عراق میں داعش کے مبینہ 900 جنگجوؤں کےخلاف عدالتی سماعت شروع

اپ ڈیٹ 14 اپريل 2019

ای میل

انسداد دہشت گردی پر مشتمل خصوصی عدالتیں قائم کردی گئی
—فوٹو: اے ایف پی
انسداد دہشت گردی پر مشتمل خصوصی عدالتیں قائم کردی گئی —فوٹو: اے ایف پی

عراق میں شام سے فرار ہو کر داخل ہونے والے زیرحراست دہشت گرد تنظیم داعش کے 900 مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کردی گئی۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عدالتی ذرائع نے بتایا کہ امریکی اتحادی جماعت شامی ڈیموکریٹک فورسز نے مبینہ طورپر داعش کے 900 ’دہشت گردوں‘ کو عراقی حکام کے حوالے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: شام: داعش مخالف اتحاد کی بمباری میں 43 افراد ہلاک

انہوں نے بتایا کہ ہم نے شام سے آنے والے داعش کے تقریباً 900 جنگجوؤں کی تحقیقاتی دستاویزات وصول کرلی ہیں‘۔

ان کے مطابق ’اس ضمن میں انسداد دہشت گردی پر مشتمل خصوصی عدالتیں قائم کردی گئی ہیں‘۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ’ایس ڈی ایف نے 900 داعش کے جنگجوؤں کو گزشتہ چند مہینوں کے دوران عراقی سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا‘۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ’زیر حراست 900 جنگجوؤں میں داعش کے لیڈرز بھی شامل ہیں تاہم ان کی نشاندہی تاحال ممکن نہیں ہوسکی‘۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا افغانستان، شام سے واپسی مگر عراق میں فوج رکھنے کا عزم

انہوں نے بتایا کہ ’قیدیوں میں داعش کے دہشت گرد بھی شامل ہیں جنہوں نے کیمیکل ہتھیار بھی بنائے‘۔

واضح رہے کہ عراق سے سیکڑوں مرد اور خواتین نے داعش میں شمولیت اختیار کی تھی اور ان کی گرفتاری عمل میں آنے کے بعد سزائے موت سنائی گئی۔

عراق پہلے بھی اپنی سرزمین سے داعش کا حصہ بننے والے سیکڑوں مرد اور خواتین کو سزائے موت دے چکا ہے۔

گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ایمنسٹی انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق ’عراق دنیا کے ان 5 ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ پھانسی دی گئی۔

واضح رہے کہ 17 نومبر کو عراق کی فوج نے امریکی سربراہی میں اتحادیوں کی حمایت سے داعش سے تین سال سے بھی زائد عرصے تک قبضے میں رہنے والے قصبے راوہ کا کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عراقی وزیراعظم کا موصل کو فتح کرنے کا اعلان

عراق کی وزارت دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ رسول کے مطابق فوج اور مقامی قبائلی جنگجو نے مغربی صوبے انبار کے علاقے راوہ میں پانچ گھنٹے کی لڑائی کے بعد داعش کو پیچھے دھکیل دیا اور علاقے کا قبضہ دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔

عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے راوہ کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے پر فوج کو مبارک باد دی تھی۔

حیدرالعبادی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ عراقی فورسز نے رواہ کو ریکارڈ وقت میں آزاد کروا دیا اور عراق کے مغربی صحرا اور شام کے ساتھ سرحد پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھا۔