سپریم کورٹ: رجسٹرار کا اعتراض ختم، شوکت عزیز کی درخواست سماعت کیلئے منظور

اپ ڈیٹ 25 مارچ 2019

ای میل

شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ججز میں سے ایک تھے—فائل فوٹو: ڈان نیوز
شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر ججز میں سے ایک تھے—فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

اس دوران عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کرتے ہوئے درخواست ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرلی اور سابق جسٹس کی اپیل کو نمبر لگانے کا حکم دے دیا۔

واضح رہے کہ سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپنی برطرفی کے نوٹیفکیشن کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی تھی، جس پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کردیے تھے۔

مزید پڑھیں: سابق جج شوکت صدیقی کی درخواست پر اعتراضات ختم، سماعت کیلئے منظور

واضح رہے کہ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 11 اکتوبر 2018 کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا، جسے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا تھا، جس کے بعد 26 اکتوبر 2018 کو رجسٹرار آفس کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ اس اپیل پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے اپنے چیمبر میں سماعت کی تھی اور معاملے کو مزید دیکھنے کے لیے 5 رکنی بینچ تشکیل دے دیا تھا۔

یاد رہے کہ 11 اکتوبر 2018 کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کی سفارش پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو متنازع تقریر کے معاملے پر انہیں ان کے عہدے سے برطرف کردیا تھا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو اداروں کے خلاف متنازع تقریر کے معاملے پر عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔

متنازع تقریر کا معاملہ

یاد رہے کہ 21 جولائی کو راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔

یہ بات جسٹس صدیقی نے اس وقت کہی جب شریف خاندان کی پاناما اپیلوں پر ہائیکورٹ میں سماعت ہورہی تھی اور بینچ بھی تبدیل ہوا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ہمارے چیف جسٹس تک رسائی حاصل کرکے کہا تھا کہ ہم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک باہر نہیں آنے دینا‘۔

اپنے خطاب کے دوران بغیر کسی کا نام لیے انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ’مجھے پتہ ہے سپریم کورٹ میں کس کے ذریعے کون پیغام لے کر جاتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا احتساب عدالت پر ایڈمنسٹریٹو کنٹرول کیوں ختم کیا گیا‘۔

اس کے بعد 22 جولائی کو اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے متنازع بیان کا نوٹس لے لیا تھا۔

چیف جسٹس نے واضح کیا تھا کہ ’پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں‘، تاہم انہوں نے معاملے کا جائزہ لینے کا عندیہ بھی دیا تھا۔

22 جولائی کو ہی پاک فوج نے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ریاستی ادارے پر لگائے جانے والے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹادیا

جس کے بعد یکم اگست 2018 کو سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ریاستی اداروں کے خلاف تقریر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔

خیال رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں 2 ریفرنسز زیر التوا ہیں، جن میں ایک ریفرنس بدعنوانی سے متعلق ہے، جو کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک ملازم کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف پہلا ریفرنس سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر انور علی گوپانگ نے دائر کیا تھا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کے لیے 80 لاکھ روپے خرچ کیے حالانکہ وہ یہاں یہ رقم خرچ کرنے کے حق دار نہ تھے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف دوسرا ریفرنس نومبر 2017 میں ہونے والے فیض آباد دھرنے میں پاک فوج کے کردار کے بارے میں ان کے ریمارکس سے متعلق ہے، جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے سوالات اٹھائے تھے، یہ ریفرنس ایڈووکیٹ کلثوم خالق نے دائر کیا تھا۔