سعودی عرب میں مشرق وسطیٰ کا پر تعیش ترین سینما

ای میل

ولید بن طلال نے سینما کا افتتاح کیا—فوٹو: ٹوئٹر
ولید بن طلال نے سینما کا افتتاح کیا—فوٹو: ٹوئٹر

سعودی عرب میں جہاں گزشتہ سال 35 برس بعد فلموں کی نمائش کی اجازت دی گئی تھی، وہیں ملک کے مختلف شہروں میں سینما گھر بھی کھولے گئے تھے۔

سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت آنے والے چند سال میں 100 سے زائد سینما گھر کھولے جانے ہیں اور اس منصوبے پر عمل درآمد کے تحت تیزی سے منصوبے جاری ہیں۔

تاہم اب سعودی عرب میں نہ صرف ملک کا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کا پرتعیش ترین سینما گھر عام عوام کے لیے کھول دیا گیا۔

خدیجیہ ٹی وی کے مطابق مشرق وسطیٰ کے پرتعیش ترین سینما گھر کو دارالحکومت ریاض کے کنگڈم ٹاور میں کھولا گیا۔

سینما گھر کا افتتاح عرب پتی شہزادے ولید بن طلال نے کیا۔

ولید بن طلال نے سینما گھر کے افتتاح کے بعد ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان کی تعریف بھی کی اور کہا ان کی وژن کے مطابق سعودی عرب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں 35 برس بعد پہلے سینما گھر کا افتتاح

ولید بن طلال نے کھولے گئے نئے سینما کو سعودی شہریوں کی تفریح کے لیے اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے لوگوں کی طرز زندگی میں بہتری آئے گی۔

ریاض میں کھولے گئے اس سینما گھر میں 8 اسکریننز نصب کی گئی ہیں جب کہ سینما میں پرتعیش فوڈ کورٹ بھی موجود ہے۔

سینما میں بچوں کے لیے خصوصی ہال کا قیام بھی کیا گیا ہے جب کہ ہالز میں جدید طرز کے صوفے رکھے گئے ہیں جو بستر میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں مزید سینما کھل گئے

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے اس پر تعیش سینما کے ہالز کے اندر لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء بھی فراہم کی جائیں گی۔

35 برس بعد پہلا سینما بھی سب سے پہلے ریاض میں کھولا گیا تھا—فائل فوٹو: العربیہ
35 برس بعد پہلا سینما بھی سب سے پہلے ریاض میں کھولا گیا تھا—فائل فوٹو: العربیہ

ہالز میں رکھی گئی سیٹس اور صوفوں پر ویٹر کو بلانے کے لیے بٹن بھی نصب کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں 35 برس بعد 19 اپریل 2018 کو پہلے سینما گھر کا افتتاح کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کے دوسرے بڑے شہر میں بھی سینما کھل گئے

پہلے سینما کھولے جانے کے محض 12 دن کے وقفے کے بعد سعودی عرب کا دوسرا سینما بھی دارالحکومت ریاض میں شہر کے مصروف اور کاروباری علاقے میں کھولا گیا تھا۔

اس کے بعد سعودی عرب کے دیگر شہروں میں بھی سینما کھولے جانے کا سلسلہ جاری رہا اور رواں برس جنوری میں جدہ میں بھی سینما کھولے گئے تھے۔

سعودی عرب میں سینما گھروں سے پابندی 2017 میں ختم کی گئی تھی اور سینما کا پہلا لائسنس امریکی کمپنی اے ایم سی انٹرٹینمنٹ کو دیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں 1980کے بعد مذہبی حلقوں کی جانب سے سینما گھروں کو بے حیائی کے فروغ اور معاشرے کے لیے نامناسب قرار دیے جانے کے بعد ان پر پابندی عائد کی گی تھی۔

پرتعیش سینما کا کچھ عملہ خواتین پر مبنی ہے—اسکرین شاٹ/ الخدیجیہ ٹی وی
پرتعیش سینما کا کچھ عملہ خواتین پر مبنی ہے—اسکرین شاٹ/ الخدیجیہ ٹی وی