رائل پام کا معاہدہ غیرقانونی قرار، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا

اپ ڈیٹ 11 اپريل 2019

ای میل

سپریم کورٹ نے ریلوے نے رائل پام معاہدے کو غیر قانونی قرار دے دیا — فائل فوٹو: ڈان
سپریم کورٹ نے ریلوے نے رائل پام معاہدے کو غیر قانونی قرار دے دیا — فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ریلوے گالف کلب اراضی کیس میں رائل پام معاہدے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ریلوے کی زمین پر گالف کلب بنانے سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

مزید پڑھیں: ریلوے گالف کلب اسکینڈل: تین سابق جرنیلوں کے نام ای سی ایل میں شامل

دوران سماعت گالف کلب کے وکیل بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ درخواست میں جو الزامات لگائے گئے ہیں وہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے ریفرنس میں بھی موجود ہیں اور نیب کے ریفرنس دائر کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں کارروائی احتساب عدالت کی کارروائی کو متاثر کرے گی۔

اس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ نیب کے ریفرنس میں کتنے ملزمان ہیں جس پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ نیب ریفرنس میں 14ملزمان کے نام شامل ہیں۔

تاہم درخواست گزار اسحٰق خاکوانی کے وکیل نے کہا کہ نیب نے 8 سال تک اس معاملے میں کچھ نہیں کیا اور نیب کے بجائے سپریم کورٹ ہماری اس درخواست پر فیصلہ کرے۔

اس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے سوال کیا کہ کیا نیب میں ریفرنس دائر ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں کارروائی مناسب ہوگی؟ سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا تو اس کا اثر ریفرنس پر پڑے گا؟

دوران سماعت جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ معاہدے کو درست قرار دیا تو ملزم رہا ہو جائیں گے اور اگر معاہدے کو غلط قرار دیا تو احتساب عدالت میں ملزمان کے لیے مشکلات ہوں گی۔

عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس عظمت سیعد اور رائل پام کے وکیل اعتزاز احسن کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ریلوے گالف کلب اسکینڈل: کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، سپریم کورٹ

اعتزاز احسن نے کہا کہ آج دلائل کے دوران آپ بہت دیر خاموش رہے اور آج آپ نے خاموش رہنے کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، اعتزاز احسن کی اس بات پر عدالت میں قہقہے بلند ہوئے اور ججز بھی ہنس پڑے۔

تاہم اسحٰق خاکوانی کے وکیل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں ریلوے کو جرنیلوں کے سپرد کر دیا گیا اور جنرل (ر) قاضی اشرف پہلے ریلوے کے چیئرمین اور پھر وزیر بن گئے، اس دور میں ریلوے کی قیمتی زمین کوڑیوں کے مول دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ غریب ملازمین کے گھر گرا کر شادی ہال تعمیر کیے گئے، سپریم کورٹ نے رائل پام انتظامیہ کے کلب میں داخلے پر پابندی عائد کی اور عدالت نے آڈٹ کمپنی فرگوسن کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ عوام کی نمائندگی نہیں کرتے اور کسی رکن پارلیمنٹ کو عوام کی پرواہ نہیں، عدالت کو آرٹیکل 184/3 کا اختیار استعمال کرنا ہوگا۔

وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریلوے دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، معاہدہ 103 ایکڑ اراضی کا تھا قبضہ 143 ایکڑ پر کر لیا گیا، یہ برصغیر کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ ملک کی حالت بدلنی ہے تو کرپٹ بیوروکریسی کو بھی بدلنا ہوگا، نیب میں جرنیلوں کا ٹرائل کرنے کی ہمت نہیں۔

انہوں نے عدالت میں انکشاف کیا قطر اس جگہ پر کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کو تیار ہے۔

بعد ازاں عدالت نے ریلوے پام کا معاہدہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، جو بعد میں سنایا جائے گا۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ آج اہم کیس تھا، یہ کیس 20 سال بعد انجام کو پہنچے گا اور امید ہے کہ انصاف پر مبنی فیصلہ آئے گا۔

مزید پڑھیں: گولف کلب کرپشن ریفرنس: شریک ملزم کے قابل ضمانت وارنٹ جاری

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ریلوے کا خسارہ کم ہوگا کیونکہ بین الاقوامی کمپنیاں گالف کلب کی زمین لیز پر لینا چاہتی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اپریل میں احتساب کے قومی ادارے کی جانب سے رائل پام گالف کلب اسکینڈل کیس سے متعلق ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

نیب کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 2001 میں پاکستان ریلوے نے لاہور میں نہر کنارے اپنے گالف کلب کی اراضی 33 سالہ لیز پر دینے کی پیش کش کی تھی، جس کے لیے متعدد کمپنیوں نے بولیاں جمع کروائیں تھی، جس میں نجی کمپنی میکس کورپس بھی شامل تھی، تاہم بولی کے عمل کے دوران لیز کے دورانیے کو غیر قانونی طور پر 33 سے بڑھا کر 49 سال کردیا گیا۔

اس کے علاوہ پیش کش کی گئی کہ زمین کے رقبے کو بھی غیر قانونی طور پر ریلوے آفیسرز کالونی گرا کر 103 سے 140 ایکڑ کردیا گیا، لہٰذا پاکستان ریلوے کی زمین کا قیمتی ٹکرا غیر شفاف طریقے سے غیر قانونی طور پر لیز ہوا، جس کا مقصد غیر قانونی طریقے سے لیز رکھنے والے اور ایک نجی کمپنی مین لینڈ حسنین پاکستان لمیٹڈ کے مالک کو فائدہ پہنچانا تھا۔

نیب تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملزمان نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے 2001 میں تجارتی مقاصد کے لیے مین لینڈ حسنین پاکستان لمیٹڈ کو ریلوے گالف کلب کی 49 سالہ لیز اور 140 ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر دے کر مبینہ طور پر کرپشن کی، جس کی وجہ سے قومی خزانے کو تقریباً 2 ارب 20 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔