تھے۔

اس افسوسناک واقعے میں 50 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے تھے اور نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے حملوں کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

فائرنگ کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم بھی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچی تھی تاہم فائرنگ کی آواز سن کر بچ نکلنے میں کامیاب رہی اور واپس ہوٹل پہنچ گئی۔

مذکورہ واقعے کے بعد کرائسٹ چرچ میں بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان ہفتے کو ہونے والا تیسرا ٹیسٹ منسوخ کردیا گیا اور بعد ازاں بنگلہ دیش نے فوری طور پر نیوزی لینڈ کا دورہ ختم کرنے کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں دہشت گرد حملے، 49 افراد جاں بحق

مسجد میں فائرنگ کرنے والے دہشت گرد نے حملے کی لائیو ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی، جسے بعد میں نیوزی لینڈ حکام کی درخواست پر دل دہلا دینے والی قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا سے ہٹادیا گیا۔

بعد ازاں نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والے دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ملزم پر قتل کے الزامات عائد کردیے گئے تھے۔

اس کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کی کابینہ نے آج بندوق کے قوانین میں اصلاحات کرتے ہوئے سخت قوانین کی منظوری دے دی ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا کہ ان اصلاحات کا مطلب یہ ہو گا کہ اس بدترین واقعے کے 10دن کے اندر ہی اصلاحات کا اعلان کردیں گے جس سے میرا ماننا ہے کہ ہمارا معاشرہ محفوظ ہو گا۔