5 ارب ڈالر کے جرمانے سے بچنے کے لیے چینی منصوبہ بحال کیا، مہاتیر محمد

16 اپريل 2019

ای میل

ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد پریس کانفرنس کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی
ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد پریس کانفرنس کر رہے ہیں — فوٹو: اے پی

ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے متنازع اسکیم پر معاہدہ ہونے کے بعد کہا ہے کہ چینی ریلوے کی بحالی نہ کی جاتی تو 5 ارب ڈالر کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ملیشیا اور چین گزشتہ دور حکومت کے منصوبے کو ان کے اقتدار کھونے کے بعد دوبارہ بحال کرتے ہوئے اسے 30 فیصد کم لاگت میں آگے بڑھانے پر رضامندی کا اظہار کیا تھا۔

یہ بیجنگ کی جانب سے سرمایہ کاری کیے گئے انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں سے ایک ہے جسے حکومت کے بدلنے کے بعد روکا گیا تھا کیونکہ نئے حکمراں قومی قرضے کو کم کرنا کرپشن کے ذریعے کیے گئے معاہدے کو روکنا چاہتے تھے۔

ملیشیا اور چین نے اس منصوبے کا دوبارہ آغاز 10.7 ارب ڈالر کی کم لاگت میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے ملیشیا کے سابق حکمراں نجیب رزاق کے قریبی اتحادی بیجنگ سے ملیشیا کے تعلقات میں بہتری ہوگی۔

شمالی ملیشیا کے مشرقی ساحلی پٹی پر 640 کلومیٹر طویل ریل لنک تھائی لینڈ سرحد کے قریب واقع ہے اور اسے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انفراسٹرکچر کے منصوبے کا اہم منصوبہ بھی جانا جاتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تفصیلات بتاتے ہوئے ملیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس دوبارہ مذاکرات کرنے یا منصوبہ معطل کرنے کی وجہ سے 5.3 ارب ڈالر ادا کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی صورتحال میں ہم نے مذاکرات کا راستہ اپنایا اور معاہدے کو برابری کی بنیاد پر کیا تاکہ ملیشیا کی عوام کو ترجیح دی جاسکے‘۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اسکیم میں شامل چینی کمیونکیشن کنسٹرکشن کمپنی ملیشیا کے ادارے کے ساتھ مل کر کام کرے گی جس سے ملیشیا پر بوجھ کم ہوگا۔

خیال رہے کہ 93 سالہ مہاتیر محمد گزشتہ سال مئی کے مہینے میں دوبارہ اقتدار میں آئے تھے۔

سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو متعدد مقدمات کا سامنا ہے جن میں ریاستی فنڈ کو لوٹنے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔