آصف زرداری، مرحوم حاکم زرداری کی برسی بھی منالیا کریں، وہ ان کے والد تھے، فواد چوہدری

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2019

ای میل

1988 کے بعد پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمٰن سے اسمبلی کی جان چھوٹی ہے — فوٹو: ڈان نیوز
1988 کے بعد پہلی مرتبہ مولانا فضل الرحمٰن سے اسمبلی کی جان چھوٹی ہے — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدی نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 10 برس میں پاکستان پر ڈاکو مسلط رہے ہیں، ان کے خلاف کچھ ہو تو فوراً جمہوریت خطرے میں پڑجاتی ہے لیکن نہ جمہوریت خطرے میں ہے نہ اسلام کو کئی خطرہ ہے۔

کھیوڑہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اپنی حریف جماعتوں کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی جو کبھی ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی پارٹی تھی وہ آج اندرون سندھ کی ایک چھوٹی سی جماعت بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پارٹی کا بھی یہ حال ہے کہ بلاول بھٹو جب کاروان بھٹو چلاتے ہیں تو اپنے والد کی تصویر نہیں لگاتے جبکہ آصف علی زرداری کا بھی یہ حال ہے کہ وہ روزانہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظر بھٹو کی سالگرہ اور برسی مناتے ہیں تو وہ کبھی مرحوم حاکم زرداری کی بھی برسی منا لیا کریں وہ ان کے والد تھے۔

مزید پڑھیں: فواد چوہدری: جیسا دیس ویسا بھیس

مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 1988 کے بعد پاکستان کی اسمبلی کی ان سے جان چھوٹی ہے، جس پر ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں، ان سے برداشت نہیں ہورہا کہ میں کیسے باہر ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا جو حال ہے اور جو باتیں سامنے آرہی ہیں، اس سے اندازہ لگا لیں کہ 10 برس میں کتنے ’مجرم اور ڈاکو‘ ہمارے اوپر مسلط رہے ہیں اور پیسہ بنایا گیا، جب ان سے اس بارے میں پوچھیں تو جمہوریت کو خطرہ ہوجاتا ہے۔

وفاقی وزیر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نہ جمہوریت خطرے میں ہیں نہ اسلام کو کوئی خطرہ ہے، اگر خطرے میں کوئی ہے تو وہ یہ ’ڈاکو‘ ہیں، تاہم ہم نے پاکستان کو بہت طاقتور ملک بنانا ہے اور اسے روشن مستقبل دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے انتہائی موثر طریقے سے پاکستان میں شدت پسند تنظیموں پر قابو پایا ہے، جہاں طاقت کی ضرورت تھی وہاں اس کا استعمال کیا، جہاں گفتگو کی ضرورت تھی اس جگہ مسائل کو گفتگو سے حل کیا۔

سابق فاٹا کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ پیچھے رہ گئے، یہاں لوگوں نے وہ ظلم و جبر سہا ہے کہ ضروری ہے کہ اس علاقے کے لوگوں کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کریں اور وزیر اعظم نے 100 ارب روپے سالانہ خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے پہلے 'ابو بچاؤ مارچ' کا آغاز ہوگیا، فواد چوہدری

انہوں نے کہا کہ اس پیکج میں وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا نے اپنا حصہ کاٹ کر فاٹا کو دیا ہے کیونکہ ہم ان کے درد محسوس کرتے ہیں، اسی طرح بلوچستان ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو فاٹا کے لیے اسمبلی میں بات کرتے تھے لیکن جب پیسے دینے اور موثر کردار ادا کرنے کی بات آئی تو پیپلز پارٹی نے فاٹا کے علاقے سے سوتیلے پن کا سلوک روا رکھا اور اپنا حصہ دینے سے انکار کردیا۔

دہشت گردی کے واقعات پر ان کا کہنا تھا کہ یہ جو ایک، 2 واقعات ہورہے ہیں ان کا سرا پاکستان سے باہر سے ملتا ہے، تاہم کوئٹہ جیسے واقعات ہمارا راستہ نہیں روک سکتے، ہم طاقتور پاکستان کی بنیاد رکھ چکے ہیں اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔