داخلی سیکیورٹی، ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر اعلیٰ سطح کا اجلاس

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2019

ای میل

اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر بھی بات ہوئی—فوٹو: پی ٹی آئی
اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر بھی بات ہوئی—فوٹو: پی ٹی آئی

وزیر اعظم عمران خان کی صدرات میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک کی داخلی سیکیورٹی اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایکشن پلان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ’اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہریار خان آفریدی، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باوجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی، سیکریٹری خارجہ امور، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی آئی ایس پی آر سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا عسکری تنظیموں کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ’اجلاس میں سیکیورٹی سے متعلق امور زیر بحث آئے‘۔

ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اجلاس میں داخلی سیکیورٹی کے امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق بھی تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ ’اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان سمیت کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے بھی بات ہوئی‘۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران کی صدرات میں دو ہفتے قبل منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں منی لانڈرنگ بات چیت کا مرکز تھا اور حکومت نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے فارن ایکسچینج قوانین میں ترمیم کا فیصلہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: نیشنل ایکشن پلان کے تحت 8 ہزار 'دہشتگرد' گرفتار

قومی سلامتی کمیٹی کے 21 فروری کو ہونے والے اجلاس میں ’کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا‘، اس کے ساتھ جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن پر دوبارہ پابندی لگانے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے معاشرے سے انتہا پسندی اور عسکریت پسندی کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ریاست کو شدت پسندوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے دیں گے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’چین نے مسعود اظہر پر پابندی کی بھارتی کوشش پھر ناکام بنادی‘

اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ’2014 میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا تھا جس کے لیے حکمتِ عملی میں تبدیلی ضروری تھی اور اس طرح کے اقدامات کے لیے وقت درکار ہوتا ہے‘۔