پی آئی اے ملازمین کی برطرفی پر سینیٹ پینل میں اختلاف

21 مارچ 2019

ای میل

مسلم لیگ ن نے ملازمین سے نرم رویہ رکھنے کی درخواست کی جبکہ تحریک انصاف نے برطرف کرنے کی حمایت کی— فائل فوٹو: اے ایف پی
مسلم لیگ ن نے ملازمین سے نرم رویہ رکھنے کی درخواست کی جبکہ تحریک انصاف نے برطرف کرنے کی حمایت کی— فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: جعلی ڈگری کے حامل پاکستان ایئر لائنز کے ملازمین کی برطرفی کے معاملے پر پارلیمانی باڈی کے اراکین دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کے چیئرمین سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ کچھ ملازمین نے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو سے اپیل کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے کیسز کا دوبارہ جائزہ لیں خصوصاً جب کچھ ملازمین کو معمولی نوعیت کی سزائیں دے کر نوکری جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: جمشید دستی ایل ایل بی کے امتحان میں ناکام

البتہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ ملازمت کے وقت جعلی ڈگریاں جمع کرانے والے ملازمین سے سختی سے نمٹنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگریاں جمع کرناے کے جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نوکری سے برطرف کرنے کا اقدام بالکل مناسب ہے، حقیقتاً ایسے ملازمین کے خلاف بھی سخت اقدامات کرنے چاہئیں جنہوں نے ان ملازمین کی تقرریوں کے وقت جعلی دستاویزات کو نظرانداز کیا۔

کمیٹی نے جعلی ڈگریوں کے سبب برطرف کیے جانے والے پی آئی اے ملازمین کے کیس پر گفتگو کے لیے ملاقات کی۔

ابتدائی طور پر ملازمین سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رعایت برتنے کی تجویز پیش کرنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے غیرجانبدار رہتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے اس معاملے پر گفتگو پر کافی وقت صرف کردیا ہے اور اب اس معاملے کو اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔

گزشتہ پانچ اجلاسوں میں کمیٹی جعلی ڈگری کے حامل 7پائلٹ اور 73کیبن کریو کو برطرف کرنے پر پی آئی اے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہتی رہی کہ ملازمین کی برطرفی کے لیے قوانین پر عمل نہیں کیا گیا۔

بدھ کو اجلاس کے دوران مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما مشاہداللہ خان نے کہا کہ پی آئی اے انتظامیہ نے جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کیے بغیر انہیں براہ راست نوکری سے برخاست کردیا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں 15 سے 20سال کی نوکری کے بعد ان ملازمین کو برطرف کرنا نامناسب ہے خصوصاً جب وہ اپنی عمر کے ایک ایسے حصے میں داخل ہو گئے ہوں جب انہیں کہیں اور ملازمت نہیں ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ڈریپ کے سربراہ پی ایچ ڈی کی جعلی ڈگری پر برطرف

انہوں ے مطالبہ کیا کہ اگلے اجلاس میں پی آئی اے انتظامیہ اس بعد کی وضاحت کرے کہ کیوں چند ملازمین کو نوکری پر برقرار رکھا گیا جبکہ بقیہ کو برطرف کردیا گیا ۔

ملازمت کے موقع پر پی آئی اے میں 710اسٹاف منبران نے جعلی ڈگریاں جمع کرائی تھیں، ان میں 467 کو برطرف کردیا گیا جبکہ 201 نے عدالت سے حکم امتناع حاصل کر لیا جبکہ 42 کو ڈسپلنری کارروائی کا سامنا ہے۔

اجلاس کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ تمام مقامی ایئرلائنز کے 16پائلٹ نے جعلی ڈگریاں جمع کرائی تھیں۔