توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص گرفتار، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

اپ ڈیٹ 14 اپريل 2019

ای میل

مشتبہ شخص کے موبائل اور لیپ ٹاپ کو بھی قبضے میں لے لیا گیا  — فائل فوٹو: اے ایف پی
مشتبہ شخص کے موبائل اور لیپ ٹاپ کو بھی قبضے میں لے لیا گیا — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: جوڈیشل مجسٹریٹ نے اسلام آباد میں توہین مذہب کے جرم میں ایک شخص کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

اس شخص کو شمس کالونی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف دفعہ 295 اے کے تحت درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا جس کے تحت کسی شخص کے مذہب یا مذہبی جذبات کی جان بوجھ کر بدنیتی پر مبنی عزائم کے ساتھ تضحیک کرنے اور اسے مذہبی اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 298 اے کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے جس کے تحت مقدس شخصیات کے خلاف توہین آمیز الفاظ کا استعمال جرم ہے۔

مزید پڑھیں: ’ توہین مذہب کے واقعات ہونا مسلم دنیا کی ناکامی ہے‘

اس سے قبل ایک مقامی، محمد سہیل، نے ایس ایس پی اسلام آباد سے رابطہ کر کے شکایت درج کرائی تھی کہ اس کا ایک دوست، جو پیشے کے اعتبار نائی ہے، نے اسے ایک مشتبہ شخص اور اس کی گستاخانہ سرگرمیوں کے بارے میں بتایا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق شکایت گزار نے اپنے دوستوں سے مشورے کے بعد مشتبہ فرد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے معاملہ رپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

شکایت گزار نے کہا کہ مشتبہ شخص کے عمل سے علاقے کے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے جس سے علاقہ مکینوں میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے اور امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: توہین مذہب کےمعاملے پر کسی بے گناہ کا نقصان نہیں ہونا چاہیے، صدر مملکت

تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد نواز نے کہا کہ مشتبہ شخص کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جنہوں نے اسے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

پولیس نے ملزم کے موبائل فون اور لیپ ٹاپ کو قبضے میں لے کر ثبوت اکٹھا کرنے کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے پاس بھیج دیئے ہیں۔


یہ خبر 14اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔