فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر پی ٹی آئی کی نئی نظرِ ثانی درخواست

اپ ڈیٹ 16 اپريل 2019

ای میل

درخواست گزار کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے میں خامیاں ہیں اور انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی
درخواست گزار کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے میں خامیاں ہیں اور انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے — فائل فوٹو/اے ایف پی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سپریم کورٹ میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے نومبر 2017 میں راولپنڈی کے علاقے فیض آباد میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے دھرنے کے کیس کے 6 فروری کو سنائے گئے فیصلے پر دوبارہ نظر ثانی درخواست دائر کردی۔

درخواست کے مطابق 'سپریم کورٹ کے فیصلے میں خامیاں ہیں اور انصاف کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے'۔

تحریک انصاف نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ 6 فروری کے فیصلے میں سے 2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کے حوالے سے دیے گئے چند ریمارکس حذف کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس 2017 میں ہونے والے تحریک لبیک کے دھرنے کے حوالے سے تھا نہ کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے کے حوالے سے۔

مزید پڑھیں: فیض آباد دھرنا کیس: فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست پر پی ٹی آئی کی وضاحت

درخواست میں کہا گیا کہ 'پی ٹی آئی، پی اے ٹی کے دھرنے کا حوالہ پیراگراف 17 ،22 ،23 ،24 اور 52 میں دیا گیا جس سے یہ تاثر گیا کہ درخواست گزار نے اپنی تشہیر کے لیے غیر قانونی دھرنا اور جھوٹے الزامات لگائے'۔

تحریک انصاف کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن کو جن بنیادوں پر دائر کیا گیا وہ مندرجہ ذیل ہیں:

الف: فیض آباد دھرنا کے ختم ہونے کے بعد دیے ریمارکس غیر ضروری اور حذف کے قابل ہیں۔

ب: درخواست گزار نے دھرنا حقیقی وجوہات پر پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق کے مطابق دیا تھا، دھرنا نہ ہی تشہیر کے لیے تھا اور نہ ہی اس کے کوئی دیگر مقاصد تھے، درخواست گزار پاکستان کی عوام کے حقوق کے سیاسی مطالبے کے ساتھ کھڑا ہوا تھا، درخواست گزار کا فیض آباد دھرنے سے کوئی تعلق نہیں جس کی وجہ سے نظر ثانی کے لیے دیے گئے ریمارکس کو حذف کیا جانا چاہیے۔

ج: عدالت کی جانب سے دیے گئے ریمارکس درخواست گزار کا موقف سنے اور وضاحت کا موقع دیے بغیر دیے گئے جس کی وجہ سے ایسے ریمارکس کو حذف کیا جانا چاہیے۔

یہ پہلی نظر ثانی درخواست نہیں تھی

تحریک انصاف کی جانب سے فیض آباد دھرنے کے فیصلے کے خلاف آج جمع کرائی گئی درخواست پہلی درخواست نہیں تھی، اس سے قبل 12 اپریل کو بھی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ سے 6 فروری کے فیصلے کو معطل کرنے کی درخواست دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر 'جانب دار' ہونے کا الزام لگایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فیض آباد دھرنا کیس: ’جج جانبدار تھے، فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے‘

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل ارشد داد کی جانب سے ان کے وکیل بیرسٹر ظفر علی سید کے توسط سے جمع کروائی گئی درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس مقدمے کا فیصلہ لکھنے والے جج 2014 میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے اسلام آباد میں دیے گئے دھرنے، درخواست گزار اور اس کے اراکین کے کردار کے حوالے سے اس حد تک تعصب رکھتے ہیں کہ وہ معاملے میں 2014 کے دھرنے کا حوالہ لے آئے، لہٰذا درخواست گزار کہ یہ تحفظات بالکل جائز ہیں کہ یہ فیصلہ لکھنے والے جج مبینہ طور پر جانبدار تھے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ اس فیصلے میں 2014 میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دیے گئے دھرنے کا حوالہ دیا گیا تھا کہ جو اس کے ذمے دار تھے انہیں صاف بچ کر نکلنے دیا گیا اور ریکارڈ پر موجود مواد اور حقائق کی جانچ کے بغیر وہ افراد اہم سرکاری عہدوں پر موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں 2014 میں پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دیے گئے دھرنے کا حوالہ دیا گیا تھا کہ جو اس کے ذمے دار تھے انہیں صاف بچ کر نکلنے دیا گیا اور ریکارڈ پر موجود مواد اور حقائق کی جانچ کے بغیر وہ افراد اہم سرکاری عہدوں پر موجود ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ کیونکہ اس مبینہ جانبدارانہ رویے سے پورا فیصلہ داغدار ہو گیا تو اس کے کسی بھی حصے کو حذف کیا جانا ناممکن ہے لہٰذا یہ فیصلہ دوبارہ دیکھ کر اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید پڑھیں: فیض آباد دھرنا کیس: حکومت، سیکیورٹی ادارے اپنے دائرہ کار میں کام کریں، سپریم کورٹ

درخواست میں عدالتی قواعد و ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست گزار نے کہا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ لکھنے والے جج سپریم کورٹ کے جج کے طور پر برقرار رہنے کے لیے نااہل ہو گئے ہیں کیونکہ انہوں نے مبینہ طور پر اس ضابطے کے آرٹیکل3 کی خلاف ورزی کی جو یہ کہتا ہے کہ ججز کو ناراضی کے اظہار سے بلند تر ہونا چاہیے اور معاملات چاہے ذاتی ہوں یا سرکاری، ججز کو اپنا رویہ ہر صورت میں کسی بھی معاملے میں نامناسب نہیں رکھنا چاہیے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ جس فیصلے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہ نامکمل معلومات پر مبنی رائے، اندازوں اور مفروضوں کے دائرے کار میں آتا ہے کیونکہ کسی بھی قسم کے حقائق پیش نہیں کیے گئے اور یہ بات ایک راز ہے کہ کس بنیاد پر اس طرح کا فیصلہ دیا گیا، فیصلے میں مذہب، سیاست اور اخلاقی اصولوں پر سخت ریمارکس دینے کے باوجود یہ کہا گیا ہے کہ عدالتی اختیارات آئین کے آرٹیکل 183(3) کے ضمرے میں آتے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ 6فروری کے فیصلے سے ان کا نام نکالا جائے۔

ایڈووکیٹ امان اللہ کنرانی کے ذریعے جمع کروائی گئی ان کی نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا تھا کہ یہ استدعا کی جاتی ہے 6 فروری 2019 کے مشکوک حکم کے خلاف سول ریویو پٹیشن کو یہ اجازت دی جائے کہ انصاف کے مفاد میں تحریک لبیک پاکستان کے دھرنے کے فیصلے کے پیرا 4 میں موجود درخواست گزار کا نام نکالا جائے۔

اس فیصلے میں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد، پاکستان مسلم لیگ ضیا کے اعجاز الحق، پی ٹی آئی علما ونگ اسلام آباد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شیخ حمید شیخ کے نام شامل تھے۔

درخواست میں شیخ رشید احمد نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگر اس فیصلے کے پیرا 4 سے ان کا نام نہ نکالا گیا تو اس سے ان کی زندگی اور ساکھ پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوں گے۔