جعلی اکاؤنٹس کیس، 2 خواتین کے بیرون ملک سفر پر عائد پابندی ختم

18 اپريل 2019

ای میل

نور نمر مجید اور سارہ ترین مجید پرکوئی پابندی عائد نہیں، ایف آئی اے — فوٹو: اے ایف پی /فائل
نور نمر مجید اور سارہ ترین مجید پرکوئی پابندی عائد نہیں، ایف آئی اے — فوٹو: اے ایف پی /فائل

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر جعلی بینک اکاؤنٹس میں گرفتار اومنی گروپ کے مالک انور مجید کے خاندان کی 2 خواتین کے بیرون ملک سفر پر عائد کی گئی پابندی ختم کردی گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز نور نمر مجید اور سارہ ترین مجید کی جانب سے عدالتی حکم کے خلاف ان کے بیرون ملک سفر پر عائد کی گئی پابندی کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے وزارت داخلہ کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کے مشتبہ ملزم انور مجید کے خاندان سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے بیرون ملک سفر عائد کی گئی پابندیاں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: نیب کی آصف زرداری کی ضمانت مسترد کرنے کی درخواست

گزشتہ ہفتے کی گئی سماعت میں جسٹس عامر فاروق نے عدالتی حکم کی تعمیل نہ ہونے پر وزارت داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے ) کے حکام کو طلب کیا تھا۔

گزشتہ روز ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ دونوں درخواست گزاران کے نام عبوری قومی شناختی فہرست میں درج تھے لیکن اب عدالتی حکم کی روشنی میں ان کے نام فہرست سے ہٹادیے گئے ہیں۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس وقت درخواست گزاران پر کوئی پابندی عائد نہیں اور وہ بیرون ملک سفر کرسکتی ہیں۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست نمٹادی۔

درخواست گزاران نے ایف آئی اے کی جانب سے نور نمر مجید کو کراچی ایئرپورٹ پر بیرون ملک جانے سے روکنے کے بعد پابندی ہٹانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اومنی گروپ کے ڈائریکٹر نمر مجید رہا

درخواست گزاران کے وکیل راجا رضوان عباس نے کہا کہ ایف آئی اے حکام نے نور نمر مجید کو جناح انٹرنیشنل پر فلائٹ بورڈنگ سے روک دیا گیا تھا اور بتایا تھا کہ اہلخانہ کے منی لانڈرنگ کیس میں ملوث ہونے کی وجہ سے انہیں بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل کی گئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کے بعد ایف آئی اے نے انور مجید کے خاندان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی تھی۔