حنا ربانی کھر کا فواد چوہدری پر ہتک عزت کے مقدمے کا اعلان

اپ ڈیٹ 10 اپريل 2019

ای میل

حنا ربانی کھر نے فواد چوہدری کو مشورہ دیا کہ وہ بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں— فائل فوٹو ایجنسیز
حنا ربانی کھر نے فواد چوہدری کو مشورہ دیا کہ وہ بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں— فائل فوٹو ایجنسیز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن اسمبلی اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ وہ بجلی چوری کا الزام لگانے پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری پر ہتک عزت کا مقدمہ کریں گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پنجاب سے خواتین کی خصوصی نشست پر منتخب ہونے والی حنا ربانی کھر نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپوزیشن اراکین کی کردار کشی کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے کیونکہ حکومت اپنے قیام سے اب تک کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہے۔

مزید پڑھیں: 'آصف زرداری اور نواز شریف لوٹا ہوا پیسہ واپس کردیں'

کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے الزام عائد کیا تھا کہ کچھ اپوزیشن اراکین بجلی اور گیس چوری میں ملوث ہیں اور خصوصی طور پر حنا ربانی کھر اور مسلم لیگ (ن) کے شیخ روہیل اصغر کا نام لیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ سابق وزیر خارجہ بجلی چوری کے مقدمے میں ملوث ہیں اور انہوں نے اپنے خلاف کارروائی سے بچنے کے لیے 2 سال سے عدالت سے حکم امتناع لیا ہوا ہے۔

اپنے بیان میں حنا ربانی کھر نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات خبردار کیا کہ وہ اپوزیشن اراکین کے خلاف الزام تراشی سے گریز کریں اور بولنے سے قبل سوچنے کا مشورہ دیا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں وزیر اطلاعات نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کو خط لکھ کر ان کی توجہ ہتک عزت کے مقدموں پر عملدرآمد میں کمی کی جانب مبذول کرائی تھی اور درخواست کی تھی کہ وہ نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اگلے اجلاس میں اس معاملے کو اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایل این جی اسکینڈل: سابق وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات آخری مراحل میں داخل

اپنے خط میں فواد چوہدری نے اس معاملے کو عوام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے اس پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ہتک عزت کا موجودہ قانون پر اس طرح عمل نہیں کیا جا ہرا جس طرح کیا جانا چاہیے جس کے سبب مجرم کے احتساب میں مشکلات پیش آتی ہیں اور ان میں سے اکثریت کو وہ انصاف نہیں مل پاتا جس کے وہ مستحق ہیں۔

فواد چوہدری پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور اسی لیے انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ہتک عزت کے مقدمے میں شکایات کے اندراج اور ثبوت جمع کرانے کے عمل کو متعلقہ قانون میں ترمیم کے ذریعے آسان بنایا جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اپوزیشن اراکین اپنی پارٹی کی قیادت پر وزیر اطلاعات کی جانب سے سوشل میڈیا اور پریس کانفرنس کے دوران کی جانے والی تنقید پر شدید برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی سیکریٹری ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جب کبھی بھی حکومت سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو وہ اپوزیشن قیادت پر الزامات لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر الزامات لگانے پر وقت اور توانائی ضائع کرنے کے بجائے عوام کو بتائیں کہ روزانہ کی بنیاد پر قرض کیوں بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں: آمدن سے زائد اثاثے: سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کی نیب میں پیشی

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ تحریک انصاف کی الزام تراشی اور مسلم لیگ (ن) کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی پالیسی کو حکومتی نااہلی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جس کی غلط پالیسیوں کے سبب گزشتہ 9 ماہ میں روزانہ کی بنیاد پر 16 ارب روہے کے قرض تلے دبتا چلا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں حکومتی وزرا کی مشکلات سمجھ سکتی ہوں جن کی کتاب میں حکومت کی تباہ کن غلطیوں کو چھپانے کوئی حربہ نہیں بچا۔