جیکی چن :عالمی سینما کا ایشیائی ہیرو

اپ ڈیٹ 07 اپريل 2019

ای میل

عالمی اور مقامی سنیما میں 200 سے زیادہ فلموں میں کام کرنے اور شوٹنگ کے دوران کئی بار اپنی ہڈیاں تڑوانے والے اداکار کو دنیا بھر میں ’جیکی چن‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ اس معروف چینی اداکار کی خدمات کے اعتراف میں 5 دہائیوں بعد، ان کو 2016ء میں اعزازی آسکر ایوارڈ دیا گیا۔

ایک خصوصی تقریب میں اس اعزاز کو وصول کرتے وقت بھی انہوں نے اس جدوجہد میں کام آنے والی ہڈیوں کے ٹوٹنے کا ذکر لازمی طور پر کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کامیابی کے سفر میں صرف جسم ہی زخمی نہیں ہوا بلکہ روح بھی گھائل ہوئی، مگر اپنی دُھن میں پکا، لگن میں مست فنکار اپنی منزل کو جانے والے راستے پر بغیر کسی رکاوٹ کی پرواہ کیے، آگے بڑھتا رہا۔ آج وہ عالمی سنیما کے منظرنامے پر ایک روشن ستارے کی صورت جگمگا رہا ہے۔

بہت کم ایسے اداکار ہیں، جنہیں فلم کے پردے پر ہونے کے علاوہ، پس پردہ بھی سخت جسمانی مشقت کرنا پڑتی ہے، اور انہی میں سے ایک جیکی چن بھی ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے تمام ایکشن سے بھرپور مناظر خود انجام دیے۔

جیکی چن آسکر ایوارڈ وصول کرتے ہوئے—Reuters
جیکی چن آسکر ایوارڈ وصول کرتے ہوئے—Reuters

جیکی چن کا ایک انداز—اسکرین شاٹ
جیکی چن کا ایک انداز—اسکرین شاٹ

وہ پیشے کے اعتبار سے اداکار ہونے کے علاوہ فلم پروڈیوسر، ڈائریکٹر، گلوکار، خطرناک مناظر کو فلمبند کروانے والے اسٹنٹ مین اور مارشل آرٹ کی مختلف اقسام کے ماہر کھلاڑی بھی ہیں، جن میں کنگفو، جوڈو اور تائی کوانڈو وغیرہ شامل ہیں۔ 200 سے زائد چینی اور انگریزی فلموں میں ان کے یہ تمام ہنر عملی طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

پیدائش اور بچپن

جیکی چن کی پیدائش 7 اپریل 1954ء کی ہے۔ وہ ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے، جبکہ ان کے والدین چین میں خانہ جنگی کے نتیجے میں وہاں سے ہجرت کرکے ہانگ کانگ آئے تھے۔ جیکی چن نے اپنی ابتدائی زندگی، رسمی تعلیم اور اداکارانہ تربیت کی شروعات یہیں سے کیں۔ ان کی والدہ گھریلو خاتون تھیں، جبکہ والد ایک منجھے ہوئے باورچی تھے۔ ہانگ کانگ میں منتقل ہونے کے بعد انہیں فرانسیسی سفیر کے گھر باورچی کی ملازمت مل گئی اور یوں جیکی چن کا بچپن اسی طرح کے مختلف النوع کے ثقافتی ماحول میں گزرا۔

ان کے والدین نے ہانگ کانگ کے بعد آسڑیلیا کا رخت سفر باندھ لیا، جہاں انہیں امریکی سفیر کے گھر پر یہی ملازمت ملی۔ جیکی چین بھی ان کے ساتھ وہاں کچھ عرصے کے لیے چلے گئے، لیکن انہیں پھر والدین نے جلد واپس ہانگ کانگ بھیج دیا۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ ایک اچھے، فرمانبردار اور زندگی کو بہادری سے جینے والے انسان بنیں۔ آسڑیلیا میں اپنے قیام کے دوران انہوں نے ایک تعمیراتی کمپنی میں بطور مزدور بھی کام کیا، یہی وہ وقت ہے، جب ان کا خالص اور گاڑھا چینی نام Datuk Chan Kong-sang SBS MBE PMW تبدیل ہوکر صرف ’جیکی چن‘ ہوگیا۔

جیکی چن کا ایک انداز—اسکرین شاٹ
جیکی چن کا ایک انداز—اسکرین شاٹ

جیکی چن رسمی تعلیم میں کمزور واقع ہوئے تھے، جس کے سبب انہیں چائنہ ڈرامہ اکیڈمی کے اسکول ’پیکنگ اوپرا اسکول‘ میں داخل کروایا گیا، جہاں انہیں سخت جاں بننے کے مرحلے سے گزارا گیا اور اداکاری کے ساتھ ساتھ مارشل آرٹ کی بھی تربیت دی گئی۔ اسی اکیڈمی کے کئی تربیت یافتہ اداکار ہیں، جنہوں نے جیکی چن کے ساتھ ہانگ کانگ کی فلمی دنیا میں نام کمایا، لیکن جو شہرت جیکی چن کو عالمی سنیما میں ملی، اس تک کوئی مقامی اداکار نہ پہنچ سکا۔ یہی وہ دور ہے، جب انہوں نے مارشل آرٹ میں بلیک بیلٹ حاصل کی اور اس کھیل کے اسرار و رموز سے پوری طرح واقف ہوئے۔

آسٹریلیا سے واپسی کے بعد جب ہانگ کانگ میں بنیادی تعلیم و تربیت کے مراحل مکمل ہوگئے تو انہوں نے مقامی سنیما میں قسمت آزمانی شروع کی۔ چونکہ جیکی چن بچپن سے ہی بہت متحرک تھے، اس لیے ان کے والدین کو بھی اندازہ تھا کہ پڑھائی میں ان کا دل لگنا مشکل ہے، اور یہ کھیل کود میں زیادہ اپنے جوہر دکھائیں گے۔ پھر کچھ ہوا بھی یونہی۔ وہ کھیل ہی کھیل میں اداکار بنتے چلے گئے۔ مارشل آرٹ کے کھیل سے سنیما کے پردے تک کا سفر طے کرنے میں انہیں زیادہ وقت نہیں لگا، کیونکہ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی دکھائی دے گئے تھے۔

ابتدائی اور مشکل دور

جیکی چن نے 5 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ چائلڈ گیسٹ ایکٹر کے طور پر ایک فلم میں کام کیا۔ 1962ء میں جب یہ 8 برس کے ہوچکے تو انہوں نے اپنے کیرئیر کی پہلی باقاعدہ فلم Big and Little Wong Tin Bar میں اپنا پہلا فلمی کردار نبھایا۔ اس فلمی منظر میں ان کی والدہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ پھر اس کے اگلے برس The Love Eterne نامی فلم میں ایک مختصر کردار ادا کیا۔ ہانگ کانگ میں بننے والی ان چینی فلموں میں جیکی چن چھوٹے موٹے کرداروں میں اپنے فن کا مظاہرہ تو کرتے رہے، لیکن بطور مارشل آرٹسٹ ان کی ایک نہ چلی کیونکہ اس وقت اس فلمی صنعت میں بروس لی کا طوطی بولتا تھا، جن کی شہرت ہولی وڈ تک تھی۔

جیکی چن نے 5 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ چائلڈ گیسٹ ایکٹر کے طور پر ایک فلم میں کام کیا—اسکرین شاٹ
جیکی چن نے 5 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ چائلڈ گیسٹ ایکٹر کے طور پر ایک فلم میں کام کیا—اسکرین شاٹ

The Love Eterne میں جیکی چن نے مختصر کردار ادا کیا—اسکرین شاٹ
The Love Eterne میں جیکی چن نے مختصر کردار ادا کیا—اسکرین شاٹ

جب جیکی چن کی عمر 17 برس تھی تو انہیں بروس لی کے ساتھ بطور اسٹنٹ مین کام کرنے کا موقع ملا۔ اس فلم کا نام Enter the Dragon تھا، جس میں انہوں نے ایک ایکشن سین میں بروس لی کے مدِمقابل ایکشن کے جوہر دکھائے، لیکن ستم ظریقی دیکھیں کہ اس فلم میں چونکہ ان کا سین بہت ہی مختصر تھا اور پھر وہ اداکار کے طور پر نہیں تھا، اس لیے فلم کے کریڈیٹس میں جیکی چن کا نام شامل نہیں ہے، لیکن یہی وہ واحد فلم ہے، جس میں بروس لی اور جیکی چن آمنے سامنے تھے۔

لیکن کون یہ جانتا تھا کہ آگے چل کر یہ گمنام اسٹنٹ مین بروس لی جیسی شہرت حاصل کرلے گا؟ بروس لی کی شہرت کے حوالے سے جب بھی جیکی چن سے بات کی جاتی ہے یا فلم بین ان کا موازنہ بروس لی سے کرتے ہیں تو وہ ایک ہی بات کرتے ہیں کہ مجھے دوسرا بروس بننے سے بہتر ہے کہ میں پہلا جیکی چن بنوں۔

1973ء میں پہلی مرتبہ جیکی چن کو بطور اسٹار جس فلم میں کاسٹ کیا گیا اور ان کا نام بھی کریڈیٹس میں شامل ہوا، وہ فلم Little Tiger of Canton تھی، مگر اس فلم کو باکس آفس پر کامیابی نہ مل سکی۔ یہاں تک آتے آتے جیکی چن کو تھوڑی مایوسی بھی ہونے لگی تھی کیونکہ اتنی کم عمری میں سخت محنت کے باوجود کامیابی ان کے قدم نہیں چوم رہی تھی، بلکہ اس دور میں تو انہیں اپنے ایکشن آئیڈیل ازم سے بھی پیچھے ہٹ کر کام کرنا پڑا۔ انہوں نے نہ صرف کامیڈی فلموں کے کردار بھی قبول کرلیے، بلکہ ایک آدھ فلم ایسی بھی کر ڈالی، جو صرف بالغان کے لیے مختص ہوتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر کتنے دباؤ کا شکار تھے۔

کامیابی کا آغاز

ملائیشیا نژاد ہانگ کانگ کے فلم ساز Willie Chan نے جیکی چن کی صلاحیتوں کو پہنچانا، ان کے کام کی قدر کی اور پھر پورا موقع بھی دیا۔ جس نے پھر اس کی زندگی تبدیل کرنا شروع کی۔ 1978ء میں Snake in the Eagle's Shadow وہ پہلی فلم تھی، جس کو باکس آفس پر مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس فلم میں جیکی چن کو اپنی اسٹنٹ صلاحیتیں دکھانے کا آزادانہ موقع دیا گیا۔ ایکشن سے بھرپور اس فلم نے جیکی چن کی ایک جداگانہ شناخت کا باب کھول دیا۔ اس کے بعد آنے والی فلموں میں Drunken Master سمیت دیگر نے اس کی کامیابیوں پر اپنی مہر ثبت کی۔ جیکی چن کی فلموں کی فہرست یہاں ملاحظہ کیجیے، جس میں ان کے فلمی سفر کا مکمل تسلسل دیکھا جاسکتا ہے۔

ڈرنکن ماسٹر کا پوسٹر
ڈرنکن ماسٹر کا پوسٹر

اسنیک ان دی ایگلز شیڈو
اسنیک ان دی ایگلز شیڈو

80 کی دہائی کی ابتدا کو جیکی چن کی فنی زندگی کے دوسرے دور سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ پہلے دور میں کی گئی سخت محنت اور جدوجہد دوسرے دور میں رنگ لانے لگی۔ ان کی شہرت اور مقبولیت کا چرچا زور پکڑنے لگا۔ انہیں بھی حالات کے ہاتھوں یہ بات سمجھ آگئی کہ صرف اسٹنٹ کو بنیاد بناکر اپنا من پسند کام کرنا ممکن نہیں ہوگا، اس لیے انہوں نے ایکشن کامیڈی کی صنف میں کام کرنا شروع کیا، تاکہ عوام الناس میں مزید مقبولیت حاصل کرسکیں۔ ان کے اس دانشمندانہ فیصلے نے ان پر کامیابیوں کے نئے دروازے کھول دیے۔ پھر بروس لی کی ناگہانی موت بھی زیادہ پرانی بات نہ تھی، اس لیے خالی منظرنامے کو بھرنے کے لیے جیکی چن کا نام آئیڈیل تھا، جس پر وہ بعد میں پورا اترے اور خود کو ایک توانا اور باصلاحیت اداکار ثابت کر دکھایا۔

عروج کی ابتدا

1985ء میں جیکی چن نے اپنی پہلی ہولی وڈ فلم The Big Brawl میں کام کیا۔ وقتی طور پر امریکی فلموں میں کامیابی ہوئی، مگر بہت زیادہ نام نہ بن سکا، جس کی وجہ سے جیکی چن مایوس ہوکر امریکا سے واپس ہانگ کانگ چلے آئے اور مقامی سنیما کی طرف اپنی توجہ مرکوز کردی۔ اس سے ان کو فائدہ یہ ہوا کہ چین اور ہانگ کانگ کے علاوہ، انہیں جاپانی اور کورین فلم بینوں میں بھی مقبولیت ملنے لگی۔ اس دور میں ان کی ایک مقبول فلم Police Story نے انہیں مزید شہرت سے نواز دیا۔ بعد میں اس فلم کے کئی سیکوئل بنے اور ہر سیکوئل نے کامیابی سمیٹی۔ اسی فلم کے ذریعے انہیں دوبارہ ہولی وڈ میں سنجیدہ طور پر کام ملا، جس نے آگے چل کر ان کا کیرئیر بالکل تبدیل کردیا اور یہ مقامی سے عالمی سنیما کے اداکار بن گئے۔

پولیس اسٹوری کا پوسٹر
پولیس اسٹوری کا پوسٹر

اینٹر دی ڈریگن
اینٹر دی ڈریگن

80 سے 90 کی دہائی کے آخری برسوں تک جیکی چن ہولی وڈ میں اپنی مقبولیت کی بلندی کو چُھو چکے تھے، لیکن نئی صدی کے بعد ان کی شہرت کو جو رفتار ملی، وہ برق رفتاری آج تک جاری ہے۔ 2011ء میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم ’1911‘ ان کے کیرئیر کی 100ویں فلم تھی۔ اس عرصے میں وہ صرف بطور اداکار متحرک نہیں رہے، بلکہ فلم ساز، ہدایت کار، گلوکار، لکھاری اور دیگر مختلف جہتوں سے عالمی سنیما کے پردے پر متحرک رہے۔ انہوں نے اپنی پروڈکشن کمپنی کے بینر تلے بھی فلمیں بنائیں۔ عالمگیر شہرت رکھنے والے اداکاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ ہولی وڈ میں ان کے بہترین دوستوں میں سلورس اسٹائلون اور جیمز کیمرون سمیت دیگر شخصیات شامل ہیں۔ ان کی حالیہ کچھ برسوں میں ریلیز ہونے والی فلموں The Foreigner اور Bleeding Steel کو دیکھا جائے تو اب جیکی چن نہ صرف ایکشن بلکہ تاثراتی اداکاری کے حوالے سے بھی اپنے فن کی بلندیوں پر فائز ہیں۔

بگ برال کا پوسٹر
بگ برال کا پوسٹر

جیکی چن نے موسیقی کی دنیا میں بھی نام کمایا۔ وہ اب تک 20 میوزک البم ریلیز کرچکے ہیں۔ 80 کی دہائی میں موسیقی کے کیرئیر کی ابتدا کی، جو تاحال جاری ہے۔ ان کی بہت ساری فلموں کے تھیم سونگز بھی اپنی آواز میں ہوتے ہیں۔ بات صرف فلموں تک ہی محدود نہیں بلکہ 2008ء میں بیجنگ اولمپکس گیمز کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی، گانے بنائے، آفیشل البم ریکارڈ کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں Hong Kong Baptist University اور University of Cambodia نے ان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی اسناد عطا کیں۔ ان کے اپنے نام سے ایک فلم اور ٹیلی وژن اکیڈمی بھی ہے، جس میں نئی نسل ان سے فلم سازی کا ہنر سیکھ رہی ہے۔

فارینر کا پوسٹر
فارینر کا پوسٹر

بلیڈنگ اسٹیل
بلیڈنگ اسٹیل

ذاتی زندگی

سخت جدوجہد کے بعد کامیاب ہونے والے اداکار کی ذاتی زندگی پر تاریکیوں کے سائے ہیں۔ انہوں نے ایک تائیوانی اداکارہ Joan Lin سے شادی کی، جس سے ان کا ایک ہی بیٹا Jaycee Chan ہے، جو خود بھی بطور اداکار اور گلوکار شوبز سے وابستہ ہے۔ حکومتِ چین نے جیکی چن کو منشیات کی روک تھام کاسفیر مقرر کیا، لیکن ان کا اپنا یہی بیٹا منشیات کا استعمال کرتے ہوئے گرفتار ہوا، جس پر اسے کئی ماہ قید کاٹنا پڑی۔ بطور والد جیکی چن نے اپنے بیٹے کی کوئی مدد نہیں کی بلکہ ایک موقع پر انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اپنی آدھی دولت خیرات میں دے دیں گے اور اگر ان کی اولاد میں صلاحیت ہوئی تو وہ ضرور دولت کمالے گی، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو وہ ان کی دولت بھی ہوا میں اڑا دے گی۔ اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے باپ بیٹے میں دُوری رہی۔

جیکی چن کا ایک انداز—اسکرین شاٹ
جیکی چن کا ایک انداز—اسکرین شاٹ

جوانی کے دور میں یہ خود بھی خواتین پر عاشق رہے اور ایک بڑی تعداد بھی ان پر عاشق رہی۔ کئی ایک لڑکیوں نے تو ان کے نام پر خودکشیاں کرنے کی کوشش بھی کی، کیونکہ وہ سب انہیں پانا چاہتی تھیں۔ اس عالم جوانی میں Elaine Ng Yi-Lei نامی خاتون سے ان کا معاشقہ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس معاشقے کے نتیجے میں ان خاتون کے ہاں پیدا ہونے والی بیٹی مبینہ طور پر جیکی چن کی ہی بیٹی ہے۔ اس حوالے سے وہ اشاروں کنائیوں میں بات چیت کرتے رہتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بیٹی سے بظاہر کبھی کوئی تعلق نہیں رکھا۔ اس لڑکی کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس نے اپنی ماں کے ساتھ خستہ حالی کی زندگی بسر کی۔ بعد میں ہم جنس پرست بننے کے بعد ایک لڑکی سے شادی کرلی۔ مگر اس پوری صورتحال میں جیکی چن نے کوئی لب کشائی نہیں کی۔

سخت جدوجہد کے بعد کامیاب ہونے والے اداکار کی ذاتی زندگی پر تاریکیوں کے سائے ہیں—چائنہ ڈیلی
سخت جدوجہد کے بعد کامیاب ہونے والے اداکار کی ذاتی زندگی پر تاریکیوں کے سائے ہیں—چائنہ ڈیلی

جیکی چن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق ایشیا سے ہے۔ وہ دنیا کے 10 مہنگے ترین اداکاروں میں بھی شمار کیے جاتے ہیں۔ 2018ء میں ایک تحقیقی سروے کے مطابق جیکی چن کا نام تیسرے نمبر پر ان چند بڑے ناموں کے ساتھ شمار ہوا، جو دنیا میں لوگوں کے دلوں پر اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اسی تحقیق میں پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کا نام بھی لیا گیا، جبکہ چینی صدر کا نام بھی اسی فہرت میں شامل تھا۔ جیکی چن اداکاری کے ساتھ ساتھ بے شمار فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم عمل رہتے ہیں۔

اعزازات

ہولی وڈ واک آف فیم اور ہانگ کانگ فلمی صنعت کے معروف اعزاز، ہانگ کانگ فیم سمیت برطانوی، امریکی اور چینی بڑے اعزازات سے انہیں نوازا جاچکا ہے۔ آسکر ایوارڈ رہ گیا تھا، تو وہ بھی انہیں اعزازی طور پر دے دیا گیا۔ ایکشن فلموں میں سب سے زیادہ اپنے اسٹنٹ خود کرنے والے اداکار کے طور پر ان کے پاس گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا اعزاز بھی ہے۔ دنیا کے بڑے اعزازات کے لیے جیکی چن 82 مرتبہ نامزد ہوئے اور ان میں سے 41 بار وہ یہ اعزازات اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔

2017ء میں ایک پاکستانی فلم ’چلے تھے ساتھ‘ میں ایک چینی اداکار نے کام کیا۔ اس فلم کی نمائش چین اور ہانگ کانگ میں ہونے والے فلم فیسٹیول میں بھی کی گئی، جس میں ہماری پاکستانی اداکارہ سائرہ شہروز نے چینی اداکار Kent S Leung کے ہمراہ شرکت کی۔ وہاں اس موقع پر ان کی ملاقات جیکی چن سے بھی ہوئی تھی۔ بھارت میں بھی جیکی چن چند ایک فلموں میں اپنے فن کے جوہر دکھا رہے ہیں، جہاں ان کی شہرت میں مزید اضافہ بھی ہورہا ہے۔ پاکستانی فلم سازوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس جیتے جاگتے لیجنڈ کو پاکستانی فلموں میں شامل کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ سنیما کی سطح پر اس طرح کے اقدامات کو فروغ دیا جائے، جس میں فلمی و ثقافتی تعلقات اور تبادلے کے منصوبے تکمیل پائیں۔

’چلے تھے ساتھ‘ کی نمائش چین اور ہانگ کانگ میں ہونے والے فلم فیسٹیول میں بھی کی گئی، جس میں ہماری پاکستانی اداکارہ سائرہ شہروز نے چینی اداکار Kent S Leung کے ہمراہ شرکت کی۔
’چلے تھے ساتھ‘ کی نمائش چین اور ہانگ کانگ میں ہونے والے فلم فیسٹیول میں بھی کی گئی، جس میں ہماری پاکستانی اداکارہ سائرہ شہروز نے چینی اداکار Kent S Leung کے ہمراہ شرکت کی۔

آج اس عظیم اداکار کی سالگرہ ہے۔ اس موقع پر پاکستانی فلم بینوں کی طرف سے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے طور پر یہ محبت نامہ رقم کیا گیا، کیونکہ ایشیائی سنیما ہو یا عالمی سنیما، اس میں اتنی محنت سے کام کرتے ہوئے جن فنکاروں کو دیکھا گیا، جیکی چن ان میں سے ایک ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف عالمی سطح پر تو ہوگیا، چین میں بھی ہوگیا، پڑوسی ہونے کے ناطے ہماری فلمی صنعت کو بھی اس سے ضرور فیض یاب ہونا چاہیے۔