بھارت: مردہ گائے کی کھال اتارنے پر شہری کا قتل

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2019

ای میل

پولیس کے مطابق مشتعل افراد کے حملے میں واقعے میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے — فائل فوٹو/اے پی
پولیس کے مطابق مشتعل افراد کے حملے میں واقعے میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے — فائل فوٹو/اے پی

بھارتی پولیس کے مطابق مردہ گائے کی کھال اتارنے پر مشتعل افراد نے ایک شہری کو قتل اور دیگر 3 کو زخمی کردیا۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی رپورٹ کے مطابق مئی 2015 سے لے کر گزشتہ برس دسمبر تک گائے سے متعلق واقعات میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے کم از کم 44 افراد کو قتل کیا جاچکا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایسا واقعہ بھارت کی مشرقی ریاست جھاڑکھنڈ میں پیش آیا جہاں مقامی مسیحی برادری کے افراد ایک بیل کی کھال اتار رہے تھے۔

جھاڑکھنڈ پولیس کے سینیئر حکام ایم ایل مینا کا کہنا تھا ’مشتعل افراد کے ہاتھوں میں سریے اور ڈنڈے تھے جنہوں نے مسیحی برادی کے افراد پر حملہ کیا‘۔

مزید پڑھیں: بھارت: گائے ذبح کرنے کے خلاف مظاہرے، پولیس اہلکار سمیت 2 افراد ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے 3 افراد کو ہسپتال منتقل کردیا گیا جبکہ 2 ملزمان کو مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کیا جاچکا ہے اور مزید 5 کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ’فی الوقت یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ ملزمان ہندو انتہا پسند گروہ کا حصہ تھے یا نہیں‘۔

ان کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے 4 افراد مقامی قبیلے کے تھے اور ان کے خلاف بھی غیر قانونی طور پر بیل ذبح کرنے کا مقدمہ درج کیا جاچکا ہے۔

مینا کا کہنا تھا کہ متاثرین کے خلاف مقدمہ گاؤں کے مقامی ہندو شخص کی شکایت پر درج کیا گیا جو اس کے مطابق بیل کو ذبح کرنے کے واقعے کا عینی شاہد ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ’ گائے ذبح کرنے پر قتل کے واقعات میں پولیس ملوث ہوتی ہے’

ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک کی تحقیقات کے مطابق بیل طبعی موت مرا تھی تاہم ہم اس بارے میں مزید تحقیقات کر رہے ہیں‘۔

2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گائے کے مبینہ ذبح اور اس کا گوشت کھانے کے الزام میں قتل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں گائے کے ذبح اور اسمگلنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی لہر دیکھی جاچکی ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو رواں برس دوسری مدت کے لیے انتخابات لڑیں گے، انہوں نے مشتعل ہجوم کی جانب سے گائے ذبح کرنے کے الزام میں قتل کی مذمت کی ہے اور مذہب کو تشدد کے لیے استعمال کرنے والے گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر زور دیا ہے۔