امل کیس: وکیل استغاثہ کو فریقین کے جواب کا جائزہ لے کر رپورٹ جمع کرانےکا حکم

اپ ڈیٹ 28 مارچ 2019

ای میل

سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی —فائل فوٹو: ڈان
سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی —فائل فوٹو: ڈان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 8 سالہ بچی امل کی ہلاکت پر ازخود نوٹس میں وکیل استغاثہ ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کو تمام فریقین کے جواب کا جائزہ لے کر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے کراچی میں پولیس کی فائرنگ سے 8 سالہ بچی امل عمر کی ہلاکت پر ازخود نوٹس پر سماعت کی۔

امل کے والدین کی جانب سے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی عدالت کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: امل ہلاکت کیس: معذرت چاہتا ہوں کہ اس معاملے کو ختم نہیں کرسکا، چیف جسٹس

فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا واقعے پر قائم کردہ کمیشن کی رپورٹ آ گئی ہے جس میں سندھ حکومت، سندھ پولیس، اور نیشنل میڈیکل سینٹر نے جواب جمع کروا دیئے ہیں۔

انہوں نے کمیشن کی جانب سے دی گئی تجاویز عدالت کے سامنے پڑھیں جس پر عدالت نے فیصل صدیقی کو تمام فریقین کے جواب کا جائزہ لے کر تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ ’جواب میں بتائیں کن تجاویز پر عمل درآمد ہو چکا اور کن پر نہیں ہوا، یہ بھی بتائیں کون سی تجاویز قابل عمل نہیں ہیں‘۔

دوران سماعت سانحہ ساہیوال کا بھی تذکرہ ہوا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا سانحہ ساہیوال امل ہلاکت کے بعد ہوا تھا؟

مزید پڑھیں: امل ہلاکت کیس: تحقیقاتی کمیٹی نے پولیس رپورٹ کے جائزے کےلیے مہلت مانگ لی

جس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ سانحہ ساہیوال امل ہلاکت کیس کے بعد پیش آیا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ سانحہ ساہیوال پر بہت شور اٹھا تھا اور اچانک منظر سے غائب ہوگیا، کیا سانحہ ساہیوال کی انکوائری رپورٹ آ گئی ہے؟

فیصل صدیقی نے انکوائری رپورٹ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کمرہ عدالت میں موجود دیگر وکلا سے استفسار کیا کہ کسی کو سانحہ ساہیوال کے کیس کا علم ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سانحہ ساہیوال اور امل کے مقدمات میں بہت فرق ہے، ساہیوال میں جاں بحق افراد پر دہشت گردی کا الزام تھا اور انسداد دہشت گردی فورس نے ٹارگٹ کر کے فائرنگ کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: مقابلے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے بچی جاں بحق ہوئی، پولیس کا اعتراف

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا تمام لوگ کمیشن کی رپورٹ سے مطمئن ہیں جس پر امل کے والدین کے وکیل نے بتایا کمیشن کی رپورٹ اور تمام تجاویز سے مکمل طور پر متفق ہیں۔

اس موقع پر وکیل نیشنل میڈیکل سینٹر نے کہا کہ کمیشن کی تجاویز سے تو متفق ہیں، لیکن ہسپتال سے متعلق رائے پر اتفاق نہیں ہے۔

سندھ پولیس نے بھی کمیشن کی تجاویز کو قابل قبول قرار دیا۔

سندھ پولیس نے بتایا کہ کمیشن رپورٹ کی روشنی میں اب تک کئی اقدامات اٹھا چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: امل ہلاکت ازخود نوٹس: تحقیقاتی کمیٹی سے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا اگر امل کے والدین چاہتے ہیں کہ کیس کراچی میں سنا جائے تو چیف جسٹس کو درخواست دے دیں۔

والدین نے عدالت کو بتایا ہمیں اسلام آباد میں سماعت ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 24 اپریل تک ملتوی کر دی۔