خیبرپختونخوا: یونیورسٹی کے طلبا کا تیار کردہ فضائی آلودگی جانچنے کا آلہ فعال

اپ ڈیٹ 12 اپريل 2019

ای میل

یہ آلہ طلبہ نے مقامی طور پر تیار کیا ہے اور اس سے ٖفضائی آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی—فوٹو: عارف حیات
یہ آلہ طلبہ نے مقامی طور پر تیار کیا ہے اور اس سے ٖفضائی آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی—فوٹو: عارف حیات

خیبرپختونخوا کے ضلع کرک یونیورسٹی کے طلبا کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ فضائی آلودگی کو معلوم کرنے والا پہلا آلہ مکمل طور پر فعال ہوگیا۔

اس حوالے سے بتایا گیا کہ اس آلے نے مکمل طور پر کام کرنا شروع کردیا ہے اور یہ فضا میں کاربن مونو آکسائڈ، کاربن ڈائی آکسائڈ اور امونیا کی شرح کو مانیٹر کرسکے گا۔

یہ آلہ کرک یونیورسٹی کے طالب علموں کی جانب سے تیار کیا گیا ہے اور اسے پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر پہلے مرحلے میں ضلعی سیکریٹریٹ میں لگایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان فضائی آلودگی سے زیادہ اموات کے شکار سرفہرست ممالک میں شامل

کرک یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اور بائیو انفارمیٹکس کے چوتھے سیمیسٹر کے طالب علم صفدر فہیم نے ڈان نیوز کو بتایا کہ پائلٹ پروجیکٹ میں ان کی ڈیوائس کو ایئر پام کا نام دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ایئر پام گیجٹ کے نتیجے میں حکومت کو فضائی آلودگی کم کرنے کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں'۔

صفدر فہیم نے مزید بتایا کہ ایئر پام گیجٹ نہ صرف فضا میں گیسز کا تناسب بلکہ فضا میں دھول کے ذرات کو الگ کرنے کے لیے 2 طرح کے حجم 2.5 اور 10 مائیکرون کو ٹھیک کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گیجٹ کی رینج 2 سے 3 اسکوائر کلومیٹر ہے اور مشین میں مائیکرو کنٹرولر موجود ہیں جو ایک پراسیسر کی طرح کام کرتے ہیں جبکہ اس میں موجود سینسر بہت حساس ہیں جو گیسز کو محسوس کرلیتے ہیں۔

طالب علم نے کہا کہ یہ پروجیکٹ کرک یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اینڈ بائیو انفارمیٹکس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد زبیر کی جانب سے دیا گیا تھا، جسے 2 ماہ میں مکمل کیا گیا اور اس پر 15 سے 20 ہزار روپے کا خرچ آیا۔

دوسری جانب ضلعی سیکریٹریٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی ہلال خان نے ڈان نیوز کو بتایا کہ 'ایئر پام گیجٹ ڈیٹا ہر 30 منٹ بعد ڈیٹا حاصل کرکے جی ایس ایم کے ذریعے اسے ڈائریکٹریٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو بھیجتا ہے'۔

واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 2016 میں کیے گئے سروے کے مطابق پشاور دنیا کا دوسرا آلودہ ترین شہر تھا۔

ادھر پشاور کے میئر محمد عاصم کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کے پاس اس خاص اہمیت کے حامل معاملے پر قابو پانے کا کوئی صحیح میکانزم نہیں ہے، تاہم اس طرح کی ایجاد کے بعد ہمیں امید ہے کہ فضا کو صحت کے لیے دوبارہ محفوظ بنائیں گے۔

میئر پشاور کا کہنا تھا کہ اب ہم ایئر پام گیجٹ کے ذریعے ڈیٹا حاصل کر ہے ہیں اور شہریوں کے لیے جامع منصوبہ بندی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فضائی آلودگی صحت کیلئے سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ قرار

انہوں نے کہا کہ اس آلے سے باچا خان چوک، فردوس اور ہشتناگری بازار اور جی ٹی روڈ سے ملحقہ گنجان آباد علاقوں میں آلودگی کا پتہ چلانے میں مدد ملے گی۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ کامیاب تجربے کے بعد حکومت کا اسے شہر کے دوسرے علاقوں میں بھی بڑھانے کا منصوبہ ہے۔

علاوہ ازیں طالب علم ساجد اسلام کا کہنا تھا کہ خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک کے شعبہ طبیعات کے ساتھ کام کرکے یونیورسٹی میں سینسر بنائے تاکہ ہم ڈیوائس کو اوزون نائٹروجن ڈائی آکسائڈ و دیگر گیس کے ساتھ بہتر بنا سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے بہت نیچے سے کام کا آغاز کیا اور ہماری مشین کے لیے مناسب پرزے تلاش کیے اور بالاخر خوشحال خان خٹک یونیوسٹی اور ڈائریکٹریٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس مشین کو مختلف علاقوں میں نصب کرسکے۔