سپریم کورٹ کا اورنج لائن ٹرین منصوبہ 20مئی تک مکمل کرنے کا حکم

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2019

ای میل

سپریم کورٹ نے منصوبہ 20مئی تک مکمل کرنے کا حکم دے دیا— تصویر بشکریہ حکومت پاکستان
سپریم کورٹ نے منصوبہ 20مئی تک مکمل کرنے کا حکم دے دیا— تصویر بشکریہ حکومت پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اورنج لائن ٹرین منصوبہ 20 مئی تک مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے 3 تعمیراتی کمپنیوں سے ایک ایک کروڑ روپے کی گارنٹی مانگ لی اور کام مقرر کردہ وقت تک کام مکمل نہ ہونے کی صورت میں ضمانت ضبط کر لی جائے گی۔

جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اورنج لائن میٹرو منصوبے میں تاخیر سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

مزید پڑھیں: اورنج لائن ٹرین منصوبے کی تکمیل کا ٹائم فریم طلب

جسٹس گلزار نے اورنج ٹرین منصوبے کی رفتار پر پروجیکٹ ڈائریکٹر فضل حلیم پر اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کی وجہ سے کام تاخیر کا شکار ہوا ہے، کنٹریکٹر کام نہیں کرتے تو انہیں اٹھا کر پھینک دیں اور جیل میں ڈال دیں۔

انہوں نے پروجیکٹ ڈائریکٹر سے کہا کہ آپ کچھ کر نہیں رہے اور ڈیڈ لائن پر ڈیڈ لائن مانگے جا رہے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر تعمیراتی کمپنیوں سے بلیک میل ہورہے ہیں، تینوں تعمیراتی کمپنیاں ایک، ایک کروڑ کی گارنٹی دیں اور اگر کام مقررہ تاریخ تک مکمل نہ ہوا تو گارنٹی ضبط کر لی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کو اورنج لائن ٹرین منصوبے پر کام جاری رکھنے کی ہدایت

تعمیراتی کمپنی کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ ایک کروڑ روپے کی گارنٹی نہیں دے سکتے، آپ میرے موکل کو جیل بھیج دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 2 ارب کی گارنٹی پہلے ہی دے چکے ہیں اور ڈیڑھ ارب روپے کے واجبات باقی ہیں۔

جسٹس گلزار نے کہا کہ آپ نے پہلے بھی گارنٹی دی اور بیان حلفی بھی جو پورا نہیں ہوا، جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ اگر اب ڈیڈ لائن مکمل نہ ہوئی تو جیل بھیج دیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ میٹرو ٹرین قومی مفاد کا منصوبہ ہے اور اس پر خطیر رقم خرچ ہوئی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ منصوبے پر تعمیراتی کام کی معیار کی جانچ کا کوئی طریقہ کار ہے یا نہیں؟ ایسا نہ ہو کہ پروجیکٹ دھڑام سے نیچے آگرے۔

مزید پڑھیں: اورنج لائن منصوبہ 20 ارب روپے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار

پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ ہمارے کنسلٹنٹ تعمیراتی کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔

عدالت نے جسٹس ریٹائرڈ جمشید اور جسٹس عبد الستار اصغر میں سے کسی ایک کو ٹیکنیکل کمیٹی کا سربراہ بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ سربراہ جسٹس زاہد حسین کام جاری رکھنا چاہتے ہیں تو پنجاب حکومت اس پر بھی غور کرے۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ تین روز قبل 16 اپریل کو مقدمے کی سماعت پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے تھے کہ کام نہ ہونے سے منصوبے میں تاخیر ہورہی ہے، تعمیراتی کمپنیوں نے 15 اپریل تک کام مکمل کرنا تھا، تعمیراتی کمپنیوں نے اپنی یقین دہانی پوری نہیں کی۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ تعمیراتی کمپنیاں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گی تو وہ پھر کہیں اور جائیں گی، منصوبے پر کام نہیں ہوگا تو معاملہ نیب کو بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنڈز کی وجہ سے منصوبے پر کام نہیں رکنا چاہیے اور منصوبے کے راستے میں جو آئے اسے ٹریک کا حصہ بنا دیا جائے۔

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو تعمیراتی کمپنیوں کو بر وقت ادائیگیوں کی بھی ہدایت کی تھی۔

گزشتہ سال دسمبر میں سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل اور کمپنیوں کی ادائیگی سے متعلق کیس میں ایک عدالتی ثالث مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔