بھارت: انتخابی فہرست سے 2 کروڑ خواتین کے نام غائب

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2019

ای میل

4 کروڑ سے زائد خواتین پہلی بار ووٹ کاسٹ کریں گی—فائل فوٹو: اوکیوپائے ڈاٹ کام
4 کروڑ سے زائد خواتین پہلی بار ووٹ کاسٹ کریں گی—فائل فوٹو: اوکیوپائے ڈاٹ کام

بھارت میں آئندہ ماہ 11 اپریل سے عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جس کے لیے تیاریوں زوروں سے جاری ہیں۔

تقریبا 6 ہفتوں تک رہنے والے لوک سبھا یعنی ایوان زیریں کے انتخابات 7 مراحل میں 19 مئی تک جاری رہیں۔

جہاں بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں، وہیں ان ہی انتخابات کے دوران کچھ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہوں گے۔

رواں برس بھارت میں تقریبا 90 کروڑ افراد اپنا حق رائی دہی استعمال کریں گے۔

اس سال 13 کروڑ نئے ووٹرز بھی پہلی بار اپنا حق رائی دہی استعمال کرتے دکھائی دیں گے۔

آنے والے انتخابات میں جہاں پہلی بار 13 کروڑ افراد ووٹ کاسٹ کریں گے، وہیں پہلی بار 4 کروڑ خواتین بھی اپنا حق رائی دہی استعمال کرتی دکھائی دیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں اپریل سے مئی تک عام انتخابات کا اعلان

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال بھارتی تاریخ میں پہلی بار 2 کروڑ 10 لاکھ خواتین کے نام ووٹرز فہرست سے غائب ہیں۔

کروڑوں لڑکیاں پہلی بار اپنا حق رائی دہی استعمال کریں گی—فوٹو: پاس بلیو ڈاٹ کام
کروڑوں لڑکیاں پہلی بار اپنا حق رائی دہی استعمال کریں گی—فوٹو: پاس بلیو ڈاٹ کام

ویب سائٹ ’دی کوئنٹ‘ نے اپنی رپورٹ میں ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 11 اپریل سے شروع ہونے والے عام انتخابات میں اگرچہ 43 کروڑ سے زائد خواتین اپنا حق رائی دہی استعمال کریں گی۔

تاہم ووٹرز فہرست سے 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد خواتین کے نام غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2011 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق بھارت بھر میں خواتین کی آبادی 45 کروڑ 10 لاکھ ہے جب کہ رجسٹرڈ ووٹرز خواتین کی تعداد 43 کروڑ سےزائد ہے۔

تاہم اب ان رجسٹرڈ خواتین میں سے 2 کروڑ خواتین کے نام ووٹرز فہرستوں سے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جن خواتین کے نام ووٹرز فہرست سے غائب ہیں ان کی عمریں 18 برس سے 35 برس کے درمیان ہیں اور ان میں سے زیادہ تر غیر شادی ہیں۔

مزید پڑھیں: بھارت میں رمضان کے دوران انتخابات کرانے پر تنازع

رپورٹ کے مطابق خواتین کے نام اس لیے فہرستوں سے غائب ہیں کیوں کہ ان کے کنوارپن کی وجہ سے ان کے اہل خانہ نے انہیں ووٹ کاسٹ کرنے سمیت دیگر حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔

اتر پردیش میں سب سے زیادہ خواتین ووٹرز کے نام فہرست سے غائب ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
اتر پردیش میں سب سے زیادہ خواتین ووٹرز کے نام فہرست سے غائب ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں کنواری لڑکیوں سمیت خواتین کو ووٹ دینے کے حق سمیت سیاست میں دلچسپی لینے جیسے معاملات سے خاندان کی جانب سے روکا جاتا ہے اور ان پر اس حوالے سے سخت پابندیاں بھی نافذ کی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2 کروڑ سے زائد خواتین کے نام ووٹرز لسٹ سے غائب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر حلقے سے 38 ہزار خواتین ووٹرز غائب ہیں۔

سب سے زیادہ ریاست اتر پردیش کی خواتین کے نام ووٹرز فہرست سے غائب ہیں جو آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست بھی ہے۔

اس سے قبل ہونے والے انتخابات میں بھی خواتین ووٹرز کے نام فہرست سے غائب رہے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں خواتین ووٹرز کے نام غائب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں انتخابی امیدواروں کیلئے مجرمانہ ریکارڈ کی تشہیر لازمی قرار

ووٹرز فہرست سے غائب خواتین کی تعداد بھارت کے پڑوسی ملک سری لنکا کی مجموعی آبادی کے برابر ہے جب کہ یہ تعداد دنیا کے چند دیگر ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں عام انتخابات 11 اپریل، 18 اپریل، 23 اپریل، 29 اپریل، 6 مئی، 12 مئی اور 19 مئی کو ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو کی جائے گی اور جون میں نئی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

مجموعی طور پر عوام 543 ارکان کو منتخب کرے گا، کسی بھی پارٹی کو حکومت بنانے کے لیے 270 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔

زیادہ تر غیر شادی شدہ لڑکیوں کے نام فہرست سے غائب ہیں—فائل فوٹو: انڈین ایکسپریس
زیادہ تر غیر شادی شدہ لڑکیوں کے نام فہرست سے غائب ہیں—فائل فوٹو: انڈین ایکسپریس