نیدرلینڈز: بانچھ پن کا معالج 40 سے زائد بچوں کا باپ نکلا

اپ ڈیٹ 14 اپريل 2019

ای میل

2017 میں ڈاکٹر جان قربت کے خلاف پہلی مرتبہ عدالتی کارروائی شروع ہوئی—فوٹو: ای پی اے
2017 میں ڈاکٹر جان قربت کے خلاف پہلی مرتبہ عدالتی کارروائی شروع ہوئی—فوٹو: ای پی اے

نیدرلینڈز کے ایک مرحوم ڈاکٹر کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ بے اولاد متعدد خواتین کے رحم مادر میں انجیکشن کے ذریعے اپنا ہی نطفہ داخل کرتا رہا۔

دی انڈیپینڈنٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق مقامی عدالت میں دو برس قبل انتقال کر جانے والے فرٹیلیٹی ڈاکڑ جان قربت پر الزام لگا گیا تھا کہ وہ بطور ڈونر اپنا ہی نطفہ بے اولاد خواتین کو عطیہ کرتے رہے اور اس دوران متعدد خواتین نے تقریباً 49 بچوں کو جنم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مردوں میں بانجھ پن کا خطرہ بڑھانے والی عام وجوہات

اس حوالے سے بتایا گیا کہ ڈاکٹر سائنسی طریقے سے بے اولاد خواتین کے رحم مادر میں بذریعہ انجیکشن اپنا ہی نطفہ منتقل کرتا تھا جبکہ خواتین نطفہ کے ڈونر کے بارے میں بے خبر رہیں۔

ڈچ عدالت میں پیش کیے جانے والی ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ متعدد خواتین کی کوکھ سے پیدا ہونے والے تقریباً 49 بچے ڈاکٹر جان قربت کے ہیں۔

مذکورہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب ڈونر بچوں اور ان کے والدین نے درجنوں بچوں کی شکلیں اور خصلتیں یکساں محسوس کی۔

مزیدپڑھیں: خواتین میں بانجھ پن بڑھانے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

جس کے بعد 2017 میں ڈاکٹر جان قربت کے خلاف پہلی مرتبہ عدالتی کارروائی شروع ہوئی۔

دوران سماعت عدالت نے بھی محسوس کیا کہ مذکورہ مقدمے میں ایک بچے کے خدوخال ڈاکٹر سے مماثلت رکھتے تھے۔

اس دوران ڈاکٹر 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تاہم ان کے گھر میں موجود دانتوں کے برش سے ڈاکٹر کا ڈی این اے حاصل کیا گیا۔

ڈی این اے ٹیسٹ کی نتائج سامنے آنے کے بعد ججز نے نتائج جاری کرنے کا حکم دےدیا۔

واضح رہے کہ بیشتر بچے عمر کی 30 ویں دہائی میں داخل ہو چکے ہیں جنہیں اب معلوم ہوا کہ وہ دراصل ڈاکٹر جان قربت کے بیٹے یا بیٹی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بانجھ پن کا ٹیسٹ اسمارٹ فون سے ممکن

ایک لڑکے نے کہا کہ ’11 برس کی تلاش کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں ڈاکٹر جان قربت کا بیٹا ہوں‘۔

مقامی میڈیا نے ڈاکٹر جان قربت کے بارے میں بتایا کہ ’مرحوم خود کو فرٹیٹلی (بانچھ پن) کی فیلڈ کا ماہر‘ کہتے تھے۔