بالاکوٹ کارروائی میں کوئی پاکستانی فوجی یا شہری جاں بحق نہیں ہوا، سشما سوراج

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فضائی کارروائی ’اپنے دفاع‘ میں کی گئی—تصویر:رائٹرز/فائل
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فضائی کارروائی ’اپنے دفاع‘ میں کی گئی—تصویر:رائٹرز/فائل

اسلام آباد: بھارتی حکومت نے کئی دنوں تک اپنے عوام سے جھوٹ بولنے کے بعد بالآخر تسلیم کر ہی لیا کہ 26 فروری کو بالاکوٹ میں بھارتی ایئر فورس کی فضائی کارروائی میں کسی پاکستانی شہری یا فوجی کی جان کو نقصان نہیں پہنچا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس بات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ آخر کار سچ سامنے آ ہی گیا۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’زمینی حقائق کی مجبوریوں کے تحت بالآخر سچ سامنے آگیا‘۔

اس کے ساتھ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ فضائی جھڑپ میں کامیابی کے جھوٹے دعوے کی سچائی بھی جلد سامنے آجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا بالاکوٹ حملے کے شواہد پیش کرنے سے انکار

اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ’امید ہے کہ، بھارت کے دیگر جھوٹے دعوے کے حوالے سے بھی ایسا ہوگا، جیسا کہ 2016 کا سرجیکل اسٹرائیک، پاک فضائیہ کا 2 بھارتی طیارے مار گرانے کی تردید اور ایف 16 کے حوالے سے ان کا دعویٰ‘۔

خیال رہے کہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں خواتین کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی رہنما سشما سوراج نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بالاکوٹ فضائی حملے میں کسی پاکستانی فوجی یا شہری کی جان نہیں گئی۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فضائی کارروائی ’اپنے دفاع‘ میں کی گئی۔

اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ ’جب ہم نے پلوامہ حملے کے بعد سرحد کے اس پار کارروائی کی تو بین الاقوامی برادری کو بتا دیا تھا کہ ہم نے یہ قدم صرف اپنے دفاع میں اٹھایا‘۔

مزید پڑھیں: ایف 16 طیارہ گرانے کا بھارتی جھوٹ بےنقاب: پاک فوج ثبوت سامنے لے آئی

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے بین الاقوامی برادری کو بتایا تھا کہ مسلح افواج کو ہدایت کی گئی تھی کہ کارروائی کے دوران کسی پاکستانی شہری یا فوجی کو نقصان نہیں پہنچایا جائے‘۔

بھارتی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’فوج کو صرف جیشِ محمد کے دہشت گرد کیمپ کو نشانہ بنانے کا کہا گیا تھا جنہوں نے پلوامہ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اور ہماری فوج نے کسی پاکستانی شہری یا فوجی کو نقصان پہنچائے بغیر ایسا ہی کیا‘۔

بھارتی وزیر خارجہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بین الاقوامی برادری نے فضائی کارروائی پر بھارت کی حمایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا کوئی ایف-16 طیارہ تباہ نہیں ہوا، امریکی حکام

خیال رہے کہ 26 فروری کو بھارت نے پاکستان میں فضائی کارروائی کر کے جیش محمد کے سب سے بڑے تربیتی مرکز پر حملہ اور متعدد مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا مضحکہ خیز دعویٰ کیا تھا۔

مذکورہ واقعے کے بعد صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ جب پاکستانی ریڈار پر یہ سامنے آیا کہ بھارتی طیارے پاکستان میں دخل اندازی کی کوشش کررہے تھے تو پاک فضائیہ نے انہیں چیلنج کیا اور وہ جابہ کے مقام پر پے لوڈ گراتے ہوئے واپس چلے گئے۔

اس وقت بھی بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور عالمی اداروں نے بھی بھارتی دعووں کا جائزہ لے کر اس پر سوالات اٹھادیے تھے۔

جس کے بعد امریکا کے سب سے معتبر دفاعی میڈیا ادارے جینز انفارمیشن گروپ نے کہا تھا کہ یہ کسی بھی چیز سے زیادہ ایک سیاسی حربہ لگتا ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو انتخابات سے قبل بھارت کی جانب سے کچھ قابل ذکر کارروائیوں کا نمونہ دکھانا تھا۔

بعد ازاں 11 اپریل کو بین الاقوامی اداروں کے صحافیوں اور غیر ملکی سفیروں کے گروپ کو اس جگہ کا معائنہ بھی کرایا گیا جہاں بھارت نے جھوٹے فضائی حملے کا دعویٰ کیا تھا اور جہاں جانی یا انفرااسٹرکچر کے نقصان کے کوئی آثار نہیں تھے۔

عالمی وفد نے قریب میں واقع اس مدرسے کا بھی دورہ کیا جہاں بھارت نے متعدد دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔