خاشقجی قتل: امریکا کا سعودی ولی عہد کو معطل مشیر سے تعلق نہ رکھنے کا مشورہ

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2019

ای میل

سعودی فرمان روا شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کے مشیر 
سعود القحطانی کو عہدے سے فارغ کردیا تھا۔ —فوٹو: ڈان
سعودی فرمان روا شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کے مشیر سعود القحطانی کو عہدے سے فارغ کردیا تھا۔ —فوٹو: ڈان

سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے جمال خاشقجی قتل سے متعلق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو ان کے قریبی مشیر سعود القحطانی سے ہر قسم کا تعلقات ختم کرنے کا مشورہ دے دیا۔

دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق مائیک پومپیو نے ولی عہد پر زور دیا کہ امریکا نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث سعود القحطانی پر پابندی عائد کی اس لیے وہ اپنے مشیر سے ہر طرح کا تعلق ختم کردیں۔

یہ بھی پڑھیں: جمال خاشقجی کے خاندان کی سعودی حکومت سے تصفیہ کی تردید

اخبار نے دعویٰ کیا کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے سعود القحطانی سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار سعودی ولی عہد اور ان کے بھائی خالد بن سلمان سے نجی گفتگو میں کیا۔

خیال رہے کہ امریکی حکام سمجتھے ہیں کہ ولی عہد کے سابق ساتھی سعود القحطانی نے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ٹیم کی نگرانی کی تھی۔

سعود القحطانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے انتہائی رازداروں میں شمار ہوتے ہیں۔

مائیک پومپیو کی جانب سے ولی عہد کو سعود القحطانی سے کنارہ کشی کا مشورہ ایسے وقت پر دیا جا رہا ہے جب کانگریس کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے کہ وہ گزشتہ برس جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی عرب پر تنقید نہیں کررہے۔

مزیدپڑھیں: ’جمال خاشقجی کا قتل سعودی ولی عہد کے حکم پر ہوا‘

دوسری جانب اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نے گارجین کو بتایا کہ وہ نجی سطح پر ہونے والی سفارتی گفتگو پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں۔

سعود القحطانی نے جمال خاشقی قتل کے الزام کو قطعی مسترد کیا تھا لیکن سعودی فرمان روا شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کے مشیر (سعود القحطانی) کو عہدے سے فارغ کردیا تھا۔

تاہم چندمہینوں بعد میڈیا رپورٹس منظر عام پر آئیں کہ سعودالقحطانی تاحال سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطے میں ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز صحافی جمال خاشقجی کے خاندان نے سعودی انتظامیہ سے عدالت سے باہر مذاکرات کے ذریعے تصفیہ کی تردید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب خاشقجی قتل کا ’اوپن ٹرائل‘ کرے، اقوام متحدہ

جمال خاشقجی کے بڑے بیٹے صلاح خاشقجی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'فی الوقت معاملے کا ٹرائل چل رہا ہے اور تصفیہ کے لیے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'جنہوں نے یہ جرم کیا اور اس میں ملوث رہے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور سزا دی جائے گی۔'

واضح رہے کہ امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' نے یکم اپریل کو اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب نے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے 4 بچوں کو 'خون بہا' میں لاکھوں ڈالر مالیت کے گھر اور ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں ڈالر رقم دی۔