ڈیڑھ سال بعد آنے والی معاشی ترقی پائیدار ہوگی، اسد عمر

اپ ڈیٹ 12 اپريل 2019

ای میل

اسد عمر آئی ایم ایف مذاکرات کے لیے وفد کے ہمراہ واشنگٹن میں موجود ہیں— فائل فوٹو: وائٹرز
اسد عمر آئی ایم ایف مذاکرات کے لیے وفد کے ہمراہ واشنگٹن میں موجود ہیں— فائل فوٹو: وائٹرز

وزیر خارجہ اسد عمر نے کہا کہ معیشت میں استحکام میں مزید ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا اور حکومت معاشی بہتری کے لیے ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔

واشنگٹن کے سفارتخانے میں پاکستانی کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی 5سالہ مدت کے 3مراحل ہیں، پہلے مرحلے میں ابتدائی چند ماہ میں اپنی بقا کی جنگ لڑنا تھا اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ مرحلہ کامیابی سے گزر گیا ہے۔

مزید پڑھیں: اسد عمر کی عالمی بینک کے صدر اور آئی ایم ایف حکام سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں، اقتدار میں آنے کے ایک ماہ بعد ستمبر میں اندازہ لگایا تھا کہ ہمیں ملکی معیشت میں استحکام کے لیے 2سال اور تیسرے سال سے ترقی کا آغاز ہو گا جو میرے خیال میں اب بھی ایک اچھا اندازہ ہے۔

اسد عمر منگل کو وفد کے ہمراہ واشنگٹن پہنچے تھے اور روانگی سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اُمید ظاہر کی تھی کہ ان کے 2 روزہ دورہ امریکا کے دوران مجوزہ آئی ایم ایف پیکج کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

اسد عمر نے کہا کہ ہمیں معیشت کی بہتری میں مزید 18ماہ لگیں گے جس کے بعد بہتری آنا شروع ہو گی لیکن ہمیں اس بات پر یقین ہے اس مرتبہ اقتصادی ترقی پائیدار ہو گی اور یہ مالی خسارے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے متاثر نہیں ہو گی۔

’ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ٹی20 کے بجائے 5روزہ ٹیسٹ میچ کھیلنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں‘۔

یہ بھی پڑھیں: ترقیاتی منصوبوں پر 9 ماہ کے دوران 449 ارب روپے کی کم رقم خرچ

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا بار بار سامنا ہے اور مجھے کوئی ایسی حکومت یاد نہیں پڑتی جسے ادائیگیوں میں توازن کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو اور اس نے آئی ایم ایف سے مدد طلب نہ کی ہو۔

انہوں نے 1988، 1999، 2008، 2013 اور 2018 میں بحرانی صورتحال ایک ہی طرح کی تھی، اس کا مطلب یہ ہے ڈھانچے میں کہیں نہ کہیں کوئی غلطی ہے اور اسی لیے حکومت ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف مشن شروع کرنے کا اصولی فیصلہ قومی معیشت کے بہترین مفاد میں کیا گیا اور آئی ایم ایف پروگرام سے معیشت میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد تکنیکی معاملات طے کرنے کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان پہنچے گا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتربنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی پیشکش کی تھی، خطے میں تجارتی سرگرمیوں سے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔

مزید پڑھیں: کراچی: ایک اور بے نامی اکاؤنٹ میں 36 کروڑ روپے کی موجودگی کا انکشاف

پاکستان نے اپنی معیشت میں بہتری کے لیے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک مرتبہ پھر مالی معاونت طلب کی تھی اور اس کے بعد سے اب تک اس کی آئی ایم ایف سینئر حکام سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

اتوار کو عالمی بینک نے کہا تھا کہ سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کے باعث پاکستان کی معاشی شرح نمو آئندہ مالی سال میں مزید 2.7 فیصد کم ہو گی جو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔

واشنگٹن میں موسم بہار کے اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والے وفد میں گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ، سیکریٹری فنانس یونس ڈھاگا، معاشی امور کے ڈویژن سیکریٹری نور احمد اور ان اداروں کے دیگر سینئر حکام شامل ہیں۔