زلمے خلیل زاد، افغان امن معاہدے پر بین الاقوامی حمایت کیلئے سرگرم

28 مارچ 2019

ای میل

زلمے خلیل زاد کا دورہ 10 اپریل تک جاری رہے گا—فوٹوؒ: اے پی
زلمے خلیل زاد کا دورہ 10 اپریل تک جاری رہے گا—فوٹوؒ: اے پی

واشنگٹن: امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے کہا کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو بڑھانے کے لیے ایک بار پھر متحرک ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے اغاز میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے 5ویں دور کا حوالہ دیتے ہوئے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں 2 بھرپور معنی خیز ہفتے گزارنے کے بعد میں دوبارہ اس ماہ کے آغاز میں حاصل کی گئی کامیابیوں پر کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔

ایک اور ٹوئٹ میں زلمے خلیل زاد نے پاکستان کی تعمیری کوششوں کا اعتراف کرتےہوئے کہا کہ ’افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا لیکن وزیراعظم پاکستان نے حالیہ بیان نے متاثر نہیں کیا‘۔

ان کا کہنا تھا افغانستان کا مستقبل افغان عوام کے لیے ہے جس کا فیصلہ صرف افغان کریں گے، اس سلسلے میں بین الاقوامی برادری کا کردار صرف اتنا ہے کہ افغانوں کو قریب لایا جاسکے تا کہ وہ اس حوالے سے کام کریں۔

خیال رہے کہ امریکی سفیر جو طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے تمام ادوار کی سربراہی کررہے ہیں، اس حوالے سے مزید کوششوں کے لیے دو روز قبل امریکا سے روانہ ہوگئے تھے۔

زلمے خلیل زاد اسلام آباد اور کابل کا دورہ کریں گے جو25 مارچ سے شروع ہو کر 10 اپریل تک جاری رہے گا اس کے علاوہ امریکی سفیر امن معاہدے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بیلجیئم، برطانیہ، اردن اور ازبکستان بھی جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے انہوں نے واشنگٹن میں چین، روس اور یورپی یونین کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور طالبان تمام اہم معاملات پر رضامند ہوگئے، زلمے خلیل زاد

تاہم امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے یہ نہیں بتایا کہ اس دورے کے دوران ان کی طالبان نمائندوں سے ملاقات ہوگی یا نہیں البتہ اس بات کی تصدیق ضرور کی کہ وہ قطر کا دورہ کریں گے، خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات عموماً قطر میں ہی ہوتے ہیں۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے مزید کہاکہ خلیل زاد کا دورہ امن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ افغانستان کے تمام فریقین کو ان خصوصی مذاکرات کا حصہ بنایا جا سکے۔