'بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں'

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2019

ای میل

پاکستان میں بھی جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدمات کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا — فوٹو: اسکرین شاٹ
پاکستان میں بھی جوڈیشل پالیسی کے تحت مقدمات کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا — فوٹو: اسکرین شاٹ

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں جبکہ فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد میں فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جج بنا تو پہلے دن سے ہی مشن تھا کہ مقدمات کے جلد فیصلے کیے جائیں، بار میں وکلا مجھے اور ساتھی ججز کو جنون گروپ کہتے تھے۔

اس موقع پر انہوں نے شکوے کا اظہار کیا کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل نہیں، جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کے لیے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا، عدلیہ کی طرح پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی انصاف کے شعبے میں بہتری کے لیے ذمہ داری لینا ہوگی۔

مزید پڑھیں: مفت سہولیات دیکر فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے کہ اسکول جانا ہے یا مدارس، چیف جسٹس

مقدمات کے التوا کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں فیصلوں میں تاخیر کم کرنے کے لیے کئی تجربات کیے گئے، کبھی قانون میں ترمیم تو کبھی ڈو مور کی تجویز دی گئی لیکن ججز کو ڈو مور کا نہیں کہا جاسکتا، ہمارے ججز جتنا کام کر رہے ہیں، اتنا دنیا میں کوئی نہیں کرتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں مجموعی طور پر 3 ہزار ججز ہیں، گزشتہ سال عدلیہ نے 34 لاکھ مقدمات نمٹائے جبکہ ججز کو اس سے زیادہ ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے۔

غیر ملکی عدالتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ سال میں 80 سے 90 مقدمات نمٹاتی ہے جبکہ برطانیہ کی اعلیٰ عدلیہ سالانہ 100 مقدمات کا فیصلہ کرتی ہے لیکن پاکستان کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 26 ہزار مقدمات نمٹائے، تاہم اس کے باوجود فیصلوں میں تاخیر کی وجوہات کو کم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون کہتا ہے کہ فوجداری کیس کی تحقیقات 2 ہفتے میں مکمل ہوں، 2 ہفتے میں تفتیش مکمل کرکے چالان جمع کرانا لازمی ہے، چالان جمع ہونے کے بعد عدالت کا کام ہے کیس کا شیڈول بنائے، برطانیہ میں آج بھی کیس دائر کریں تو سال بعد کی تاریخ ملتی ہے، برطانیہ میں جب کیس لگ جائے تو پھر التوا نہیں دیا جاتا، ٹرائل کورٹ میں التوا کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔

ماڈل کورٹس کے حوالے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ عدالتیں مشن کے تحت قائم کی گئیں تھیں، ان کے قیام کے پیچھے ایک جذبہ اور عزم تھا، ماڈل عدالتوں کا مقصد التوا کا باعث بننے والی رکاوٹوں کو دور کرنا اور عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس کا تجربہ آئین کے آرٹیکل 37 ڈی پر عملدرآمد کرنا ہے کیونکہ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، ان عدالتوں میں گواہان پیش کرنے میں پولیس کا تعاون مثالی ہے، پولیس کو مقدمے کی فوری تحقیقات کرکے چالان پیش کرنا چاہیے، اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو لانے والی پولیس وینز کا باقاعدہ انتظام کرنا چاہیے، ملزمان کی عدالت میں حاضری یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ ملزمان کی عدم پیشی پر جیل حکام کے خلاف کارروائی ہوگی، آئی جی جیل خانہ جات قیدیوں کی وینز کی موجودگی اور ملزمان کی پیشی یقینی بنائیں، کسی وجہ سے وکیل کے پیش نہ ہونے پر جونیئر کو مقرر کیا جائے گا جبکہ مقدمے میں کسی وجہ سے استغاثہ کے پیش نہ ہونے پر متبادل کا انتظام کیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ فرانزک لیب ماہرین بھی عدلیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کر ہے ہیں، مقدمے کی سماعت سے پہلے تمام متعلقہ مواد عدالت میں موجود ہونا چاہیے، تاخیر کو ہدف بنا کر ختم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں سے فوری انصاف کی فراہمی پر توجہ نہیں دی گئی، تاہم اب مقدمات کا التوا ختم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔

اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہم نے کوئی قانون تبدیل کیا ہے نہ ضابطہ کار، مقدمات کے فوری فیصلے کرنے والوں کو سیلیوٹ کرتا ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی قوانین میں انسانی حقوق کو مد نظر رکھاجاتاہے، عدالتی قوانین واضح ہیں، انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے، انسداد دہشت گردی ایکٹ سمجھنے کے لیے قانون میں تعارف موجود ہے جبکہ قوانین میں ابہام دور کرنے کے اٹارنی جنرل سے رائی مانگی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی کی تعریف کے تعین کیلئے چیف جسٹس کی سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل

چیف جسٹس نے ماڈل کورٹس میں عدالتی عمل تیز کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ متازع معاملات اور وراثتی مقدمات کے لیے بھی نظام کو آسان بنایا جارہا ہے،وراثتی سرٹیفکیٹ کے لیے عدالتوں کے بجائے نادرا کا نظام اپنانے کی ضرورت ہے، خاندانی اور وراثتی مسائل عدالت کے بجائے نادرا میں حل ہو سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی جائزے سے پہلے بہتر ہوگا کہ پارلیمنٹ ایسے قوانین کا جائزہ لیں، جائیداد کے تنازعات کے فیصلے پولیس رپورٹس پر ہوتے ہیں، کیا پولیس کا کام ہے کہ فریقین کے حقوق کا تعین کرے؟ سول مقدمے میں پولیس کے کردار کا قانون سمجھ سے بالاتر ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کے ذریعے معاملے کو حکومت کے نوٹس میں لایا جائے، پارلیمنٹ خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کا جائزہ لے۔

انسداد دہشت گردی قوانین پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس قانون کو دیکھیں تو چوری اور زنا بھی دہشت گردی ہے، عدالت نے دہشت گردی کی دفعات کا جائزہ لینے کے لیے لارجر بینچ بنایا، اس بینچ کا فیصلہ موجود ہے اس لیے اس پر بات نہیں کروں گا، یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قانون کو آسان بنائے۔