بھارتی انتخابات میں مودی کی 'حمایت' پر پیپلز پارٹی کی عمران خان پر تنقید

اپ ڈیٹ 11 اپريل 2019

ای میل

پاکستان پیپلز پارٹی نے عمران خان کے بیان پر حکومت سے وضاحت طلب کی — فوٹو: نفیسہ شاہ ٹوئٹر
پاکستان پیپلز پارٹی نے عمران خان کے بیان پر حکومت سے وضاحت طلب کی — فوٹو: نفیسہ شاہ ٹوئٹر

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے حکومت سے وزیر اعظم عمران خان کے اس حالیہ انٹرویو پر وضاحت طلب کی ہے، جس میں انہوں نے بھارتی انتخابات میں نریندر مودی کی قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابی کے لیے ’خواہش‘ کا اظہار کیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے ایک بیان میں وزیر اعظم کے بیان کو وزیر خارجہ شاہ محمود کے بیان کے متضاد قرار دیا۔

واضح رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ نئی دہلی، پاکستان کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کا بھارتی انتخابات سے متعلق بیان، اپوزیشن کی مودی پر تنقید

نفیسہ شاہ نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ عمران خان نریندر مودی کے انتخابی ایجنٹ بن گئے ہیں اور قوم جاننا چاہتی ہے کہ کیوں عمران خان نریندر مودی سے ملاقات کے لیے بیتاب ہیں‘۔

علاوہ ازیں ایک نیوز کانفرنس میں پیپلز پارٹی کی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا بیان صرف نریندر مودی کا ’بڑا حمایتی‘ ہی دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان تحریک انصاف نریندر مودی کے ساتھ ’دوستی‘ پر سابق وزیر اعظم نواز شریف پر طنز کرتی تھی اور یہاں تک کہ ان کے لیے غدار کہا جاتا تھا لیکن اب عمران خان نریندر مودی کی کامیابی کے لیے دعا کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ غیر ملکی صحافیوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر عام انتخابات میں نریندر مودی کی بی جے پی کامیاب ہوتی ہے تو بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کے زیادہ امکانات ہوسکتے ہیں۔

عمران خان نے کہا تھا کہ ’اگر بھارت میں اگلی حکومت کانگریس کی ہوئی تو وہ دائیں بازوں کے خوف سے پاکستان کے ساتھ کشمیر پر مذاکرات کے لیے خوف زدہ ہوسکتے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: بی جے پی کے انتخابات جیتنے پر بھارت سے امن مذاکرات کا بہتر موقع ملے گا، عمران خان

عمران خان نے بھارت کو پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد، پاکستان کی تمام مسلح تنظیموں کو ختم کرنے کے لیے پر عزم ہے اور اس کے لیے حکومت کو پاکستان کی طاقتور فوج سے پوری حمایت حاصل ہے۔

قبل ازیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا تھا کہ اسلام آباد کو ’قابل عمل معلومات‘ ہیں کہ بھارت اس ماہ دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔

پلوشہ خان نے مزید کہا کہ ایک جانب وزیر خارجہ ممکنہ بھارتی حملے کی تاریخ دے رہے ہیں تو دوسری جانب عمران خان بی جے پی کی کامیابی کے لیے دعا کر رہے ہیں۔