مسعود اظہر کے معاملے پر چین کا ’مثبت پیش رفت‘ ہونے کا اشارہ

02 اپريل 2019

ای میل

مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرار داد پر بدھ کے روز ووٹ دیا جانا تھا —فوٹو: رائٹرز فائل
مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرار داد پر بدھ کے روز ووٹ دیا جانا تھا —فوٹو: رائٹرز فائل

واشنگٹن: چین نے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے معاملے پر ’مثبت پیش رفت‘ہونے کا اشارہ دے دیا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوہانگ کا کہنا ہے کہ ’مسعود اظہر کے حوالے سے درخواست پیش کیے جانے کے بعد چین متعدد فریقین سے قریبی رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکا بہت اچھی طرح جانتا ہے لیکن موجودہ صورتحال کے تحت امریکا اب بھی سلامتی کونسل میں مذکورہ قرارداد کی منظوری کی کوششیں کررہا ہے یہ درست نہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا مسعود اظہر کے معاملے پر ہوشمندی سے کام لے، چین

دوسری جانب بھارتی میڈیا میں یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ سیکیورٹی کونسل میں مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرار داد پر بدھ کے روز ووٹ دیا جانا تھا جو اب موخر ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ 13 مارچ کو فرانس کی جانب سے’ 1267 القاعدہ پابندی کمیٹی‘ میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت قرار دلوانے کی قرار داد پیش کی تھی جس کی حمایت امریکا اور برطانیہ نے بھی کی تھی لیکن چین نے اسے تکنیکی طور پر روک دیا تھا اور اس معاملے کا گہرائی سے جائزہ لینے کے لیے مزید وقت لیا تھا۔

چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس سے متعلقہ فریقین کو بھی پلوامہ حملے پر غور کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔

یاد رہے کہ بھارت نے مذکورہ حملے کا ذمہ دار جیشِ محمد کو ٹھہرایا تھا جبکہ پاکستان نے کہا تھا کہ حملہ بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم کا شکار مقامی افراد نے کیا۔

مزید پڑھیں: مولانا مسعود اظہر کے حوالے سے بھارت سے بات چیت کیلئے تیار ہیں، چین

تاہم 27 مارچ کو امریکا نے 15 رکنی سلامتی کونسل میں ایک قرار داد پیش کی جس کا مقصد مسعود اظہر کو کالعدم قرار دے کر ان پر سفری پابندی عائس کرنا اور ان کے اثاثہ جات منجمد کرنا ہے۔

واشنگٹن میں موجود سفارتی ماہرین کا کہنا تھا کہ امریکا کو امید ہے کہ سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 اراکین قرارداد کے حق میں ووٹ دیں گے اس طرح چین وہ واحد ملک بن جائے گا جو اس اقدام کا مخالف ہے۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ چین سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی اور ویٹو کا اختیار رکھنے کی حیثیت سے 2009، 2016 اور 2017 میں اس قسم کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو باہمی طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے وقت فراہم کرتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین نے مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش ناکام بنا دی

حال ہی میں واشنگٹن میں دی گئی ایک بریفنگ میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے چین کو یاد دہانی کروائی تھی کہ ’ خطے میں امن و استحکام کے لیے امریکا اور چین کے مفادات مشترکہ ہیں اور مسعود اظہر کی حیثیت کا تعین کرنے میں ناکامی سے اس ہدف کو زک پہنچے گی‘۔

دوسری جانب چین کا کہنا ہے کہ یو این ایس سی کے اراکین نے امریکی قرارداد پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوشش 1267 کمیٹی کے دائرہ کار میں ہونی چاہیے اور مسئلے کے حل کے لیے مذکرات کے ذریعے مشاورت کی جائے۔