ڈیم فنڈ کے 10کروڑ روپے کہاں گئے؟ پیپلز پارٹی کا وزیراعظم سے استفسار

اپ ڈیٹ 15 اپريل 2019

ای میل

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وفاقی حکومت بلاول بھٹو زرداری کی عوامی مہم کے خائف ہے — اسکرین شاٹ
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وفاقی حکومت بلاول بھٹو زرداری کی عوامی مہم کے خائف ہے — اسکرین شاٹ

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے ڈیم فنڈ کے لیے جمع ہونے والی رقم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیم فنڈ میں ہیر پھیر ہو رہی ہے تو اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔

کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ڈیم فنڈ کے حوالے سے وفاقی وزیر پانی نے تحفظات کا اظہار کیا اور عوام کو کہا کہ وہ نقد کی جگہ چیک کی صورت میں رقم جمع کرائیں۔

مزید پڑھیں: 'غیر منصفانہ تنقید کو خاموشی پر ترجیح دیتا ہوں'

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر برائے پانی فیصل واڈا نے نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے عوام ڈیم فنڈ میں نقد رقم نہیں بلکہ بذریعہ چیک رقم جمع کرائیں کیونکہ اس کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔

پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ یہ سوال کوئی اپوزیشن کا رکن نہیں بلکہ وفاقی وزیر برائے پانی اٹھا رہا ہے جس کے ماتحت یہ ڈیم کا معاملہ آتا ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ کیش نہ جمع کرائیں کیونکہ شاید پیسوں میں کچھ نہ کچھ ہیرا پھیری ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو پیسہ جمع ہو رہا ہے اور جو عطیات ڈیم فنڈ میں جمع ہو رہے ہیں، ان میں فرق ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ڈیم فنڈز کے لیے گورنر ہاؤس سندھ میں ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس کے اختتام پر عمران خان نیازی صاحب نے ٹوئٹر کے ذریعے قوم کو یہ نوید سنائی تھی کہ انہوں نے کچھ ہی لمحوں میں ڈیم فنڈ کے لیے 76 کروڑ روپے اکٹھا کیے ہیں اور اس تقریب کے میزبان نے بھی یہی اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ہفتے بعد گورنر صاحب سپریم کورٹ جاتے ہیں اور چیف جسٹس صاحب کو چیک دیتے ہیں تو وہ 76 کروڑ روپے کا نہیں بلکہ تقریباً 67 کروڑ روپے کا ہوتا ہے، میں یہ سوال پوچھنا چاہوں گا کہ وہ 10کروڑ روپے کہاں گئے؟

یہ بھی پڑھیں: ڈیم فنڈ کی مہم میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، چیف جسٹس

انہوں نے کہا کہ یہ بات میں اپنی تحقیق کی بنیاد پر نہیں بلکہ وزیر اعظم کی کہی بات اور گورنر سندھ کی جانب سے چیف جسٹس کو دیے گئے چیک کی بنیاد پر کرنے پر مجبور ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں سوال پوچھنے پر اس لیے بھی مجبور ہوں کہ ایک وفاقی وزیر یہ بات کہہ رہا ہے اور تحریک انصاف کا ایک بانی رکن اکبر ایس بابر متعدد مرتبہ ان شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور وہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ بھی جاتے ہیں لیکن آج بھی پاکستانی قوم سوالات کا جواب سننے کی منتظر ہے کہ یہ پیسے کس طریقے خرچ ہوں گئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 6 جولائی کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کے لیے فنڈ قائم کیا تھا اور بعد میں وزیر اعظم عمران خان بھی اس مہم کا حصہ بن گئے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے 18ستمبر کو ٹوئٹ میں ڈیم فنڈ کی مد میں 76 کروڑ روپے جمع ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن 13 نومبر کو شائع خبر کے مطابق گورنر سندھ عمران اسماعیل کی جانب سے اس وقت کے چیف جسٹس کو پیش کیے گئے چیک کی رقم 671 ملین روپے تھی۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میری اس بات کو الزام نہیں سمجھیں بلکہ یہ پیسہ قوم کی امانت ہے اور آپ بار بار کہتے ہیں خان صاحب نے کبھی امانت میں خیانت نہیں کی تو خدارا اس سوال کا جواب دے دیں تو زیادہ بہتر ہو گا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم

انہوں نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ اگر سابق چیف جسٹس کی جانب سے شروع کیے گئے اس نیک مقصد کی چندہ مہم میں کوئی ہیر پھیر ہو رہی ہے تو اس کی تحقیقات کرائی جائیں۔

مرتضٰی وہاب نے کہا کہ بلاول کی جانب سے اپنی عوامی مہم اور ٹرین مارچ کا آغاز شروع کیے جانتے سے وفاقی حکومت خائف نظر آتی ہے اور اس نے دوبارہ الزامات کی سیاست کا آغاز کردیا ہے تاکہ دباؤ ڈالا جا سکے۔

مشیر اطلاعات نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی اور اس کی حکومت کے خلاف نئی مہم شروع کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مہم 18ویں ترمیم کے خلاف ہے، وزیر اعظم نے خود 18ویں ترمیم کے خلاف بات کی اور اب اپنے اتحادیوں سے بھی یہی بات کرانی شروع کردی ہے۔

اس موقع پر انہوں نے ایم کیو ایم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب رضا ربانی اس ترمیم پر کام کر رہے تھے تو ایم کیو ایم بہت متحرک طریقے سے اس پر کام کر رہی تھی لیکن اب وہ یوٹرن لے کر کہہ رہے ہیں 18ویں آئینی ترمیم غلط اور دھوکا تھی۔