’ایوارڈز پر زیادہ توجہ نہیں دیتی، کام پر فوکس کرتی ہوں‘

ای میل

اُشنا شاہ کئی کامیاب ڈراموں کا حصہ بن چکی ہیں —فوٹو/ اسکرین شاٹ
اُشنا شاہ کئی کامیاب ڈراموں کا حصہ بن چکی ہیں —فوٹو/ اسکرین شاٹ

پاکستان کے کامیاب اور مقبول ڈراموں ’بشر مومن‘، ’لشکارا‘، ’الف اللہ انسان‘ اور ’بلا’ جیسے ڈراموں میں کام کرنے والی اداکارہ اُشنا شاہ کو ان کی بہترین کارکردگی کے باعث لکس اسٹائل ایوارڈز میں ایک اہم ایوارڈز کے لیے منتخب کرلیا گیا۔

اداکارہ کو اس سال بہترین اداکارہ کے ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

ڈرامہ ’بلا‘ میں اُشنا شاہ نے نگار نامی ولن کا کردار نبھایا تھا، جو خود سے زیادہ کسی کو اہمیت نہیں دیتی تھی جبکہ اس نے اپنے قریبی تمام افراد کی زندگی کو بھی کافی متاثر کردیا تھا۔

’نگار‘ کا کردار شاید اُشنا شاہ کی زندگی کا سب سے مشکل کردار ہوگا جسے نبھانا اتنا آسان نہیں تھا، اس ہی حوالے سے ڈان سے اداکارہ نے ان کے اس کردار اور لکس ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے کے حوالے سے بات کی۔

ڈان: آپ کو پہلی مرتبہ لکس اسٹائل ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے، بلا میں آپ کا کردار بھی خاصہ مقبول ہوا تھا، کیا آپ کو اس ایوارڈز میں نامزدگی کی امید تھی؟

اُشنا شاہ: مجھے پہلی مرتبہ لکس اسٹائل ایوارڈز میں نامزدگی ملی ہے اور میں بےحد خوش ہوں، لیکن جب میں اس ڈرامے میں کام کررہی تھی میں نے اس وقت ان چیزوں کے حوالے سے زیادہ نہیں سوچا تھا، میرا پورا فوکس میرے کردار پر تھا۔

مزید پڑھیں: بلال عباس اور اُشنا شاہ کا منفرد ڈرامہ ‘بلا’

ڈان: نگار آپ کا پہلا کردار نہیں جسے اتنا پسند کیا گیا ہو، اس سے قبل بشر مومن، لشکارا اور الف اللہ انسان جیسے ڈرامے بھی ہیں جن میں آپ کو کام کو سراہا گیا تھا، اس کے باوجود آپ کو کسی ایوارڈ کے لیے نامزد نہیں کیا گیا، اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

اُشنا شاہ: مجھے نہیں لگتا کہ تجزیہ کاروں کو میرے بارے میں سوچنے میں وقت لگا، کیوں کہ جب میں نے بشر مومن میں کام کیا تھا تب مجھے بہترین نئے ٹیلنٹ کا ایوارڈ ملا تھا اور اس ہی طرح مجھے اپنے ڈرامے الف اللہ انسان کے لیے ہم ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

ڈان: بلا میں آپ نے نگار جیسا کردار ادا کرنے پر حامی کیوں دی؟

اُشنا شاہ: میں ہمیشہ سے خود کو چیلنج کرنا چاہتی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ ایک اداکارہ ہونے کی حیثیت سے میں ہر قسم کا کردار ادا کرسکوں۔

میری پوری ٹیم نے مجھ پر بھروسہ کیا کہ میں یہ کردار نبھاسکتی ہوں، میں کافی نروس تھی اس کردار کو ادا کرنے کے لیے۔

ڈان: نگار بننے کا سب سے مشکل حصہ کون سا تھا؟

اُشنا شاہ: میرے لیے یہ کافی مشکل تھا کیوں کہ ہم رمضان کے دوران اس ڈرامے کی شوٹنگ کررہے تھے، اس ہی دوران ڈینٹل سرجری ہوئی تھی اور روزہ رکھنے کی وجہ سے میں کام کے دوران دوا بھی نہیں کھا سکتی تھی‘۔

گھر سے دور، گرمی میں تکلیف کے ساتھ یہ کردار ادا کرنا مشکل تھا، لیکن میں نے اس تکلیف کی مدد سے اپنا کردار بھی بہتر کیا۔

ڈان: آپ نے اس کردار کی تیاری کیسے کی؟

اُشنا شاہ: میں ہمیشہ سے چاہتی تھی کہ جو بھی کردار میں ادا کروں وہ حقیقی نظر آئے، میں ہر سین نبھانے کے بعد پہلے سوچتی تھی کہ کیا میں یہ اس کو ایسے ادا کیا تھا کہ یہ حقیقی لگے، ورنہ میں مطمئن نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: محسن عباس کے بعد دیگر شخصیات بھی لکس ایوارڈ نامزدگیوں سے ناخوش

ڈان: لکس اسٹائل ایوارڈز کے حوالے سے اٹھے تنازع کے حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گی؟

اُشنا شاہ: میں ایوارڈز کے حوالے سے بہت زیادہ نہیں سوچتی، میری کچھ پرفارمنسز کو بےحد سراہا گیا، جبکہ کچھ کو وہ اہمیت نہیں ملی جو انہیں ملنی چاہیے تھی۔

میرے لیے کچھ اہم ہے تو وہ میرا کام ہے، جسے میں بہتر کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔

مجھے اس وقت بھی ایوارڈز ملے جب مجھے کوئی امید نہیں تھی، اس لیے میں صرف اپنے کام پر فوکس کرنا چاہتی ہوں۔

ڈان: آپ اپنے مستقبل کے پروجیکٹس کے حوالے سے کچھ بتائیں گی؟

اُشنا شاہ: میں کچھ متاثر کن پروجیکٹس پر کام کررہی ہوں، لیکن میں اس حوالے سے کچھ بتاؤں گی نہیں، میں اپنے مداحوں کو سرپرائز دینا چاہتی ہوں، بس اتنا کہہ سکتی ہوں کہ جو بھی ہوگا کافی انٹرٹینمنٹ سے بھرپور ہوگا۔