بھارتی انتخابات میں دولت کا راج، کاروباری شخصیات کا اہم کردار

اپ ڈیٹ 14 اپريل 2019

ای میل

کاروباری سیکٹر کی جانب سے  نریندر مودی کی اتتخابی مہم کو مالی تعاون فراہم کیا جارہا ہے  فوٹو: اے ایف پی /فائل —
کاروباری سیکٹر کی جانب سے نریندر مودی کی اتتخابی مہم کو مالی تعاون فراہم کیا جارہا ہے فوٹو: اے ایف پی /فائل —

بھارت کے عام انتخابات میں ملک کی اہم کاروباری شخصیات انتخابی مہم اور سیاسی جماعتوں کی حمایت میں اہم کردار ادا کررہی ہیں جس کے باعث انتخابی عمل کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اتتخابی مہم کو بھارت کے کاروباری سیکٹر کی جانب سے مالی تعاون فراہم کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے دنیا کے سب سے بڑے جمہوری عمل کی شفافیت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

دوسری جانب کانگریس پارٹی کے راہول گاندھی فائٹر جیٹ معاہدے کو ناکام کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جس میں صنعت کار انیل امبانی بھی شامل ہیں جبکہ وجے مالیا اور نیرو مودی لندن سے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

بھارت میں انتخابات کے اخراجات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں نامعلوم کاروباری افراد سے ملنے والے عطیات پر زیادہ انحصار کررہی ہیں جس کی وجہ سے شفافیت میں کمی کے خدشات سامنے آرہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بی جے پی سربراہ کا غیرقانونی مہاجرین کو خلیج بنگال میں پھینکنے کا وعدہ

آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے رکن نرنجن ساہو نے بتایا کہ ’ پلوٹوکریسی ( دولت کی طاقت ) کا رجحان ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ بے قابو سرمایہ کاری پالیسیوں پر سنگین اثرات مرتب کرسکتی ہے‘۔

نئی دہلی میں قائم سینٹر فار میڈیا اسٹڈیز کے ایک اندازے کے مطابق 2014 کے انتخابات میں 5 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے جس کی وجہ سے مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقتدار میں آئی تھی جبکہ 2009 کے انتخابات میں 2 ارب ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔

ادارے کا خیال ہے کہ 2019 کے الیکشن میں 7 ارب ڈالر تک خرچ کیے جائیں گے ،یہ عالمی طور پر دنیا کے مہنگے ترین انتخابات میں سے ایک ہے۔

کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ملن ویشنو کا کہنا ہے کہ ’ بڑھتی ہوئی آبادی، سیاسی مقابلے میں اضافہ، نقدی اور دیگر صورت میں ووٹرز کی امیدیں، تکنیکی تبدیلیاں جس کا مطلب میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع کے لیے زیادہ سے زیادہ اخراجات کرنا ہے اور یہی وجہ ہے کہ الیکشن بہت مہنگے ہوگئے ہیں‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فنڈنگ کے روایتی طریقے جیسا کہ پارٹی ممبرشپ میں کمی آرہی ہے جس کی وجہ سے انتخابی مہم کی فنڈنگ میں دولت مند ڈونرز پر انحصار میں اضافہ ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کا نریندر مودی کے چینل کی نشریات بند کرنے کا حکم

ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز( اے ڈی آر) کی جانب سے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 18-2017 میں کارپوریٹس اور انفرادی شخصیات نے کانگریس سمیت دیگر 6 قومی جماعتوں کے مقابلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو 12 گنا زیادہ چندہ دیا۔

اے ڈی آر کے تجزیے کے مطابق 18-2017 میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے20 ہزار روپے کے 93 فیصد عطیات حاصل کیے جس میں بی جے پی کو 4 ارب 37 کروڑ روپے اور کانگریس کو 26 کروڑ 70 لاکھ روپے ملے تھے

نرنجن ساہو کا کہنا ہے کہ ’ اب فنڈنگ میں بہت بڑا فرق ہے، کانگریس کے پاس الیکشن لڑنے کے لیے پیسے نہیں ہیں‘۔

مودی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے نقد عطیات میں دی جانی والی رقم میں کمی کرکے سیاست میں بلیک منی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے، جس کے تحت اب صرف 20 ہزار سے 2 ہزار روپے کی عطیات نقد دی جاسکتی ہیں۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اب دولت مند طبقے کے لیے سیاسی جماعتوں کو پیسے دینا اور بھی آسان ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ، 20 ریاستوں کی 91 نشستوں پر پولنگ مکمل

دو روز قبل سماجی کارکنان کی جانب سے بانڈ سسٹم کو چیلنج کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو ڈونرز کی شناخت ظاہر کرنےکا حکم دیا تھا۔

کاروباری شخصیات عموماً امیدواروں کی حمایت نہیں کرتیں لیکن مودی کئی بڑے ٹائیکونز کے قریب معلوم ہوتے ہیں۔

بھارت کے کاروباری افراد زیادہ قیمت کے بینک نوٹ منسوخ ہونے اور نئے ٹیکس کے ناقص نفاذ سے اقتصادی ترقی کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے اس مرتبہ مودی کے لیے کم پرجوش دکھائی دے رہے ہیں۔

تاہم وہ ہر حال میں نریندر مودی کو ہی ووٹ دیں گے کیونکہ انہیں خوف ہے کہ کوئی اتحاد یا راہول گاندھی کی جیت سے انتہائی ضروری معاشی اصلاحات رک سکتی ہیں۔

ممبئی کے ایک نامور کارورباری شخصیت کا کہنا ہے کہ ’ ہم نے جیسا سوچا تھا وہ ویسے مسیحا نہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرکوئی چاہتا ہے کہ مودی اقتدار میں آئیں کیونکہ ان کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے‘۔