بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، 20 ریاستوں کی 91 نشستوں پر پولنگ مکمل

اپ ڈیٹ 11 اپريل 2019

ای میل

انتخابات 6 ہفتوں تک جاری رہیں گے، جس میں 543 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی—فوٹو: رائٹرز
انتخابات 6 ہفتوں تک جاری رہیں گے، جس میں 543 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی—فوٹو: رائٹرز

بھارت میں لوک سبھا (ایوان زیریں ) کے 17ویں انتخابات کے پہلے مرحلے میں آج( بروزجمعرات ) 20ریاستوں کی نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے ملک میں 7 مراحل میں ہونے والے انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا، انتخابات 6 ہفتوں میں مکمل ہوں گے۔

بھارت میں مجموعی طور پر 89 کروڑ 89 لاکھ ووٹرز میں سے انتخابات کے پہلے مرحلے میں 14 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

آج ہونے والے پہلے مرحلے میں 20 ریاستوں اور وفاقی انتظامی علاقوں کی 91 نشستوں میں ووٹنگ ہوئی جبکہ منگل کو پرتشدد واقعات میں 7 افراد کے قتل کے بعد سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں اپریل سے مئی تک عام انتخابات کا اعلان

جن ریاستوں میں آج انتخابات ہوئے ان میں اترپردیش، آروناچھل پردیش، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، بھارت کے زیر تسلط جموں کشمیر، مہاراشٹرا، مزورام، مانی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، اوڈیشا، سکم، تیلانگانا، تری پورا، اتر پردیش، اتر کھنڈ، مغربی بنگال، اندمن، نکوبر اور لکشادیپ شامل ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست بہار میں ووٹر ٹرن آؤٹ 50.26 فیصد، تلنگانہ میں 60.57، میگھالیہ میں 62 فیصد،اترپردیش میں 59.77 فیصد، منی پور میں 78.20 فیصد اور لکشادیپ میں 65.9 فیصد رہا۔

دوسری جانب انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق انتخابات کے پہلے مرحلے میں بھارتی ریاست اڑیسہ کے 2 پولنگ بوتھ میں ووٹر ٹرن آؤٹ صفر رہا۔

اڑیسہ کے چیف الیکٹورل آفس نے تصدیق کی کہ ریاست کے 2 پولنگ میں بوتھ میں ووٹنگ نہیں ہوئی۔

ملکہ نگری کے علاقے میں تیمورو پالی گاؤں میں بوتھ نمبر 6 اور 8 پر ووٹر ٹرن آؤٹ صفر رہا۔

پولنگ کے دوران بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ووٹرز کی انگلیوں پر لگائی جانے والی سیاہی مٹنے کی شکایات بھی کی گئیں۔

نیوز 18 کے مطابق نوآئیڈا کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بی این سنگھ نے کہا کہ ’ میں سیاہی مٹنے کے واقعے کی تحقیقات کی جائے گی ، لیکن مجھے یقین ہے کہ ان مٹ سیاہی اچھے معیار کی ہے‘۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابات کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خراب ہونے سمیت چند افراد کا ان کا نام ووٹرز فہرست میں نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔

اپولو ہسپتال انٹرپرائزز لمیٹڈ کی ایگزیکٹو وائس چیئرمین شبانہ کامینینی نے شکایت کی کہ ان کا ووٹ پولنگ سینٹر کے ووٹرز لسٹ سے غائب کردیا گیا ہے۔

تلنگانہ ریاست کے حلقے چویلا سے کانگریس کے امیدوار کی رشتہ دار شبانہ کامینینی نے واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ ’میں بوتھ آئی اور میرا نام غائب تھا، کیا ہمارا کوئی شمار نہیں، ہمارے ساتھ شہری ہونے کی حیثیت سے دھوکا ہوا ہے‘۔

بھارت میں 7 مراحل میں ہونے والے انتخابات میں پارلیمنٹ کی 543 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جن میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کا اعلان 23 مئی کو ہوگا۔

دوسرے مرحلے میں 18 اپریل کو 13 ریاستوں، آسام، بہار، چھتیس گڑھ، مقبوضہ جموں اینڈ کشمیر، کرناٹکہ، مہاراشٹرا، مانی پور، اوڈیشا، تمل ناڈو، تری پورا، اتر پردیش، مغربی بنگال، پودوچھری کی 97 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

اسی طرح 23 اپریل کو شروع ہونے والے تیسرے مرحلے میں 14 ریاستوں آسام، بہار، چھتیس گڑھ، گجرات، گوا، جموں وکشمیر، کرناٹکہ، کیرالہ، مہاراشٹرا، اوڈیشا، اتر پردیش، مغربی بنگال، دادرا اور نگر حویلی، دامان اور دیو کی 115 نشستوں پر الیکشن منعقد کیے جائیں گے۔

بھارتی انتخابات کا چوتھا مرحلہ 29 اپریل کو ہوگا، جہاں 9 ریاستوں کی کل 71 نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا، جن ریاستوں میں اس مرحلے میں انتخابات ہوں گے اس میں بہار، مقبوضہ جموں کشمیر، جھاڑ کھنڈ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، اوڈیشا، راجستھان، اتر پردیش اور مغربی بنگال شامل ہیں۔

پانچویں مرحلے میں 6 مئی کو بھارت کی 7 ریاستوں میں 51 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، جس میں بہار، بھارت کے زیر تسلط جموں اور کشمیر، جھاڑکھنڈ، مدھیہ پردیش، راجستھان، اترپردیش اور مغربی بنگال کی ریاستیں شامل ہیں۔

لوک سبھا کی نشستوں کے لیے انتخابات کا چھٹا میدان 12 مئی کو سجے گا، جہاں بہار، ہریانہ، جھاڑ کھنڈ، مدھیہ پردیش، اترپردیش، مغربی بنگال، دہلی میں 59 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔

بھارتی انتخابات کا آخری مرحلہ 19 مئی کو ہوگا، جس میں 8 ریاستوں کی 59 نشستوں پر انتخابی لڑائی لڑی جائے گی، ان ریاستوں میں بہار، ہماچل پردیش، جھاڑکھنڈ، مدھیہ پردیش، پنجاب، مغربی بنگال، چندی گڑھ اور اتر پردیش شامل ہیں۔

بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کی خواہش مند ہے جبکہ ان کے مدمقابل کانگریس پھر سے واپسی کی خواہش مند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کے نام پر ووٹ مانگنا مودی کو مہنگا پڑگیا

بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے لیے گاندھی اور نہرو کے سیاسی وارث راہول گاندھی کا مقابلہ کریں گے۔

اس سلسلے میں دونوں سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ووٹرز سے مختلف انداز میں اپیلیں کی جارہی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جنہوں نے الیکشن کے قریب آتے ہیں اپنا ٹوئٹر کا نام بھی چوکیدار نریندر مودی کردیا تھا، انہوں نے ووٹرز خاص طور پر نوجوان اور پہلی مرتبہ ووٹ کاسٹ کرنے والے سے کہا کہ وہ بڑی تعداد میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

ادھر کانگریس کے راہول گاندھی نے اپنی ٹوئٹ میں تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی 2 کروڑ نوکریاں نہیں، کوئی 15 لاکھ بینک اکاؤنٹس میں نہیں اور کوئی اچھے دن نہیں بلکہ صرف کسانوں کو تکلیف، گبر سنکھ ٹیکس اور جھوٹ جھوٹ جھوٹ۔

انہوں نے مزید لکھا کہ آج آپ بھارت کی مٹی اور اپنے مستقبل کے لیے ووٹ دیں گے۔

بھارتی انتخابات پر مقبوضہ کشمیر میں شٹر ڈاؤن

دوسری جانب بھارتی انتخابات کے پہلے مرحلے پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور نام نہاد انتخابات کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی انتخابات: اقتدار میں آنے کے لیے سیاستدانوں کے ڈرامے

کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق حریت قیادت نے ’نام نہاد‘ بھارتی انتخابات سمیت کشمیر عوام اور قیادت کے خلاف مظالم پر مقبوضہ وادی میں مکمل شٹر ڈاؤن کا اعلان کیا تھا۔

ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس احتجاج کا مقصد ’جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کو نیشنل انویشٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کرنے، میر واعظ عمر فاروق سے دہلی میں این آئی اے ہیڈکوارٹرز میں سوالات کرنے اور حریت رہنما سید علی گیلانی کے دونوں بیٹوں کو مسلسل طلب کرنے‘ کے خلاف بطور احتجاج کرنا بھی ہے۔