’ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے وزیرِاعظم عمران خان کی سوچ غلط ہے‘

اپ ڈیٹ 09 اپريل 2019

ای میل

کل ایک خبر نظر سے گزری کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم یوسف اسسٹنٹ کلیکٹر کسٹم مقرر ہوگئے ہیں۔ اس خبر کو پڑھنے کے بعد میری یہ سوچ اور بھی پختہ ہوگئی ہے کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو پروان چڑھانے میں ڈپارٹمنٹس کا کردار اہم ترین ہے اور اگر ڈپارٹمنٹس نے کرکٹ اور کرکٹرز کی سرپرستی سے ہاتھ اُٹھا لیا تو ہاکی کی طرح پاکستان کرکٹ کو ناقابلِ تلافی تقصان ہونے کا خدشہ ہے۔

ماضی میں پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کو ڈپارٹمنٹس کی زبردست معاونت حاصل تھی۔ پاکستان ہاکی کے نامور کھلاڑیوں حسن سردار، اصلاح الدین اور دیگر کھلاڑی پاکستان کسٹمز سے منسلک ہونے کی وجہ سے ہاکی کی قومی ذمہ داریوں سے فراغت کے دنوں میں کراچی کے بین الا قوامی ہوائی اڈے پر اپنے ادارے کے لیےذمہ داریاں نبھاتے تھے۔

ہاکی کے کھلاڑیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، نیشنل بینک اور دیگر اداروں سے منسلک ہوتی تھی اور یوں وہ کھلاڑی فکر معاش سے آزاد ہو کر کھیل کے میدان میں اپنے جوہر دکھایا کرتے تھے۔ جیسے جیسے ہاکی کے کھیل سے اداروں نے ہاتھ کھینچنا شروع کیا ویسے ہی یہ کھیل پستی کی جانب جاتا رہا اور آج پاکستان ہاکی ٹیم بین الاقوامی ہاکی میں نچلے نمبروں پر موجود ہے۔

پاکستان کے زمینی حقائق دنیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں بہت مختلف ہیں۔ یہاں کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے زیادہ تر کھلاڑیوں کا تعلق ان خاندانوں سے ہوتا ہے جو مالی طور پر غیر مستحکم ہوتے ہیں۔ ان نوجوان کھلاڑیوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ یہ کھیل میں اپنا مقام بنائیں اور قومی ٹیم کے لیے کھیلیں۔

ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں ایک سے 2 کروڑ نوجوان اسکول، کلب، علاقائی ٹیموں اور ڈیپارٹمنٹس کی ٹیموں کے لیے کرکٹ کھیل رہے ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں کھیلنے والوں میں سے صرف 15 یا 16 وہ خوش نصیب کھلاڑی ہوتے ہیں جو قومی کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کر پاتے ہیں۔ لہٰذا والدین کو یہ خدشہ ہر وقت لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ کھیل ان کی اولاد کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت نہ ہوجائے، اور پھر وہ اپنے بچوں کو اس کھیل سے دُور رہنے اور تعلیم پر توجہ دینے کے لیے دن رات سمجھاتے رہ جاتے ہیں، لیکن نوجوان چونکہ کھیل سے دیوانگی کی حد تک محبت کرتے ہیں، اس لیے وہ بات کم ہی مانتے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چوتھے ایڈیشن میں سامنے آنے والے کھلاڑی حارث رؤف بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے ہی کھلاڑی ہیں۔ حارث کے والدین ان کو تعلیم مکمل کرکے نوکری تلاش کرنے کا مشورہ دیتے تھے جبکہ حارث دن رات اپنے شوق کی تکمیل میں لگے رہتے تھے۔ وہ اپنی اسی محنت سے لاہور قلندرز کی ٹیم میں شامل ہوئے اور دنیائے کرکٹ کو اپنی صلاحیتیں دکھانے میں کامیاب رہے۔

حارث اب قومی کرکٹ کے دھارے میں شامل ہوگئے ہیں لیکن اپنے کھیل میں نکھار لانے کے لیے ان کو مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ حارث یہ محنت صرف اسی صورت کرسکتے ہیں جب کوئی ان کو فکرِ معاش سے آزادی دلوا دے اور ان کو یہ آزادی صرف اسی صورت مل سکتی ہے جب ان کو کوئی ڈپارٹمنٹ نوکری پر رکھ لے۔

حارث ہی کی طرح پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن میں کراچی کنگز کے لیے کھیلتے ہوئے عمر خان نے بھی اپنی عمدہ باؤلنگ سے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اس کھلاڑی کا انتخاب کراچی کنگز نے ان کے ڈپارٹمنٹ سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے عمدہ کارکردگی پیش کرنے کی وجہ سے کیا تھا۔ انہوں نے اپنے اولین فرسٹ کلاس میچ میں 7 وکٹیں حاصل کرکے ایک قومی ریکارڈ قائم کیا تھا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اپنے میدان موجود نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ شہروں کی کرکٹ چلانے والے لوگ بھی کھیل کے لیے خاطرخواہ خدمات پیش نہیں کرسکے ہیں۔ دوسری جانب ڈپارٹمنٹس کے اب اپنے کھیل کے میدان ہیں اور ان کے پاس مختلف کوچز بھی موجود ہوتے ہیں جو کھلاڑیوں کی کمزوریوں کو دُور کرنے کے لیے مسلسل محنت کررہے ہوتے ہیں۔

دنیا کے دیگر ممالک میں نوجوان کم عمری میں ہی روزگار کا کوئی نا کوئی ذریعہ ڈھونڈ لیتے ہیں کیونکہ وہاں کا خاندانی نظام پاکستان سے مختلف ہے۔ مجھے 2007ء کا ورلڈ کپ اب بھی یاد ہے جب عالمی کپ میں شرکت کے لیے آنے والی آئرلینڈ کرکٹ ٹیم کے بہت سے کھلاڑی اس لیے مشکل کا شکار ہوگئے تھے کیونکہ وہ اپنی اپنی نوکریوں سے چھٹیاں لے کر ورلڈ کپ کھیلنے آئے تھے، اور غیر معمولی طور پر ان کی ٹیم اگلے راؤنڈ میں پہنچ گئی تھی جس کے سبب ان کی چھٹیاں ختم ہورہی تھی، اور اگلا راؤنڈ کھیلنے کے لیے انہیں مزید چھٹیاں لینی پڑیں۔

یہ ساری تمحید باندھنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ پاکستان کے موجودہ وزیرِاعظم اور سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اپنی ماضی کی خواہش کو دہرایا، دہرایا ہی نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو ہدایت بھی کردی ہے کہ وہ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ کے اسٹرکچر کو آسٹریلین طرز کے مطابق ڈھال لیں، اور اس کے لیے کام شروع بھی ہوچکا ہے۔

معاملہ کچھ یہ ہے کہ عمران خان کا تعلق معاشی طور پر مضبوط خاندان سے رہا ہے، اور انہوں نے پاکستان میں کم ہی عرصے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی ہے، لیکن ان کا شروع سے یہی موقف رہا ہے کہ پاکستان میں آسٹریلیا کی طرز پر علاقائی ٹیمیں تشکیل دی جانی چاہیے۔

لیکن ان کے برعکس پاکستان کے ایک اور مایہ ناز کھلاڑی جاوید میانداد ہیں جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ ایک طویل عرصے تک ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیلی ہے۔ جاوید میانداد ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے وہ کھلاڑی تھے جن کی قومی ٹیم میں شمولیت سے پہلے ہی لوگ ان کی صلاحیت سے متاثر ہوگئے تھے۔

میانداد کے بارے میں مشہور ہے کہ جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار نے ان کو نیٹ پر بیٹنگ کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے اپنے اطراف موجود لوگوں سے کہا کہ یہ لڑکا مستقبل میں پاکستان کی قومی ٹیم کا کپتان بنے گا۔ جاوید میانداد اس اعتبار سے بھی خوش نصیب تھے کہ ان کو اپنے والد کا مکمل طور پر تعاون حاصل تھا، جو اپنی سائیکل پر جاوید میانداد کو کھیلنے اور پریکٹس کرنے کے لیے کراچی میں قائم مختلف میدانوں میں لے کر جایا کرتے تھے۔ اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کے تجربے کی بنیاد پر جاوید میانداد ہمیشہ ڈپارٹمنٹس کی کرکٹ ٹیموں کے حق میں رہے ہیں، کیونکہ ڈپارٹمنٹ کی وجہ سے نوجوان بہت حد تک فکرِ معاش سے بے فکر ہوکر ساری توجہ اپنے کھیل پر رکھ پاتے ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ ڈپارٹمنٹ کرکٹ کا آئیڈیا کاردار صاحب نے ہی دیا تھا اور انہیں کے دیے گئے آئیڈیے بعد یہاں ڈپارٹمنٹ کرکٹ نے فروغ پایا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی نوجوان کھلاڑی کے والدین یہ بات پسند نہیں کریں گے کہ ان کا بیٹا کرکٹ کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کسی جنرل اسٹور پر یا ریسٹورنٹ پر نوکری کرے اور اگر کوئی ماں باپ راضی ہو بھی جائیں گے تو 7 یا 8 گھنٹے کی نوکری کے بعد کسی کے پاس اتنا وقت اور اتنی صلاحیتیں کیسے بچ سکتی ہے کہ وہ اپنے کھیل پر توجہ دے سکے؟

اس صورتحال میں ڈپارٹمنٹس کلیدی کردار ادا کرتے ہیں جو کھلاڑی کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کھیل میں نکھار لانے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ اسپورٹس کی بنیاد پر ڈیپارٹمنٹ کا حصہ بننے والے کھلاڑی نے اپنی محنت اور لگن کے باعث اداروں کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔

وقار یونس اس کی ایک زبردست مثال ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے سپر وِلز کپ کے میچ میں دہلی کے مقابلے میں وقار یونس یونائیٹڈ بینک کی نمائندگی کر رہے تھے۔ یہ میچ پاکستان ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کیا جا رہا تھا۔ عمران خان جو اس وقت قومی ٹیم کے کپتان تھے انہوں نے ٹیلی ویژن پر یہ میچ دیکھ کر وقار یونس کو فوری قومی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حالانکہ اس وقت تک وقار نے صرف 6 فرسٹ کلاس میچز کھیلے تھے اور اگر اس اہم میچ میں سلیم جعفر کے زخمی ہونے کی وجہ سے ان کو کھیلنے کا موقع نہیں ملتا تو شاید قومی ٹیم میں شامل ہونے کے لیے ان کو مزید انتظار کرنا پڑتا۔

عمران خان کی سوچ یہ ہے کہ علاقائی ٹیموں کے مابین ہونے والے مقابلوں میں عوام کی دلچسپی زیادہ ہوگی لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج کل پاکستان کپ کے میچز جاری ہیں لیکن علاقائی ٹیموں کی بنیاد پر کھیلے گئے اس ٹورنامنٹ میں عوام کی دلچسپی بہت کم ہے۔ عوام غیر معروف کھلاڑی کے بجائے نامور کھلاڑیوں کو دیکھنا پسند کرتے ہیں اور وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کا پسندیدہ کھلاڑی کسی علاقے کی ٹیم سے کھیل رہا ہے یا کسی ڈپارٹمنٹ کی ٹیم سے۔

پاکستان کے ایک نامور ادارے حبیب بینک نے تو اپنی کرکٹ ٹیم ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے لیکن اگر یہ رسم چل نکلی تو پاکستان کی کرکٹ سے منسلک تقریباََ ایک ہزار سے زائد کھلاڑیوں کے بیروزگار ہونے کا خطرہ ہے۔

پاکستان 20 کروڑ لوگوں کی آبادی والا ملک ہے۔ یہاں ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں جو بھی تبدیلیاں لانی ہیں وہ کسی دیگر ملک سے متاثر ہوکر نہیں، بلکہ مقامی صورتحال کے مطابق ہونی چاہیے۔

وزیرِاعظم عمران خان کی مشاورت کے بعد پی سی بی ڈومیسٹک کرکٹ کے حوالے سے ایک نیا ڈھانچہ تیار کرنے میں مصروف ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ جو بھی نظام رائج کریں گے، اس میں ڈپارٹمنٹس کو ڈومیسٹک کرکٹ میں شامل ضرور رکھیں گے کیونکہ یہ ڈپارٹمنٹس کی شمولیت کی مرہون منت ہی ممکن ہوا ہے کہ صرف ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والے موجودہ کھلاڑی ہی نہیں بلکہ قومی کرکٹ ٹیم سے تقریباً 26 سال قبل ریٹائر ہونے والے سلیم یوسف اور ان جیسے سیکڑوں کھلاڑی آج بھی باعزت روزگار پر فائز ہیں۔