کراچی: 50 افراد کے قتل کے الزام میں پولیس اہلکار سمیت 6 مبینہ دہشت گرد گرفتار

اپ ڈیٹ 15 اپريل 2019

ای میل

سی ٹی ڈی سول لائنز نے بزنس ریکارڈر روڈ پر کارروائی کرکے 6 افراد کو گرفتار کیا — فائل فوٹو/اے ایف پی
سی ٹی ڈی سول لائنز نے بزنس ریکارڈر روڈ پر کارروائی کرکے 6 افراد کو گرفتار کیا — فائل فوٹو/اے ایف پی

پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک پولیس اہلکار سمیت فرقہ وارانہ کارروائیوں میں ملوث کالعدم تنظیم کے 6 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) عبداللہ شیخ کے مطابق ملزمان 2003 سے 2019 کے درمیان کراچی میں فرقہ واریت کی بنیادوں پر 50 افراد کے قتل میں ملوث رہے ہیں۔

سینیئر پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزمان نے بیرون ملک تربیت حاصل کی تھی اور انہیں ایک نیٹ ورک کے ذریعے فنڈ بھی دیا جارہا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی میں مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ، 2محافظ جاں بحق

اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ایک مدت کے بعد کراچی میں فرقہ واریت ایک بار پھر پروان چڑھنے لگی تھی تو پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا اور ٹارگٹ کلرز کے ایک پرانے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سی ٹی ڈی سول لائنز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے بزنس ریکارڈر روڈ میں چھاپہ مارا اور 6 مبینہ ملزمان کو گرفتار کیا جن میں سے چند کے نام انتہائی مطلوب افراد کی فہرست اور ریڈ بک میں شامل تھے‘۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ ‘گرفتار کیے گئے تمام ملزمان کا تعلق کالعدم سپاہ محمد سے ہے‘۔

گرفتار افراد کی شناخت سید محتاب حسین عرف مچھڑ، محمد حیدر عرف چھوٹا، آصف رضا عرف خالد، کامران عرف پٹھان، گل اکبر عرف عبداللہ اور پولیس کانسٹیبل سید حیدر عباس رضوی عرف پولیس والا کے نام سے ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ ٹارگٹ کلرز کو ماہانہ 40 ہزار روپے وظیفہ اور کارروائی کرنے پر اور ریکی کرنے کے لیے 20 ہزار روپے ماہانہ دیے جاتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دو مبینہ ملزمان محمد حیدر اور مہتاب کالعدم تنظیم کی سربراہی کر رہے تھے جنہیں بیرون ملک سے امداد دی جاتی تھی‘۔

ڈی آئی جی نے انکشاف کیا کہ ’سی ٹی ڈی افسر راجہ عمر خطاب کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم نے دہشت گردوں اور ان کی فنڈنگ کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا، ملزمان 31 مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں جن میں 50 افراد ہلاک ہوئے‘۔

یہ بھی پڑھیں: اعظم طارق قتل کیس میں نامزد ملزم سبطین کاظمی بری

ملزمان مولانا اورنگزیب فاروقی پر ہونے والے حملے میں 4 پولیس اہلکاروں اور 2 محافظوں کے قتل، ایڈووکیٹ مولانا احمد بخش اور ان کے محافظ کے قتل، ڈاکٹروں کے قتل، شاہ فیصل کالونی میں ایک شخص اور اس کے بھتیجے کے دوہرے قتل، مبینہ ٹاؤن میں کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے 3 رضاکاروں کے قتل، دارالعلوم کورنگی میں ایک دودھ کی دکان پر 3 بھائیوں کا قتل، کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے 2 رضاکاروں کا ناگن چورنگی پر قتل اور یوسف پلازہ پر ایک دکاندار کے قتل میں ملوث تھے۔

گرفتار ملزمان سے تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم قائم کردی گئی ہے۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے گرفتار ملزمان سے 3 کلاشنکوف، 2 نائم ایم ایم پستول، ایک 30 بور پستول، ایک گاڑی، اور بڑی تعداد میں گولیاں بر آمد کرلیں۔

مفتی تقی عثمانی کیس

گزشتہ ماہ معروف مذہبی اسکالر مفتی تقی عثمانی پر ہونے والے حملے، جس میں پولیس گارڈ سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے، کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ ’اس کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور میڈیا کو جلد اس کے حوالے سے بھی آگاہ کیا جائے گا‘۔