بلوچستان: سیلاب میں پھنسے ہندو زائرین کو باحفاظت نکال لیا گیا

15 اپريل 2019

ای میل

زائرین کا رشتہ داروں سے رابطہ منقطع ہونے پر مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز
زائرین کا رشتہ داروں سے رابطہ منقطع ہونے پر مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز

کوئٹہ: صوبہ بلوچستان کے ضلع بولان کے علاقے کچھی میں تیز بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب میں پھنسے تقریباً 150 ہندو زائرین کو پاک فوج اور فرنٹیئر کورپس کے اہلکاروں نے ریسکیو کرلیا۔

بلوچستان کے شہروں نصیرآباد اور جعفرآباد جبکہ سندھ کے شہر جیکب آباد سے تعلق رکھنے زائرین موسم بہار کا تہوار بیساکھی میلے کا جشن منانے اونٹوں پر کچھی کے راستے پر رواں دواں تھے کہ تیز بارش ہوگئی۔

جس کے بعد سیلاب کی صورتحال کے باعث وہ مزید آگے نہیں بڑھ سکے اور انہیں قریبی پہاڑوں میں پناہ اختیار کرنا پڑی۔

مزید پڑھیں: جنوبی وزیرستان: سیلاب میں گاڑی بہنے سے 2 بچوں سمیت 8 جاں بحق

بعد ازاں متاثڑین کے رشتے داروں کا ان سے رابطہ نہ ہونے پر انہیں ان کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ہوا، جس پر رشتے داروں نے فوری طور پر مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے پاک فوج اور ایف سی سے رابطہ کیا۔

قبل ازیں بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ سرچ اور ریسکیو آپریشن کے لیے صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹرز کا استعمال کریں۔

جس پر فوج اور ایف سی کی ریسکیو ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ موجودہ مقام پر پہنچیں، خواتین اور بچوں سمیت تمام افراد کو نکال لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا، بلوچستان میں بارشیں، سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 12 ہوگئی

صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے ہوئے متاثرہ افراد کو خوراک، پانی اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا، جس کے بعد انہیں ضلع بولان کے علاقے شوران میں منتقل کردیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر میر سلطان بگٹی کا کہنا تھا کہ ’ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوج اور ایف سی کی مدد سے تمام زائرین کو باحفاظت نکال لیا گیا اور انہیں قریبی علاقوں میں منتقل کردیا گیا‘۔


یہ خبر 15 اپریل 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی